کالمزحیدر جاوید سید

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگِ بقا…….سید عاطف ندیم

سات ہزار سے زائد شہداء کی لازوال قربانیاں، بدلتے سکیورٹی چیلنجز اور پائیدار امن کی قومی جدوجہد

پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ایک ایسا باب ہے جسے صرف عسکری کارروائیوں، سکیورٹی حکمت عملی یا سرکاری اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ درحقیقت ایک ایسی قومی آزمائش کی داستان ہے جس میں ریاست، سکیورٹی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور عام شہریوں نے ایک طویل عرصے تک مسلسل قربانیاں دیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پاکستان نے نہ صرف دہشت گردی کے بے شمار واقعات کا سامنا کیا بلکہ ان کے نتیجے میں انسانی جانوں، معیشت، سماجی ہم آہنگی، تعلیم، سرمایہ کاری اور قومی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس تمام عرصے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عوام نے جس استقامت، صبر اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ جدید تاریخ میں انسدادِ دہشت گردی کی اہم مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

2001 کے بعد خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال نے پاکستان کو براہ راست متاثر کیا۔ افغانستان میں جنگ، سرحدی علاقوں میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی، کمزور سرحدی نگرانی، غیر قانونی نقل و حرکت اور مختلف شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں نے پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ داخلی سکیورٹی بحران پیدا کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خطرات ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گئے اور خیبر پختونخوا، سابق فاٹا، بلوچستان، کراچی اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے۔ ان حملوں کا ہدف صرف سکیورٹی فورسز نہیں تھیں بلکہ تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں، بازار، اسپتال، عوامی مقامات، اقلیتی برادریاں اور عام شہری بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے۔

اس مشکل دور میں پاکستان کی مسلح افواج، فرنٹیئر کور، پاکستان رینجرز، پولیس، انسداد دہشت گردی محکموں، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کردار ادا کیا۔ سرکاری بیانات اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس طویل جنگ میں سات ہزار سے زائد فوجی افسران اور جوان وطن پر قربان ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ ان شہداء میں سپاہیوں سے لے کر اعلیٰ عسکری افسران تک مختلف رینکس کے اہلکار شامل ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ریاست کی عملداری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ ان قربانیوں کو محض عسکری نقصان نہیں بلکہ قومی بقا کی قیمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف صرف دفاعی حکمت عملی اختیار نہیں کی بلکہ مختلف ادوار میں بڑے پیمانے پر عسکری آپریشنز بھی کیے۔ راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب، ردالفساد اور بعد ازاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) نے دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورکس، تربیتی مراکز، اسلحہ کے ذخائر اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں کئی ایسے علاقے جہاں ریاستی عملداری تقریباً ختم ہو چکی تھی، دوبارہ حکومتی کنٹرول میں آئے۔ لاکھوں بے گھر افراد کی مرحلہ وار واپسی، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور سول انتظامیہ کی بحالی بھی انہی اقدامات کا حصہ رہی۔

دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ وقت کے ساتھ خطرات کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی۔ ابتدائی برسوں میں دہشت گرد گروہ بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے، کھلے عام تربیتی مراکز قائم کرنے اور روایتی طرز کی لڑائی لڑنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ جدید دور میں چھوٹے مگر زیادہ منظم حملے، انٹیلی جنس پر مبنی اہداف کا انتخاب، خودکش حملے، دیسی ساختہ بم (IEDs)، بارودی سرنگیں، سنائپر حملے، ڈرونز، جدید مواصلاتی نظام، خفیہ نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا دہشت گرد تنظیموں کی نئی حکمت عملی کا حصہ بن گئے۔ اس تبدیلی نے ریاستی اداروں کو بھی اپنی حکمت عملی جدید خطوط پر استوار کرنے پر مجبور کیا۔

