
پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی ملاقات، علاقائی امن اور مفاہمتی سفارت کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال
پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی بنیادوں پر استوار ہیں، جنہیں مزید مضبوط اور مؤثر بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں قیامِ امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، اعلیٰ سطح کے روابط کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اعلیٰ سول و سکیورٹی حکام بھی شریک ہوئے، جبکہ ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد بھی موجود تھا۔
تہران کے حالیہ دورے کا ذکر، ایرانی قیادت کے لیے نیک تمنائیں
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران رواں ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کیا، جہاں انہوں نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی تھی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ایران کی نئی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے خیرسگالی، احترام اور نیک تمناؤں کا پیغام ایرانی وزیر داخلہ کے ذریعے پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی بنیادوں پر استوار ہیں، جنہیں مزید مضبوط اور مؤثر بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
خلیجی کشیدگی پر اظہار تشویش، تحمل اور مذاکرات پر زور
وزیراعظم نے خلیجی خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات پورے خطے کے امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہوں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی روایتی، متوازن اور ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور ایک دیانتدار، غیرجانبدار اور مخلص ثالث و سہولت کار کے طور پر اپنا کردار آئندہ بھی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل، سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، سرحدی انتظام، سکیورٹی تعاون، انسداد دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام، امیگریشن اور باہمی روابط کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مشترکہ سرحد کو امن، ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کی علامت بنایا جائے گا اور دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔
ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال پر اظہار تشکر
ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد آمد پر اپنے اور اپنے وفد کے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم شہباز شریف اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے ایرانی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات، خیرسگالی اور دوستی کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے مختلف وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید وسعت دینا اور مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کو تیز کرنا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا
ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے بالخصوص ان کی مسلسل اور انتھک سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) طے پائی، جس نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسکندر مومنی نے کہا کہ ایران پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پاکستان نے خطے میں مکالمے، مفاہمت اور امن کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم کے تہران دورے پر اظہار تشکر
ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران کا دورہ کیا، جسے ایرانی عوام اور قیادت نے دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان موجود اعتماد، مذہبی و ثقافتی قربت اور باہمی احترام کو مزید مستحکم کیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نئی رفتار دینے کا عزم
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی انتظام، توانائی، علاقائی رابطہ کاری، سکیورٹی تعاون اور عوامی روابط سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے لیے مسلسل رابطے، اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور سفارتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن اور ترقی کے مشترکہ وژن کو عملی شکل دی جا سکے۔



