پاکستاناہم خبریںتازہ ترین

فتنہ الہندوستان کے جدید پروپیگنڈا نیٹ ورک کا انکشاف، افغان سرزمین سے مبینہ تربیت اور بیرونی معاونت پر سنگین سوالات

فتنہ الہندوستان سے منسوب ویڈیوز میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت، مبینہ کارروائیوں، ہتھیاروں اور مختلف مقامات کے مناظر کو جدید فلمی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

سینمیٹک ویڈیوز، ڈرون فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال؛ دہشت گرد تنظیم کے سوشل میڈیا بیانیے پر سکیورٹی ماہرین کی تشویش

کابل/اسلام آباد: بلوچستان میں سرگرم کالعدم دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جدید انداز میں تیار کی جانے والی پروپیگنڈا ویڈیوز نے ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کردیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو جدید ٹیکنالوجی، مہنگے آلات، مالی وسائل اور لاجسٹک معاونت کہاں سے حاصل ہورہی ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حلقوں کے مطابق تنظیم کی حالیہ ویڈیوز میں ڈرون زومز، مختلف زاویوں سے ریکارڈنگ، ہائی ڈیفینیشن کیمرہ ورک، جدید گرافکس اور سینمیٹک ایڈیٹنگ کا استعمال کیا گیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب اپنی مسلح کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایک منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا مہم بھی چلا رہے ہیں۔

پاکستانی حکام اور سکیورٹی ذرائع کا الزام ہے کہ اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا مقصد نوجوانوں کو گمراہ کرنا، دہشت گرد کارروائیوں کو ایک منظم ’مہم‘ کے طور پر پیش کرنا اور بلوچستان میں ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینا ہے۔

جدید سینمیٹک انداز میں دہشت گردی کی تشہیر

فتنہ الہندوستان سے منسوب ویڈیوز میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت، مبینہ کارروائیوں، ہتھیاروں اور مختلف مقامات کے مناظر کو جدید فلمی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ڈرون سے لیے گئے فضائی مناظر، کیمرے کے متعدد اینگلز اور ہائی ڈیفینیشن فوٹیج کے ذریعے تیار کردہ مواد بظاہر عام دہشت گرد پروپیگنڈا ویڈیوز سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی پروفیشنل ایڈیٹنگ کا مقصد ویڈیو کو زیادہ مؤثر، جذباتی اور نوجوانوں کے لیے پرکشش بنانا ہوسکتا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر اس کی رسائی زیادہ سے زیادہ ہو۔

نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ڈیجیٹل بیانیہ

دہشت گرد تنظیموں کے لیے سوشل میڈیا اب صرف معلومات پھیلانے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ بھرتی، ذہنی اثراندازی اور پروپیگنڈے کا اہم ہتھیار بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلح افراد کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ دکھانا، کارروائیوں کو فلمی انداز میں پیش کرنا اور جذباتی پیغامات شامل کرنا نوجوانوں کے ایک مخصوص طبقے کو متاثر کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

اس طرح کے مواد میں دہشت گردی کے حقیقی نتائج، شہریوں کی ہلاکتوں اور تباہی کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلح عناصر کو ایک خاص بیانیے کے تحت پیش کیا جاتا ہے۔

بھارتی معاونت کے الزامات

پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ فتنہ الہندوستان کو بیرونی سطح پر مالی، تکنیکی اور لاجسٹک معاونت حاصل ہے، جبکہ اس معاونت میں بھارتی عناصر کے ملوث ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق تنظیم کے پروپیگنڈا مواد کی تیاری اور اسے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلانے کے لیے ایک منظم بیانیہ سازی کا نیٹ ورک سرگرم ہوسکتا ہے۔

سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی دہشت گرد تنظیم کے پاس مہنگے کیمرے، ڈرونز، جدید مواصلاتی آلات، گاڑیاں اور دیگر وسائل مسلسل دستیاب ہوں تو ان وسائل کے مالی ذرائع کا سراغ لگانا انسدادِ دہشت گردی تحقیقات کا اہم حصہ بن جاتا ہے۔

تاہم بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی براہِ راست فنڈنگ یا مخصوص ویڈیو کے پیچھے اس کے کردار کے دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور اسے حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوں گے۔

افغان سرزمین پر مبینہ تربیتی مراکز کا معاملہ

پاکستانی مؤقف کے مطابق فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر کو افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے بھی روابط اور تربیتی سہولیات حاصل رہی ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض دہشت گرد عناصر نے فتنہ الہندوستان کے جنگجوؤں کو فتنہ الخوارج یعنی ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ تربیت فراہم کی۔