حالیہ برسوں، خصوصاً 2024 سے 2026 کے دوران، پاکستان کو دوبارہ بعض پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے جہاں سکیورٹی فورسز، پولیس، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کو متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان، بنوں، باجوڑ، خیبر، لکی مروت اور دیگر سرحدی اضلاع میں عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا جبکہ بلوچستان میں ریلوے، شاہراہوں، سکیورٹی قافلوں اور اقتصادی منصوبوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ دونوں صوبے مجموعی دہشت گردانہ واقعات اور جانی نقصانات کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا جغرافیہ اگرچہ محدود ہوا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ان حالات میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کا محور روایتی فوجی آپریشنز سے بڑھا کر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں پر منتقل کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق آپریشنز کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنایا جا سکے۔ جدید نگرانی کے نظام، فضائی معاونت، سیٹلائٹ معلومات، الیکٹرانک سرویلنس، سائبر انٹیلی جنس اور بین الادارہ تعاون نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی شناخت اور ان کے خلاف بروقت کارروائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان نے سرحدی نظم و نسق کو بھی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے آلات، بائیومیٹرک نظام، مربوط بارڈر مینجمنٹ اور قانونی سرحدی نقل و حرکت کو فروغ دینے کے اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد غیر قانونی آمدورفت، اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گرد عناصر کی دراندازی اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے استعمال کو محدود کرنا ہے۔ اگرچہ سرحدی انتظامات نے سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری پیدا کی ہے، تاہم جغرافیائی پیچیدگیوں اور خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث یہ عمل مسلسل توجہ اور وسائل کا متقاضی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک بڑا پہلو اس کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ اس طویل تنازع نے پاکستان کی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالا۔ دفاعی اخراجات میں اضافہ، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، سیاحت کی صنعت کو نقصان، صنعتی سرگرمیوں پر اثرات اور متاثرہ علاقوں کی بحالی پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ اس کے باوجود ریاست نے بنیادی انفراسٹرکچر، اقتصادی راہداریوں، توانائی منصوبوں اور قومی ترقیاتی پروگراموں کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دی تاکہ معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) سمیت اہم منصوبوں کے تحفظ کے لیے خصوصی سکیورٹی ڈویژنز اور مربوط حفاظتی انتظامات اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستانی معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، متعدد علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، کاروبار بند ہوئے اور نفسیاتی و سماجی مسائل نے جنم لیا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے متاثرہ علاقوں کی بحالی، تعلیم، روزگار، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں، سماجی انصاف، مؤثر طرز حکمرانی اور انتہاپسندانہ بیانیے کے تدارک کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین قومی سلامتی اب انسداد دہشت گردی کو صرف فوجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی قومی چیلنج قرار دیتے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط تعاون، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ، پولیس کی استعداد کار میں اضافہ، عدالتی نظام کی مضبوطی، انسداد دہشت گردی قوانین پر مؤثر عملدرآمد، سائبر نگرانی، مالی معاونت کے ذرائع کی روک تھام اور مقامی سطح پر کمیونٹی شمولیت انتہائی اہم عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اصلاحات، مذہبی ہم آہنگی، انتہاپسندانہ نظریات کے انسداد اور نوجوان نسل کے لیے مثبت معاشی مواقع بھی طویل المدتی امن کے لیے ناگزیر قرار دیے جاتے ہیں۔

جدید دور میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، چہرہ شناسی، اسمارٹ سرویلنس، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، ڈرون نگرانی اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس جیسے جدید نظام بھی قومی سلامتی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف سکیورٹی ادارے ان ٹیکنالوجیز کو دہشت گردی کی روک تھام، خطرات کی پیشگی نشاندہی، ہجوم کی نگرانی، حساس تنصیبات کے تحفظ اور فوری ردعمل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ٹیکنالوجی اور انسانی انٹیلی جنس کا امتزاج انسداد دہشت گردی کی کامیابی میں مزید اہم کردار ادا کرے گا۔

پاکستانی ریاست اور عسکری قیادت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ قومی اتحاد، سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی، قانون کی حکمرانی اور عوامی تعاون ہی اس جنگ کی مستقل کامیابی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مضبوط ریاستی اداروں، مؤثر حکمرانی، معاشی مواقع، سماجی انصاف اور قومی یکجہتی سے بھی کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے ہزاروں شہداء کا لہو اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ امن اور سلامتی کی قیمت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ ان قربانیوں نے ریاست کو دہشت گردی کے خلاف کھڑا رہنے کا حوصلہ دیا اور قوم کو یہ پیغام دیا کہ داخلی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ سکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں اور دہشت گرد گروہ وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں، لیکن ریاستی اداروں کی مسلسل کارروائیاں، بہتر انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی، سرحدی نظم و نسق اور قومی عزم اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد جاری رہے گی۔ پاکستان کی تاریخ میں ان تمام شہداء اور غازیوں کی قربانیاں ہمیشہ قومی استقامت، حوصلے اور امن کی جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد رکھی جائیں گی، جبکہ ایک محفوظ، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب انہی قربانیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button