
اے ایف پی کے ساتھ
گزشتہ برس تک ویتنام میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ارکان تک کو تیسرا بچہ پیدا کرنے پر تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا تاہم اب حکومت آبادی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے باعث اپنی پالیسی تبدیل کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اوسط عمر میں اضافے اور شرح پیدائش میں مسلسل کمی نے ویتنام کو دنیا کے تیزی سے عمر رسیدہ ہونے والے آبادی میں شامل کر دیا ہے۔
ترقی کی رفتار سست ہونے کا خدشہ
ویتنام میں 1988ء میں فی کنبہ دو بچوں کی سرکاری حد متعارف کرائی گئی تاہم اس پر عمل درآمد پڑوسی ملک چین کی طرح سخت نہیں تھا، جہاں ایک بچے کی پالیسی کے دوران جبری نس بندی اور جبری اسقاط حمل جیسے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت ویتنام میں شرح پیدائش اگرچہ آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار 2.1 بچے فی خاتون کی سطح سے کم ہو کر 1.93 رہ گئی ہے تاہم یہ اب بھی بیشتر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب اوسط عمر تقریباً 75 سال تک پہنچ چکی ہے جبکہ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق صدی کے وسط تک 60 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد آبادی کا تقریباً 25 فیصد ہو جائیں گے، جس کے بعد ملک کی مجموعی آبادی میں کمی کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
’کوئی دوسرا راستہ نہیں‘
ویتنام کی کمیونسٹ قیادت نے نئے قانون کو ملک کو درپیش آبادیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی ایک اہم حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد اقدام ہے۔
ویتنام میں اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی آبادی و ترقی کی سربراہ فام تھی لان نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ آبادیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مدد دے گا اور جوڑوں کو اپنی تولیدی زندگی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صرف ایک مرتبہ دی جانے والی مراعات، جیسے نقد بونس، والدین کو مزید بچوں کی جانب راغب کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔ فام تھی لان نے کہا کہ اگر زیادہ جامع اور طویل المدتی سہولتیں فراہم نہ کی گئیں تو رہائش اور بچوں کی نگہداشت کے بڑھتے ہوئے اخراجات لوگوں کو اپنی خواہش کے مطابق بچے پیدا کرنے سے روکتے رہیں گے۔
ہنوئی میں بطور کیشیئر کام کرنے والی 24 سالہ ٹران منہ آئن کی ماہانہ آمدنی تقریباً 380 امریکی ڈالر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ ایک اضافی انسانی زندگی کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا، ”میں تو کوئی بچہ ہی پیدا نہیں کرنا چاہتی۔مالی اور ذہنی دباؤ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ میں ایک اور فرد کی ذمہ داری کیسے اٹھا سکتی ہوں؟ ہرگز نہیں!‘‘



