
برسلز/بیجنگ: یورپی یونین کے ٹیکنالوجی ریگولیٹرز نے چینی ای کامرس کمپنی علی ایکسپریس (AliExpress) پر جعلی اور غیر قانونی مصنوعات کی فروخت روکنے میں مبینہ ناکامی پر 550 ملین یورو کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کمپنی نے جرمانے کو ’’غیر متناسب‘‘ قرار دیتے ہوئے اس سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یورپی حکام کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
علی ایکسپریس، جو چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا گروپ کا ذیلی ادارہ ہے، نے پیر کو جاری اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر غیر قانونی اور جعلی مصنوعات کی روک تھام کے لیے متعدد جامع اقدامات کیے ہیں، اس لیے عائد کیا گیا جرمانہ نہ صرف غیر متناسب ہے بلکہ کمپنی کی کوششوں کے منافی بھی ہے۔
جعلی مصنوعات پر یورپی یونین کی سخت کارروائی
یورپی یونین گزشتہ چند برسوں سے آن لائن مارکیٹ پلیسز پر فروخت ہونے والی جعلی، غیر قانونی اور غیر معیاری مصنوعات کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔
یورپی ریگولیٹرز کا مؤقف ہے کہ بڑی ای کامرس کمپنیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر فروخت ہونے والی مصنوعات کی مؤثر نگرانی کریں، صارفین کو محفوظ ماحول فراہم کریں اور جعلی مصنوعات کی بروقت نشاندہی کر کے انہیں ہٹائیں۔
یورپی حکام کے مطابق علی ایکسپریس اس ذمہ داری کو مؤثر انداز میں پورا کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث اسے بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔
550 ملین یورو کا ریکارڈ جرمانہ
رپورٹس کے مطابق 550 ملین یورو (تقریباً 650 ملین امریکی ڈالر) کا یہ جرمانہ ای کامرس شعبے میں جعلی مصنوعات سے متعلق یورپی یونین کی جانب سے عائد کیے جانے والے بڑے جرمانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ریگولیٹرز کے مطابق کمپنی کی جانب سے جعلی اشیاء کی فروخت روکنے، خطرناک مصنوعات کو ہٹانے اور صارفین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات "کافی اور تسلی بخش” نہیں تھے۔
علی ایکسپریس کا ردعمل
کمپنی نے ای میل کے ذریعے جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ یورپی یونین کے فیصلے سے متفق نہیں۔
بیان میں کہا گیا:
"ہم اس فیصلے اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کیے گئے غیر متناسب جرمانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ جرمانے کی رقم ہماری جانب سے اپنے کاروباری نظام کے اندر کیے گئے جامع اقدامات کی نوعیت اور وسعت کے مقابلے میں غیر متناسب ہے۔”
کمپنی نے مزید کہا کہ وہ فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی اور انتظامی امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ممکنہ قانونی کارروائی
علی ایکسپریس نے واضح کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے فیصلے کے بعد اپنے قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
اگر کمپنی اپیل دائر کرتی ہے تو معاملہ یورپی عدالتوں یا متعلقہ اپیل فورمز میں جا سکتا ہے، جہاں جرمانے کے قانونی جواز اور اس کی مالیت پر مزید غور کیا جائے گا۔
یورپی یونین کی نئی ڈیجیٹل پالیسی
یورپی یونین حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (Digital Services Act – DSA) اور دیگر قوانین کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر سخت نگرانی کر رہی ہے۔
ان قوانین کے تحت بڑی آن لائن مارکیٹ پلیسز، سرچ انجنز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ:
- جعلی مصنوعات کی فروخت روکیں۔
- غیر قانونی مواد کی بروقت نشاندہی کریں۔
- صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
- شفافیت کے تقاضے پورے کریں۔
- خطرناک مصنوعات کی فروخت کے خلاف فوری کارروائی کریں۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ اور آن لائن مارکیٹ کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
علی بابا گروپ کے لیے نیا چیلنج
علی ایکسپریس، علی بابا گروپ کے بین الاقوامی ای کامرس پلیٹ فارم کے طور پر دنیا کے متعدد ممالک میں سرگرم ہے۔
کمپنی لاکھوں فروخت کنندگان اور کروڑوں صارفین کو آن لائن خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف ممالک میں جعلی مصنوعات، دانشورانہ املاک کے حقوق اور صارفین کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی یونین کا یہ اقدام عالمی ای کامرس کمپنیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ صارفین کے تحفظ اور غیر قانونی مصنوعات کی روک تھام کے حوالے سے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
عالمی ای کامرس مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کارروائی براہ راست علی ایکسپریس کے خلاف کی گئی ہے، تاہم اس کے اثرات دیگر عالمی ای کامرس پلیٹ فارمز پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ممکن ہے کہ بڑی آن لائن کمپنیاں یورپی منڈی میں اپنے نگرانی کے نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ، فروخت کنندگان کی تصدیق اور جعلی مصنوعات کی نشاندہی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کریں تاکہ مستقبل میں ایسے جرمانوں سے بچا جا سکے۔
آگے کیا ہوگا؟
اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا علی ایکسپریس یورپی یونین کے فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کرتی ہے یا ریگولیٹرز کے ساتھ کسی مفاہمتی حل کی کوشش کرتی ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین واضح کر چکی ہے کہ وہ آن لائن صارفین کے تحفظ، غیر قانونی مصنوعات کی روک تھام اور ڈیجیٹل قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی سخت پالیسی جاری رکھے گی، جبکہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی یورپی قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔



