مشرق وسطیٰاہم خبریں

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ، خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر، آبنائے ہرمز میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ ایرانی کارروائی کے جواب میں ایران کے اندر 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu NewsTeam

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی حملوں کے تبادلے نے خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی فضائی کارروائیوں، ایران کے جوابی میزائل حملوں، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات اور دونوں ممالک کے سخت بیانات نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے، جبکہ چند ہفتے قبل طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی اور سفارتی پیش رفت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے بحران کی ابتدا

امریکی فوج کے مطابق حالیہ بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بلااشتعال جارحیت تھے، جنہوں نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار روزانہ گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

امریکہ کی وسیع فوجی کارروائی

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ ایرانی کارروائی کے جواب میں ایران کے اندر 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام کے مطابق حملوں میں درج ذیل تنصیبات کو ہدف بنایا گیا:

  • فضائی دفاعی نظام
  • اینٹی شپ کروز میزائل لانچر
  • ڈرون لانچنگ سائٹس
  • کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز
  • فوجی مواصلاتی تنصیبات
  • اسلحہ گودام
  • میزائل معاون ڈھانچے
  • دیگر عسکری انفراسٹرکچر

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف کی جانے والی سب سے بڑی فوجی کارروائی تھی، جس کی شدت تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل ہونے والے امریکی حملوں سے چار سے پانچ گنا زیادہ تھی۔

واشنگٹن نے اس کے ساتھ ایران کی خام تیل کی برآمدات پر مزید اقتصادی پابندیوں کا بھی اعلان کیا، جن کا مقصد ایران کی مالی آمدنی محدود کرنا بتایا گیا ہے۔

ایران کا فوری جوابی حملہ

امریکی کارروائی کے چند گھنٹوں بعد ایران نے بھی بھرپور ردعمل دیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل حملے کیے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ:

  • بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
  • جنوبی ایران میں پرواز کرنے والا ایک امریکی ڈرون بھی مار گرایا گیا۔
  • امریکی حملوں کے جواب میں مزید کارروائی کا حق محفوظ رکھا گیا ہے۔

اگرچہ امریکی حکام نے ایرانی دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی، تاہم خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

جنوبی ایران میں متعدد دھماکے

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فضائی حملوں کے دوران جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں شامل ہیں:

  • بندر عباس
  • جزیرہ قشم
  • بندر سیریک
  • ساحلی فوجی تنصیبات
  • میزائل اور بحری دفاعی مراکز

بعض اطلاعات کے مطابق کئی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم ایرانی حکومت نے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

تہران کا سخت ردعمل

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا:

"امریکہ نے بار بار کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی۔”

ایرانی حکام نے امریکہ پر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

60 روزہ جنگ بندی خطرے میں

تازہ فوجی کارروائیوں نے چند ہفتے قبل طے پانے والے 60 روزہ جنگ بندی معاہدے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اگرچہ اب تک نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے مذاکرات ختم کرنے یا معاہدہ منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے، لیکن مبصرین کے مطابق موجودہ حملے اعتماد سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر رکھنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔

خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران حملے

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملک بھر سے لاکھوں افراد تعزیتی اجتماعات میں شریک ہیں، جبکہ تدفین کی تقریبات جمعرات کو مکمل ہونے کا امکان ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس حساس موقع پر ہونے والے امریکی حملوں نے ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے اور ممکن ہے کہ ایران مزید سخت مؤقف اختیار کرے۔

عالمی منڈیوں پر اثرات

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو:

  • خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • بین الاقوامی شپنگ متاثر ہو سکتی ہے۔
  • خلیجی ممالک کی برآمدات سست پڑ سکتی ہیں۔
  • عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

خطہ ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر

دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

اگرچہ دونوں ممالک نے تاحال مذاکرات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور آئندہ چند روز خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی تصادم نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن انتہائی نازک مرحلے پر کھڑا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، فوجی کارروائیوں کا تبادلہ، سخت سفارتی بیانات اور جنگ بندی معاہدے پر منڈلاتے خطرات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button