
۔۔۔ اور ایک عالم کا گمراہ ہونا ؟؟ ….پیر مشتاق رضوی
اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں (البقرہ) پاکستان میں آج 7 ہزار سے زائد فوجی جوان اور افسران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو چکے ہیں
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی اور قومی زندگی کے اصول بھی دیتا ہے۔ موجودہ دور میں جب ملک دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاک افواج اور قومی سلامتی کے حوالے سے دیے گئے بیانات پر قرآن و سنت کی روشنی میں بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔فتنہ و فساد اور امت میں تفرقہ حرام ہےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
_ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو(آل عمران)
جس وقت دشمن ملک کے خلاف متحد ہو کر سازشیں کر رہا ہو، اس وقت قوم اور فوج کے درمیان بدگمانی پیدا کرنا، اداروں پر شکوک پیدا کرنا قرآن کے اس حکم کے خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: _”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” مجاہدین اور شہداء کی عزت کرنا ایمان کا حصہ ہے*
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ”
ترجمہ: اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں (البقرہ) پاکستان میں آج 7 ہزار سے زائد فوجی جوان اور افسران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔ ان کی قربانی کو "تنخواہ” یا "پیسے” سے جوڑنا شہداء کی توہین ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شہید کی موت کے درد کا احساس ایسا ہے جیسے تم میں سے کسی کو چوٹ لگے”۔ کیا ہم ان شہداء کی عزت کرنے کے بجائے ان پر شک کریں؟ قرآن کا حکم ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ” ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکمرانوں کی(النساء) ،علماء کرام نے لکھا ہے کہ "اولی الامر” میں ملک کا دفاع کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ جب ریاست اپنے دفاع کے لیے "عزم استحکام” جیسا آپریشن کرے تو اس میں رکاوٹ ڈالنا یا اسے "بیرونی ایجنڈا” کہنا شرعی اور اخلاقی طور پر درست نہیں۔ اسلام میں غیبت، بہتان اور بدگمانی سے بچنے کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے” کسی ادارے یا فرد پر بغیر ثبوت کے الزام لگانا، قوم میں مایوسی پھیلانا، یہ سب قرآن کی رو سے "بہتان عظیم” کے زمرے میں آتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن ایک مذھبی رہنما ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قرآن کے اس حکم پر عمل کریں: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا” ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
مفکر اسلام علامہ اقبال کے نزدیک "شہادت” صرف مر جانے کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ فکر، ایک انقلابی جذبہ اور قوم کی بقا کا ضامن ہے۔ ان کے فلسفے میں شہادت خودی کی معراج ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ شہید اپنی انا مٹا کر ملت کی بقا کے لیے قربان ہو جاتا ہے۔
"مر کے جینے کا سلیقہ سیکھ لے خودی سے
خاک ہو کر بھی وہ شہید زندہ رہتا ہے”
ان کے نزدیک شہید فنا نہیں ہوتا بلکہ وہ قوم کے ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
شہادت عشقِ رسول ﷺ اور عشقِ وطن کا نتیجہ ہے*
اقبال شہادت کو مادی مفاد سے نہیں جوڑتے۔ شہید وہ ہے جو "لا الہ الا اللہ” کے لیے، دین کی سربلندی کے لیے اور وطن کی حرمت کے لیے جان دیتا ہے۔
"شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی”
یعنی مومن کا مقصد دنیا کی حکومت یا مال نہیں، بلکہ حق کے لیے قربانی دینا ہے۔
شہادت قوموں کو بیدار کرتی ہےاقبال کے فلسفے میں ایک شہید کا خون ہزاروں غافل دلوں کو جگا دیتا ہے۔ شہادت سے قوموں میں نیا جذبہ، نیا عزم پیدا ہوتا ہے۔
شہید کی قربانی قوم کے لیے "طوفان” بن کر آتی ہے جو باطل کی دیواریں گرا دیتی ہے۔ شہادت اور زندگی کا فرق مٹ جاتا ہےاقبال مادی زندگی کو اصل زندگی نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک جو حق کے لیے مر گیا وہ اصل میں جی گیا، اور جو باطل کے ساتھ سمجھوتہ کر کے جی رہا ہے وہ مردہ ہے۔
"زندگی شاہیں کی موت ہے تنازع میں
یہی ہے مراتبِ مردِ مسلمانی
علامہ اقبال کا فلسفۂ شہادت ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ قومیں قربانیوں سے بنتی ہیں۔ شہید کی موت قوم کے لیے زندگی کا پیغام بن جاتی ہے آج جب ہم”عزم استحکام” جیسے مرحلے سے گزر رہے ہیں تو اقبال کا یہی فلسفہ ہمیں حوصلہ دیتا ہے کہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہی اصل مسلمانی ہے۔
"خونِ شہیداں سے نکلتی ہے یہ راہِ حق کی شمع*
جس سے رہنمائی پاتی ہے ملتِ اسلامی”*
اس نازک وقت میں قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے، انتشار کی نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے جوانوں، شہداء اور دفاعی اداروں کے لیے دعا کریں اور دشمن کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے دیے گئے بیانات نے سیاسی، سماجی اور محب وطن حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان بیانات میں پاک افواج کی لاژمزوال قربانیوں اور قومی جنگ کے بیانیے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم محب وطن قوتوں اور قومی سطح کے تجزیہ کاروں نے ان الزامات کو حقائق کے منافی اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
