صحتاہم خبریںتازہ ترین

پنجاب کا 5.903 ٹریلین روپے کا بجٹ، مگر سرکاری اسپتالوں میں مریض آج بھی قطاروں، ادویات کی قلت اور طویل انتظار سے پریشان

علاج کا پہلا مرحلہ ہی کئی گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، کیونکہ او پی ڈی (OPD) میں رجسٹریشن یا "پرچی" حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: پنجاب میں صحت کے شعبے کا سالانہ بجٹ  5.903 ٹریلین روپے کا بجٹاور حکومت کی جانب سے "انقلابی اصلاحات”، "مفت ادویات”، "صحت کارڈ”، جدید طبی سہولیات اور نئے اسپتالوں کے قیام جیسے دعوے مسلسل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے ہزاروں مریضوں کو روزانہ طویل قطاروں، ڈاکٹرز کی محدود دستیابی، ادویات کی قلت اور تشخیصی سہولیات کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مختلف شہروں کے سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صحت کے لیے مختص اربوں روپے کے باوجود بنیادی طبی سہولیات تک بروقت رسائی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صرف بجٹ میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ اس کے مؤثر استعمال، نگرانی اور انتظامی اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے۔

پرچی کے حصول سے علاج تک، مریض کا طویل انتظار

لاہور کے میو اسپتال، سروسز اسپتال، جناح اسپتال، سیالکوٹ کے سول اسپتال اور دیگر بڑے سرکاری طبی مراکز میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی غرض سے پہنچتے ہیں۔

مریضوں کے مطابق علاج کا پہلا مرحلہ ہی کئی گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، کیونکہ او پی ڈی (OPD) میں رجسٹریشن یا "پرچی” حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

اگرچہ بیشتر اسپتالوں میں کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن سسٹم متعارف کرانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر متعدد مقامات پر محدود کاؤنٹرز، عملے کی کمی اور زیادہ رش کے باعث مریضوں کو ایک سے دو گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مریضوں کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود رجسٹریشن کے اضافی کاؤنٹرز اور جدید ٹوکن سسٹم کا مؤثر نفاذ نہ ہونا انتظامی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈاکٹرز کی محدود دستیابی

پرچی حاصل کرنے کے بعد مریضوں کو متعلقہ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کے لیے بھی طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

کئی مریضوں کا کہنا ہے کہ او پی ڈی کا وقت صبح مقرر ہونے کے باوجود بعض اوقات ڈاکٹر مقررہ وقت سے تاخیر سے آتے ہیں، جس کے باعث انتظار کا دورانیہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

ایک ہی ڈاکٹر کے سامنے روزانہ سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کے باعث معائنے کے لیے انتہائی کم وقت ملتا ہے، جس سے مریضوں کا مؤقف ہے کہ نہ تو وہ اپنی بیماری کی مکمل تفصیل بیان کر پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں مناسب مشاورت میسر آتی ہے۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی دباؤ، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی کمی اور محدود وسائل بھی اس صورتحال کی اہم وجوہات ہیں۔

ادویات کی فراہمی بھی بڑا مسئلہ

سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی حکومتی پالیسی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے، تاہم متعدد مریض شکایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ تمام ادویات اسپتال کی فارمیسی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طویل انتظار کے بعد اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ بعض ادویات اسٹاک میں موجود نہیں، جس کے باعث انہیں نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگے داموں دوائیں خریدنا پڑتی ہیں۔

اسی طرح کئی اسپتالوں میں ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور لیبارٹری ٹیسٹوں کے لیے بھی مریضوں کو کئی دن یا ہفتوں بعد کی تاریخ دیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ بعض اوقات مشینوں کی خرابی یا عملے کی کمی بھی علاج میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔

مریضوں کا سوال: بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟

شہری حلقوں اور مریضوں کا کہنا ہے کہ جب صحت کے شعبے کا بجٹ 550 ارب روپے سے زیادہ ہے تو پھر بنیادی سہولیات کی کمی کیوں برقرار ہے؟

ان کے مطابق اگر اسپتالوں میں:

  • رجسٹریشن کاؤنٹرز کی تعداد بڑھا دی جائے،
  • ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کی کمی پوری کی جائے،
  • ادویات کا مستقل اسٹاک یقینی بنایا جائے،
  • اور تشخیصی سہولیات کو فعال رکھا جائے،

تو مریضوں کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

شہریوں کا مؤقف ہے کہ صحت کے شعبے میں صرف نئی عمارتوں کے افتتاح یا ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ اہم موجودہ اسپتالوں کی کارکردگی اور انتظامی بہتری ہے۔

اصلاحات کے لیے تجاویز

صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور مختلف سماجی حلقوں نے سرکاری اسپتالوں میں خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، جن میں:

  • ڈیجیٹل ٹوکن سسٹم متعارف کرانا تاکہ مریضوں کو مقررہ وقت کے مطابق بلایا جا سکے۔
  • بائیومیٹرک حاضری نظام کے ذریعے ڈاکٹروں اور عملے کی بروقت موجودگی یقینی بنانا۔
  • اسپتالوں کی فارمیسیوں میں روزانہ بنیاد پر ادویات کے اسٹاک کا آڈٹ کرنا۔
  • طبی آلات کی بروقت مرمت اور دیکھ بھال کے لیے مستقل نظام قائم کرنا۔
  • اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (MS) کی کارکردگی کو مریضوں کی شکایات اور خدمات کے معیار سے منسلک کرنا۔
  • او پی ڈی میں مریضوں کے رش کو کم کرنے کے لیے اضافی ڈاکٹرز، نرسز اور رجسٹریشن عملہ تعینات کرنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی نظام کے ذریعے نہ صرف انتظار کا وقت کم کیا جا سکتا ہے بلکہ علاج کے مجموعی معیار میں بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

حکومت کا مؤقف

حکومت پنجاب ماضی میں متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، نئے اسپتال قائم کیے جا رہے ہیں، پرانے طبی مراکز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور مریضوں کو مفت علاج اور ادویات کی فراہمی کے لیے مختلف پروگرام جاری ہیں۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ عوام کو اس کے بہتر نتائج ملیں گے۔

بنیادی ضرورت: مؤثر عمل درآمد

صحت کے شعبے کے مبصرین کے مطابق پنجاب میں وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے مؤثر استعمال، شفاف نگرانی اور بہتر انتظامی نظام پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کی اولین ضرورت صرف بڑے بجٹ یا نئی عمارتیں نہیں بلکہ بروقت رجسٹریشن، وقت پر ڈاکٹر، دستیاب ادویات، فعال تشخیصی سہولیات اور باوقار طبی خدمات ہیں۔ اگر صحت کے نظام میں موجود انتظامی خامیوں کو دور کر لیا جائے تو موجودہ وسائل سے بھی عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں شامل بعض مشاہدات اور تنقیدی نکات عوامی شکایات اور رائے کی عکاسی کرتے ہیں۔ صحت کے شعبے کی مجموعی کارکردگی کا حتمی جائزہ سرکاری اعداد و شمار، آزاد تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button