
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک کو فروغ دینے کی کوششوں کے سلسلے میں امریکی کانگریس کے دو رکنی وفد نے آج لاہور میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (PSCA) کا دورہ کیا۔ وفد میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان ریان زنکے (Ryan Zinke) اور مائیکل بومگارٹنر (Michael Baumgartner) شامل تھے، جنہوں نے اتھارٹی کے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی کے نظام اور عوامی تحفظ کے لیے اختیار کی گئی جدید حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
امریکی وفد کا پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر پہنچنے پر منیجنگ ڈائریکٹر محمد احسن یونس، چیف آپریٹنگ آفیسر مستنصر فیروز اور دیگر اعلیٰ حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وفد کو ادارے کے قیام کے مقاصد، آپریشنل ڈھانچے، تکنیکی صلاحیتوں اور صوبے بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے انجام دی جانے والی ذمہ داریوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔
جدید نگرانی کے نظام پر بریفنگ
منیجنگ ڈائریکٹر محمد احسن یونس نے امریکی ارکان کانگریس کو بتایا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے صوبے کے اہم شہروں اور حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ہائی ریزولوشن نگرانی کیمرے، جدید کمیونیکیشن نیٹ ورک اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے جرائم کی روک تھام اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل ممکن ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی نے حالیہ برسوں میں اپنے نظام میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی متعدد جدید فیچرز شامل کیے ہیں، جن کی مدد سے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی، ٹریفک مینجمنٹ، گاڑیوں کی شناخت، جرائم پیشہ عناصر کی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت مزید مؤثر بنائی گئی ہے۔
اے آئی اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹل سکیورٹی
چیف آپریٹنگ آفیسر مستنصر فیروز نے وفد کو اتھارٹی کی حالیہ AI اپ گریڈیشن کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت نگرانی کے نظام کی رفتار اور درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز بڑی مقدار میں ڈیٹا کا فوری تجزیہ کرتے ہوئے مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت کارروائی میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نہ صرف جرائم کی روک تھام بلکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے، ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں، شہریوں کی رہنمائی اور عوامی تحفظ کے دیگر اقدامات میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ
بریفنگ کے دوران امریکی وفد کو بتایا گیا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی صوبے بھر میں پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ذریعے کام کرتی ہے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے حاصل ہونے والی معلومات فوری طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں تاکہ جرائم کی روک تھام، مشتبہ افراد کی نگرانی اور عوامی شکایات پر بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
حکام نے وفد کو اس نظام کے بارے میں بھی آگاہ کیا جس کے ذریعے شہری مختلف ہیلپ لائنز اور ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے جرائم، ہنگامی حالات یا مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دے سکتے ہیں، جس سے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
وفد کی دلچسپی اور تبادلۂ خیال
دورے کے دوران امریکی ارکان کانگریس نے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مختلف شعبوں، مانیٹرنگ رومز اور آپریشنل مراکز کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے جدید نگرانی کے نظام، مصنوعی ذہانت کے استعمال، عوامی تحفظ کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار اور ادارے کی مجموعی کارکردگی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفد نے اتھارٹی کے حکام سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال بھی کیا، جس میں جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، جرائم کی روک تھام، ٹریفک مینجمنٹ اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق تجربات شامل تھے۔
پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں اہمیت
یہ دورہ پاکستان میں موجود امریکی کانگریس کے وفد کی سرکاری مصروفیات کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا، مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی کانگریس کے ارکان کا پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا دورہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید شہری سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبے بن رہے ہیں۔
جدید سکیورٹی ماڈل کی جانب پیش رفت
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی گزشتہ چند برسوں کے دوران جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار نگرانی کے نظام اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر کے ذریعے صوبے میں شہری سلامتی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اے آئی، ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور اسمارٹ سکیورٹی سلوشنز کے ذریعے عوام کو مزید محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔
امریکی کانگریس کے وفد کے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



