
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: پنجاب حکومت کے محکمہ خزانہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک سرکاری نوٹیفکیشن نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کے ڈھانچے، مراعات کی تقسیم اور انتظامی انصاف کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ 22 جولائی 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے تحت وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور پنجاب سول سیکرٹریٹ میں تعینات ملازمین کے لیے بیسک پے اسکیل 2026 کے مطابق 100 فیصد سول سیکرٹریٹ الاؤنس کی منظوری دی گئی ہے۔ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کوئی نئی رعایت نہیں بلکہ پہلے سے موجود پالیسی کا تسلسل ہے، تاہم اس اقدام نے لاکھوں دیگر سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں میں پائے جانے والے فرق کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کی اصل حیثیت کیا ہے؟
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق یہ نوٹیفکیشن دراصل 2022 میں متعارف کرائے گئے 100 فیصد سول سیکرٹریٹ الاؤنس کو نئے بیسک پے اسکیل 2026 کے مطابق دوبارہ نافذ کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری مالیاتی نظام میں جب بھی نئے بنیادی پے اسکیل نافذ کیے جاتے ہیں تو ایسے تمام الاؤنسز، جن کا تعین بنیادی تنخواہ کے فیصد کے حساب سے کیا جاتا ہے، انہیں نئے پے اسکیل کے مطابق مؤثر بنانے کے لیے الگ سے نوٹیفکیشن جاری کرنا قانونی اور انتظامی تقاضا ہوتا ہے۔ اسی لیے حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن کسی نئی مراعت کا اعلان نہیں بلکہ پہلے سے جاری الاؤنس کو نئے بنیادی پے سکیل کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کا عمل ہے۔
عام ملازمین اور سیکرٹریٹ ملازمین کی تنخواہوں میں بنیادی فرق
پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ دو مختلف طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔
عام طور پر سالانہ بجٹ کے دوران تمام سرکاری ملازمین کے لیے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اعلان کیا جاتا ہے، جو عموماً 7 فیصد، 7.5 فیصد یا 10 فیصد کے قریب ہوتا ہے۔ یہ اضافہ ملازم کی مجموعی تنخواہ پر نہیں بلکہ صرف بنیادی تنخواہ پر لاگو ہوتا ہے، جس کے باعث تنخواہ میں محدود اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے برعکس وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے ملازمین نہ صرف سالانہ ایڈہاک ریلیف حاصل کرتے ہیں بلکہ انہیں ان کی نئی بنیادی تنخواہ کے برابر 100 فیصد سول سیکرٹریٹ الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ملازم کی بنیادی تنخواہ بڑھتی ہے تو سیکرٹریٹ الاؤنس بھی اسی تناسب سے خودکار طور پر بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان اداروں کے ملازمین کی مجموعی ماہانہ آمدن عام سرکاری ملازمین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہو جاتی ہے۔
کتنے ملازمین مستفید ہوتے ہیں؟
پنجاب حکومت کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں بیسک پے اسکیل 1 سے 22 تک تقریباً 10 سے 11 لاکھ سرکاری ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان میں شامل ہیں:
- سرکاری سکولوں کے اساتذہ
- پولیس اہلکار
- ڈاکٹرز اور نرسیں
- پیرامیڈیکل سٹاف
- ضلعی انتظامیہ کا عملہ
- پٹواری
- مختلف محکموں کے فیلڈ دفاتر کے ملازمین
یہ تمام ملازمین براہِ راست عوام کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
اس کے برعکس وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے تمام محکموں میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی مجموعی تعداد تقریباً 7 سے 8 ہزار بتائی جاتی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے مجموعی سرکاری ملازمین میں ان اداروں کا حصہ صرف 0.8 فیصد بنتا ہے، جبکہ باقی 99 فیصد سے زائد ملازمین اس خصوصی الاؤنس سے محروم رہتے ہیں۔
الاؤنس کی تاریخ
سول سیکرٹریٹ الاؤنس کا آغاز محدود شرح سے کیا گیا تھا۔
ابتدا میں یہ الاؤنس 20 فیصد مقرر کیا گیا، بعد ازاں اسے 30 فیصد، پھر 50 فیصد اور آخرکار 2022 میں بڑھا کر 100 فیصد کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) اور پنجاب مینجمنٹ سروس (PMS) جیسے بعض اعلیٰ انتظامی کیڈرز کے افسران کے لیے مختلف ادوار میں 100 سے 150 فیصد تک ایگزیکٹو الاؤنس بھی منظور کیے جاتے رہے ہیں۔
حکومت کا مؤقف
پنجاب حکومت اور سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام اس الاؤنس کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ میں کام کی نوعیت عام دفاتر سے مختلف ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق:
- پالیسی سازی اور حکومتی فیصلوں کی تیاری
- کابینہ اجلاسوں کے لیے دستاویزات کی تیاری
- حساس سرکاری معاملات پر مسلسل کام
- طویل اوقات کار اور رات گئے تک ڈیوٹی
ان عوامل کی وجہ سے ان ملازمین پر اضافی انتظامی دباؤ ہوتا ہے۔
حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیلڈ افسران کو سرکاری گاڑی، ایندھن، سفری سہولیات اور دیگر آپریشنل مراعات حاصل ہوتی ہیں، جبکہ سیکرٹریٹ میں کام کرنے والے بیشتر افسران اور کلریکل عملہ ان سہولیات سے محروم ہوتا ہے، لہٰذا انہیں مالی طور پر متوازن رکھنے کے لیے یہ الاؤنس ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ملازمین کی تنظیموں کے اعتراضات
دوسری جانب مختلف سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیمیں اس پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (APCA)، گرینڈ ٹیچرز الائنس اور مختلف ہیلتھ یونینز کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تمام سرکاری ملازمین کے لیے یکساں ہیں۔
تنظیموں کے مطابق ایک ہی بنیادی پے اسکیل پر تعینات دو ملازمین میں صرف تعیناتی کی جگہ کی بنیاد پر اتنا بڑا مالی فرق انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایک گریڈ 17 کا سیکشن آفیسر سیکرٹریٹ میں کام کر رہا ہے اور دوسرا گریڈ 17 کا ہیڈماسٹر، لیکچرر یا میڈیکل آفیسر فیلڈ میں خدمات انجام دے رہا ہے تو دونوں کی بنیادی تنخواہ ایک ہونے کے باوجود سیکرٹریٹ الاؤنس کی وجہ سے مجموعی تنخواہ میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
معاشی اور انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق خصوصی الاؤنسز دنیا کے مختلف سرکاری نظاموں میں بھی دیے جاتے ہیں، تاہم ایسے الاؤنسز کی شفافیت، ضرورت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے مطابق وقتاً فوقتاً جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی مخصوص ادارے کو اضافی مراعات دی جاتی ہیں تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان مراعات کی بنیاد کیا ہے، ان کا مالی بوجھ کتنا ہے، اور آیا عوامی خدمات انجام دینے والے دیگر شعبوں کو بھی اسی نوعیت کی مراعات دینے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔
نتیجہ
22 جولائی 2026 کا نوٹیفکیشن قانونی اور انتظامی اعتبار سے اگرچہ پہلے سے موجود 100 فیصد سول سیکرٹریٹ الاؤنس کی تجدید قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس نے صوبے کے لاکھوں سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں اور مراعات کے فرق پر ایک مرتبہ پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ حساس پالیسی سازی، اضافی ذمہ داریوں اور خصوصی نوعیت کے سرکاری کام کے باعث یہ الاؤنس ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب اساتذہ، ڈاکٹروں، نرسوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر فیلڈ ملازمین کی نمائندہ تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ اگر مہنگائی اور معاشی دباؤ سب کے لیے یکساں ہے تو مراعات کا نظام بھی زیادہ متوازن اور منصفانہ ہونا چاہیے۔
اسی تناظر میں یہ معاملہ آئندہ بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، مراعات اور انتظامی اصلاحات سے متعلق عوامی اور سیاسی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔



