بین الاقوامیاہم خبریں

پریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ے ساتھ رکھے گئے دیگر تابوت کن افراد کے ہیں؟

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ جنازہ صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران کی سیاسی طاقت، اس کے اندرونی اتحاد اور خطے میں جاری کشیدگی کا ایک واضح اظہار بھی ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز،نیوز ڈیسک
تہران کی گرینڈ مصلیٰ امام بار گاہ میں خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ رکھے گئے دیگر چار تابوت بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تابوت تو چودہ ماہ کی ایک بچی کا بھی ہے۔
تہران کی گرینڈ مصلیٰ امام بارگاہ اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس کی وجہ وہاں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل جاری تقریب ہے۔ تاہم یہاں صرف ایک نہیں بلکہ پانچ تابوت رکھے گئے ہیں، جن میں اٹھائیس فروری کو ایک امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں مارے جانے والے خامنہ ای کے خاندان کے افراد کی میتیں رکھی گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور چودہ ماہ کی نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ اس موقع پر سائز میں سب سے چھوٹے تابوت کے سامنے زہرا محمدی کی ایک تصویر بھی رکھی گئی ہے۔
تہران کی مرکزی امام بارگاہ میں منعقدہ بڑے جنازے میں یہ تمام تابوت سرکاری اعزاز کے ساتھ رکھے گئے ہیں، جن کے گرد اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت موجود تھی۔ ان تابوتوں پر ایرانی پرچم اور مذہبی علامات نمایاں ہیں، جبکہ ہزاروں افراد نے اس موقع پر سوگ اور احتجاج دونوں کا اظہار کیا۔
یہاں موجود تابوتوں کی تعداد نے اس واقعے کی شدت کو نمایاں کیا، جہاں ایک ہی وقت میں ریاست کے سابق سربراہ اور ان کے قریبی خاندان کے افراد کو الوداع کہا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے اس موقع کو ”شہادت اور مزاحمت‘‘ کے طور پر پیش کیا جبکہ سرکاری میڈیا اسے قومی اتحاد کی علامت قرار دے رہا ہے۔
اس تقریب میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور دیگر اہم ملکی شخصیات کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سربراہان اور وفود کے نمائندے بھی شریک ہیں، جبکہ ہزاروں شہری تہران کی سڑکوں پر جمع رہے۔ بعض مقامات پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے، جس سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ جنازہ صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران کی سیاسی طاقت، اس کے اندرونی اتحاد اور خطے میں جاری کشیدگی کا ایک واضح اظہار بھی ہے۔ تابوتوں کی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ اس حملے کے اثرات صرف ایک رہنما تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے قریبی خاندانی دائرے تک پھیل گئے۔
یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کا ایک نیا موڑ سمجھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید سیاسی اور سفارتی ردعمل کو جنم دے سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button