تازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجی

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا دورہ لاہور، امریکہ پاکستان معاشی تعلقات اور مصنوعی ذہانت میں وسعت پذیر شراکت اجاگر

دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور سرمایہ کاری کا ایک اہم ترین ذریعہ رہا ہے۔

انصار ذاہد سیال-پاکستان
لاہور:پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے اپنے 11 اور 12 اگست کے دورہ لاہور میں تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں امریکہ  اور پاکستان کے تعاون کو وسعت دینے کے مواقع کو اجاگر کیا اور نجی شعبہ کی شراکت داری کے ذریعے ملازمتوں کی فراہمی، مواقع کی توسیع اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے میں امریکی اختراع  کے کردار پر زور دیا ہے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور سرمایہ کاری کا ایک اہم ترین ذریعہ رہا ہے۔
امریکی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ پاکستان کے نجی شعبہ، اختراع کاروں، یونیورسٹیوں اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے، تجارت اور سرمایہ کاری کو توسیع دینے اور ایسی شراکت داریاں تعمیر کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو صدر ٹرمپ کی ایڈمنسٹریشن کی رہنمائی کے تحت دونوں ممالک کے لیے پائیدار خوشحالی کے نتائج فراہم کریں گے۔
ناظم الاُمور بیکر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب کے مصنوعی ذہانت اور خصوصی اقدامات کے مُشیرعلی ڈار سے ملاقات میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اعلیٰ تعلیم اور جدت طرازی کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
ان ملاقاتوں میں سرمایہ کاری، کاروباری اقدام اور تکنیکی جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں اور شراکت داریوں کی اہمیت اُجاگر ہوئی۔ کاروباری رہنماؤں، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ناظم الامور کی ملاقاتوں نے ظاہر کیا کہ امریکہ اور پاکستان کس طرح تجارتی تعلقات کو وسعت دیتے ہوئے تیز رفتار ترقی کے حامل شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
پی ایف چنگ کے لاہور میں نئے ریستوران کے افتتاح کے موقع پر ناظم الامور بیکر نے امریکہ  اور پاکستان کی تجارتی شراکت داری کے فوائد کو اجاگر کیا اور کہا کہ 2025 میں دوطرفہ تجارت نے 8 ارب ڈالر کی حد عبور کی۔ امریکہ کی نیٹ سول ٹیکنالوجیز، کوڈ ننجا اور گیم ڈسٹرکٹ میں انہوں نے پاکستان میں ٹیکنالوجی کے وسعت پذیر شعبہ کا بذات خود مشاہدہ کیا اور سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ، ڈیجیٹل خدمات اور مصنوعی ذہانت میں تعاون کو وسعت دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
ناظم الاُمور نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طلبہ سے ملاقات کے دوران این آئی ٹی اور ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے مابین شراکت داری کو اجاگر کیا۔ یہ شراکت داری اس امر کی ایک مثال ہے کہ امریکی تعلیمی مہارت کس طرح طلبہ کے لیے نئے مواقع تخلیق اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
اپنے دورے کے اختتام پر امریکی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر نے روزنامہ "بزنس ریکارڈر” کے ایک گول میز اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور مصنوعی ذہانت میں امریکہ کی قائدانہ حیثیت اور جدت کو معاشی ترقی، ملازمتوں کی تخلیق اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے قابل بھروسہ شراکت داریوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button