اس حوالے سے افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے باہمی روابط کا معاملہ پہلے ہی علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز ہے۔

مقامی زبان میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا دعویٰ

پروپیگنڈا ویڈیوز میں بعض ایسے مناظر بھی دکھائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن میں دہشت گرد عناصر مبینہ طور پر مقامی زبان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور باہمی رابطہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر یہ مناظر مستند ثابت ہوتے ہیں تو یہ اس امر کی نشاندہی کرسکتے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورک مقامی جغرافیے، زبان اور سماجی ماحول سے واقف افراد کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کررہا ہے۔

یہ پہلو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ مقامی سہولت کاری دہشت گرد گروہوں کو نقل و حرکت، رہائش، معلومات اور رسد کے حصول میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

مہنگے جنگی سازوسامان نے نئے سوالات اٹھا دیے

فتنہ الہندوستان سے منسوب ویڈیوز میں جدید اسلحہ اور دیگر جنگی سازوسامان کی نمائش نے بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں چھپے دہشت گرد عناصر کے پاس جدید کیمرہ سسٹم، ڈرونز، مواصلاتی آلات، ہتھیار اور دیگر مہنگا سامان موجود ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ ان وسائل کے ذرائع کا سراغ لگایا جائے۔

تفتیش کاروں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ سامان کس ذریعے سے حاصل کیا گیا، اس کی خریداری کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئے اور اسے افغانستان یا دیگر علاقوں سے بلوچستان تک کس نیٹ ورک کے ذریعے پہنچایا گیا۔

شہناز سے منسوب پروپیگنڈا فلم کا حوالہ

اس سے قبل خودکش حملہ آور شہناز سے منسوب ایک پروپیگنڈا فلم بھی سامنے آنے کا حوالہ دیا جارہا ہے، جس میں مبینہ طور پر حملہ آور کے مہنگے سازوسامان اور جدید ہتھیاروں کو نمایاں کیا گیا تھا۔

پاکستانی سکیورٹی حلقوں کے مطابق ایسے مواد کی تیاری محض تشہیر نہیں بلکہ دہشت گرد گروہ کی مالی اور تکنیکی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

اگر کسی تنظیم کے جنگجو مسلسل جدید آلات استعمال کرتے نظر آئیں تو ان کے مالی اور لاجسٹک نیٹ ورک کی تحقیقات دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا اہم حصہ بن جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان کا سکیورٹی مسئلہ

افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی متعلقہ مانیٹرنگ رپورٹس میں افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان سمیت مختلف تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی اور سرحد پار سرگرمیوں کے امکانات پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے اہم سکیورٹی تشویش ہیں۔

یہ صورتحال اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے درمیان رابطے اور وسائل کا تبادلہ علاقائی سکیورٹی کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔

امریکی انخلا کے بعد رہ جانے والے فوجی سازوسامان کا معاملہ

افغانستان میں موجود جدید ہتھیاروں کے حوالے سے SIGAR کی رپورٹس بھی اہم پس منظر فراہم کرتی ہیں۔

SIGAR کے مطابق 2021 میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے وقت افغانستان میں تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فراہم کردہ دفاعی سازوسامان موجود تھا۔

اس سازوسامان میں مختلف نوعیت کی فوجی گاڑیاں، ہتھیار، مواصلاتی آلات، فضائی پلیٹ فارم اور دیگر دفاعی سامان شامل تھا۔

تاہم اس امر کو الگ سے ثابت کرنا ضروری ہے کہ اس مجموعی سازوسامان میں سے کتنا حصہ بعد میں کسی مخصوص دہشت گرد تنظیم کے قبضے یا استعمال میں آیا۔ اس لیے 7.1 ارب ڈالر کے پورے سامان کو براہِ راست فتنہ الہندوستان کے زیر استعمال قرار دینا اضافی شواہد کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

دہشت گرد تنظیموں کے لیے جدید ٹیکنالوجی نیا ہتھیار

سکیورٹی ماہرین کے مطابق دہشت گردی اب صرف بندوق، بم اور خودکش حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ جدید ٹیکنالوجی نے دہشت گرد گروہوں کو پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔

ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی، انکرپٹڈ مواصلات، جدید کیمرے، مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے دہشت گرد تنظیمیں محدود وسائل سے عالمی سطح کا پروپیگنڈا تیار کرسکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جدید انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں ڈیجیٹل فرانزک، سائبر مانیٹرنگ اور آن لائن انتہا پسندانہ مواد کے خلاف کارروائی کو بھی اہمیت دی جارہی ہے۔

دہشت گردی کے ساتھ ’پروپیگنڈا وار‘ بھی جاری

فتنہ الہندوستان سے منسوب ویڈیوز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گرد کارروائیوں کو محض خبر کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم فلمی بیانیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

اس میں موسیقی، گرافکس، ڈرون شاٹس، مختلف کیمرہ اینگلز اور ہائی ڈیفینیشن ویڈیو استعمال کرکے ناظرین پر جذباتی اثر ڈالنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی ویڈیوز کا مقصد تین سطحوں پر اثر انداز ہونا ہوسکتا ہے:

  • نوجوانوں کو تنظیم کی طرف راغب کرنا؛
  • دہشت گرد گروہ کی طاقت کا مصنوعی تاثر پیدا کرنا؛
  • ریاستی اداروں اور عام شہریوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا۔

بلوچستان کے امن کو سب سے بڑا خطرہ

بلوچستان میں دہشت گردی کا مسئلہ طویل عرصے سے سکیورٹی، ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

دہشت گردی کے نتیجے میں شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں، مواصلاتی نظام اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے پروپیگنڈا، مالی معاونت اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔

’حقوق‘ کے نام پر تشدد کے بیانیے پر تنقید

پاکستانی حکام اور سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بعض اوقات سیاسی یا حقوق کے نعروں کو اپنے مسلح ایجنڈے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ان کے مطابق شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات کے خلاف تشدد کسی بھی سیاسی یا سماجی مطالبے کا قابلِ قبول ذریعہ نہیں ہوسکتا۔

اسی لیے فتنہ الہندوستان کے پروپیگنڈا مواد کو پاکستانی حکام بیرونی ایجنڈے اور دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

تاہم بلوچستان کے حقیقی سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کو دہشت گردی سے الگ رکھ کر دیکھنا بھی ضروری ہے، تاکہ جائز عوامی مطالبات اور مسلح تشدد کے درمیان واضح فرق برقرار رہے۔

مالی اور لاجسٹک نیٹ ورک کی تحقیقات کیوں ضروری؟

انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین کے مطابق کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی کارروائی کی صلاحیت کے پیچھے صرف مسلح افراد نہیں بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک کام کرتا ہے۔

اس نیٹ ورک میں ممکنہ طور پر مالی معاونین، ہتھیار فراہم کرنے والے، نقل و حمل کے ذرائع، محفوظ ٹھکانے، معلومات فراہم کرنے والے اور آن لائن پروپیگنڈا تیار کرنے والے عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔

اگر فتنہ الہندوستان کو بیرونی فنڈنگ یا لاجسٹک معاونت حاصل ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو اس نیٹ ورک کے مالی ذرائع، بین الاقوامی رابطوں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرنا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا اہم مرحلہ ہوگا۔

عالمی برادری کے لیے چیلنج

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور سرحد پار دہشت گردی کے خدشات اب صرف پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہے۔

اگر دہشت گرد گروہوں کو کسی بھی ملک میں محفوظ ماحول، تربیت، مالی وسائل یا جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجائے تو ان کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔

اسی لیے عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت، اسلحے کی غیر قانونی منتقلی اور آن لائن پروپیگنڈا نیٹ ورکس کے خلاف مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔

پاکستان کا واضح مؤقف

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، مالیاتی نگرانی اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔

نتیجہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا محاذ

فتنہ الہندوستان سے منسوب جدید سینمیٹک ویڈیوز، ڈرون فوٹیج، جدید جنگی سازوسامان اور افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات نے خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حلقوں کی جانب سے بھارتی معاونت اور افغان سرزمین سے تربیت و لاجسٹک سہولت کے الزامات ایک سنگین معاملہ ہیں، تاہم ایسے مخصوص دعووں کو حتمی حقیقت قرار دینے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، سینمیٹک پروپیگنڈا، ڈرونز اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس نے دہشت گرد گروہوں کو ایک نیا محاذ فراہم کردیا ہے۔ بلوچستان کے پائیدار امن کے لیے ضروری ہوگا کہ دہشت گردوں کے مسلح نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ان کے مالی، لاجسٹک، سہولت کاری اور پروپیگنڈا نیٹ ورک کو بھی مؤثر انداز میں توڑا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button