"52 ڈگری میں وردی، 20 کلو جیکٹ پہن کر تنخواہ نہیں، پاکستانیت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں”یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج کا کوئی بھی جوان اور افسر ڈیوٹی کے لیے تنخواہ کی خاطر نہیں بلکہ جذبہ حب الوظنی اور قومی غیرت کے تحت سرحدوں پر کھڑا ہے۔ آج بھی بلوچستان سے خیبر تک ہمارے جوان شدید گرمی، سردی اور دشوار گزار علاقوں میں ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔”عزم استحکام کسی کے کہنے پر نہیں، یہ ہماری اپنی جنگ ہے” ذرائع کے مطابق "عزم استحکام” آپریشن مکمل طور پر پاکستان کی اپنی ضرورت ہے۔ یہ کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے اور اس کے لیے ہم نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ جنگ امریکہ کے کہنے پر لڑی جا رہی ہے، نوجوانوں کی قربانیوں کی توہین ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی جنگ لڑی اور وہاں سے نکل کر حکومت چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ میں 80 ہزار سے زائد شہریوں اور 7 ہزار سے زائد فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانی دی ہے۔ دنیا بھر میں افسروں اور جوانوں کے شہید ہونے کا تناسب 1:58 ہے جبکہ پاکستان میں یہ تناسب 1:7 ہے۔ یعنی ہمارے افسران جوانوں کے ساتھ فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں۔”جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے نہ تولیں” سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاک فوج میں کوئی بھی سپاہی یا افسر بلیٹ پروف جیکٹ اور ڈگری کے لیے نہیں کھڑا ہوتا۔ قوم کے نوجوان اس موقع پر اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے ہر دم تیار ہوتے ہیں۔ فوجی کی شہادت کو کسی مادی فائدے سے جوڑنا قومی بیانیے کے خلاف ہے اور ملکی دشمنی کے مترادف ہے واضح رہے کہ اس وقت جب ملک دہشتگردی کے خلاف ایک نئے مرحلے "عزم استحکام” سے گزر رہا ہے، ایسے بیانات دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش دراصل پاکستان کے استحکام کے خلاف سازش ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے انہیں متنازعہ نہ بنایا جائے پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے اور اس کی بقا کا ضامن اس کی فوج اور عوام کا باہمی اعتماد ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے، الزام تراشی اور مایوسی پھیلانے والے بیانیے قوم کے مفاد میں نہیں۔پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سرحدوں پر دہشتگردی کے ناسور کے خلاف "عزم استحکام” جیسا بڑا آپریشن جاری ہے، دوسری طرف اندرونی محاذ پر قومی بیانیے کو کمزور کرنے کی سازشیں بھی جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ۔مولانا صاحب نے اپنے بیان میں پاک فوج کی قربانیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا ملک کی جنگ کسی بیرونی ایجنڈے کے تحت لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "52 ڈگری میں وردی اور 20 کلو جیکٹ پہننے والا جوان تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ پاکستانیت کے لیے کھڑا ہے”۔ یہ جملہ خود ان کی اپنی بات کو غلط ثابت کرتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پاک فوج کا سپاہی کسی دنیاوی سہولت کے لیے نہیں، ایمان، غیرت اور وطن کی محبت کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہمارے افسران اے سی کے کمروں میں بیٹھ کر حکم نہیں دیتے بلکہ جوانوں کے شانہ بشانہ فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ پچھلی چار دہائیوں میں ہم نےدہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد معصوم شہری اور 7 ہزار سے زائد شیر دل فوجی جوان و افسر قربان کیے ہیں۔ کیا یہ قربانیاں "پیسے” کی خاطر دی گئی ہیں؟ مولانا صاحب نے امریکہ کی افغانستان جنگ سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ "وہاں 3 ٹریلین ڈالر ضائع ہوئے، یہاں خون بہایا جا رہا ہے”۔ فرق یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی جنگ لڑی اور ناکام ہو کر واپس چلا گیا۔ لیکن پاکستان نے اپنی جنگ لڑی ہے۔ یہ جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ "عزم استحکام” کوئی امریکی مطالبہ نہیں، یہ ریاست پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے تاکہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور آنے والی نسلوں کو پرامن مستقبل دیا جا سکے۔سیاست اپنی جگہ،لیکن قومی سلامتی پر سودے بازی نہیں ہو سکتی۔
قول سدید ہے کہ "ایک عالم کے گمراہ ہونے سے ایک عالم گمراہ ہو جاتا ہے” اسےلئےآخر میں یہی عرض ہےکہ نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں۔ انہیں مایوس کرنے اور دھشت گرد عناصر کی بلاواسطہ حوصلہ افزائی کرنے کے بجائےشہداۓ پاکستان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا جائے سیاستدانوں کا کام قوم کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ متحد کرنا ہے۔ پاکستان کی بقا کا راز اسی میں ہے کہ ہم فوج اور عوام کے درمیان موجود اعتماد کو مزید مضبوط کریں، نہ کہ اسے بیانات کی سیاست کی نذر کریں۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین


