
خانہ بدوش کمیونٹی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اہم پیش رفت
خانہ بدوش کمیونٹی کو شناخت، تعلیم، صحت، کھیل، سماجی تحفظ، روزگار اور بنیادی شہری حقوق فراہم کیے بغیر پائیدار ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
خانہ بدوش بچوں، بچیوں اور خاندانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، شناخت، روزگار اور سماجی ترقی کے لیے کام کرنے والی نمائندہ سماجی تنظیم گود لاہور کے زیر اہتمام ایک اہم ملٹی اسٹیک ہولڈرز کوآرڈینیشن اجلاس لاہور میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کا مقصد خانہ بدوش کمیونٹی کو درپیش مسائل کا مشترکہ حل تلاش کرنا، انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا اور تعلیم، صحت، شناخت، کھیل، سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنا تھا۔
مختلف سرکاری اداروں اور سماجی تنظیموں کی شرکت
اجلاس میں متعدد اہم سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں:
- محکمہ سپورٹس پنجاب
- نادرا (NADRA)
- محکمہ لیبر
- نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس
- پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122
- سیف سٹی اتھارٹی
- لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC)
- لوکل گورنمنٹ کے نمائندگان
اس کے علاوہ سماجی تنظیم المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ سمیت مختلف فلاحی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
نادرا کی خصوصی رجسٹریشن مہم کا فیصلہ
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ خانہ بدوش کمیونٹی کے افراد کی قومی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے نادرا خصوصی رجسٹریشن مہم شروع کرے گا۔

اس مہم کے تحت نادرا کی موبائل ٹیمیں خانہ بدوش آبادیوں اور رہائشی مقامات پر خصوصی رجسٹریشن کیمپ قائم کریں گی تاکہ وہ افراد جو شناختی دستاویزات سے محروم ہیں، انہیں آسانی سے رجسٹر کیا جا سکے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے خانہ بدوش خاندان حکومتی فلاحی پروگراموں، صحت، تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ کی متعدد سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
پیدائش، نکاح اور شناختی کارڈ کی رجسٹریشن
خصوصی مہم کے دوران:
- بچوں کے پیدائش کے اندراج
- نکاح ناموں کی رجسٹریشن
- قومی شناختی کارڈز کا اجرا
جیسے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اس اقدام سے خانہ بدوش کمیونٹی کے افراد بھی حکومت کی جانب سے بیواؤں، بے روزگار افراد، مستحق خاندانوں اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے فراہم کی جانے والی مختلف مالی اور سماجی معاونت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
سپورٹس بورڈ پنجاب کا اہم اعلان
محکمہ سپورٹس پنجاب کی ڈپٹی ڈائریکٹر زرینہ وقار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت لاہور میں 25 سے زائد سرکاری سپورٹس اکیڈمیاں فعال ہیں، جہاں تقریباً 2,500 بچے اور بچیاں مختلف کھیلوں میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ سپورٹس کی خواہش ہے کہ خانہ بدوش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بچے اور بچیاں بھی دیگر شہریوں کی طرح کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے بتایا کہ سپورٹس بورڈ پنجاب کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن فارم دستیاب ہے اور متعلقہ ادارے خانہ بدوش بچوں کی رجسٹریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
زرینہ وقار کے مطابق کھیل نہ صرف جسمانی صحت بلکہ خود اعتمادی، سماجی شمولیت اور بہتر مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے فلاحی منصوبے
اجلاس کے دوران المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے نمائندے نواز کھرل نے خانہ بدوش کمیونٹی کے لیے متعدد فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں تنظیم خانہ بدوش آبادیوں میں:
- صاف پینے کے پانی کے فلٹریشن پلانٹس نصب کرے گی۔
- گود لاہور کے تعاون سے مزید تعلیمی مراکز اور اسکول قائم کیے جائیں گے۔
- آنکھوں کے مفت طبی معائنے کے لیے خصوصی آئی کیمپ لگائے جائیں گے۔
- آنکھوں کے مختلف امراض میں مبتلا افراد کو مفت علاج اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد خانہ بدوش کمیونٹی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور انہیں بنیادی انسانی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ریسکیو 1122 کی آگاہی اور تربیتی مہم
پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کی نمائندہ رابعہ خلیل نے اجلاس کو بتایا کہ ریسکیو 1122 تمام شہریوں کو بلاامتیاز مفت ایمرجنسی خدمات فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ خانہ بدوش کمیونٹی کے لیے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جائے گی، جس کے تحت:
- ابتدائی طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کی تربیت
- آتشزدگی سے بچاؤ
- حادثات میں فوری امداد
- ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی عملی تربیت
فراہم کی جائے گی تاکہ کمیونٹی خود بھی ہنگامی حالات میں بہتر انداز سے ردعمل دے سکے۔
دیگر اداروں کا بھی بھرپور تعاون
اجلاس میں سیف سٹی اتھارٹی، محکمہ لیبر، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس، لوکل گورنمنٹ، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) اور دیگر اداروں نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خانہ بدوش کمیونٹی کو معاشرے کا فعال، بااختیار اور باعزت شہری بنانے کے لیے اپنے اپنے شعبوں میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔

اداروں کے نمائندوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار، ماحول، صفائی، قانونی معاونت اور شہری حقوق کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اس محروم طبقے کو قومی ترقی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
جانوروں کی فلاح کے لیے بھی خصوصی اقدامات
اجلاس کے اختتام پر گود لاہور کے سربراہ نذیر احمد غازی نے کہا کہ تنظیم عالمی ادارے بروک (Brooke) کے تعاون سے خانہ بدوش کمیونٹی کی معاشی ترقی کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ خانہ بدوش خاندانوں کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش گدھوں، گھوڑوں اور خچروں جیسے محنت کش جانوروں سے وابستہ ہے، اس لیے ان جانوروں کی صحت، علاج اور دیکھ بھال کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
- جانوروں کے مفت طبی معائنے
- ویکسینیشن
- علاج معالجہ
- مالکان میں جانوروں کی بہتر دیکھ بھال سے متعلق آگاہی
جیسے اقدامات جاری ہیں، تاکہ ان خاندانوں کے روزگار کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔
قومی دھارے میں شمولیت کی جانب اہم قدم
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خانہ بدوش کمیونٹی کو شناخت، تعلیم، صحت، کھیل، سماجی تحفظ، روزگار اور بنیادی شہری حقوق فراہم کیے بغیر پائیدار ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

شرکاء کے مطابق مختلف سرکاری اداروں، سماجی تنظیموں اور فلاحی اداروں کے درمیان اس نوعیت کا مشترکہ تعاون نہ صرف خانہ بدوش خاندانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا بلکہ انہیں قومی دھارے میں شامل کر کے معاشرے کا باوقار، فعال اور خودمختار حصہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔




