
یادگارِ الفتح کا افتتاح، معرکۂ حق کی فتح اور شہداء کو خراجِ تحسین
تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب، قومی اتحاد، دفاعِ وطن، کشمیر، فلسطین اور نوجوانوں کے مستقبل پر اہم پیغام
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں یادگارِ الفتح کی پُروقار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملک کی اعلیٰ ترین سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ یادگارِ الفتح کو مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے معرکۂ حق کے دوران حاصل ہونے والی کامیابی، دفاعِ وطن میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور ملک کے دفاع کے لیے خدمات انجام دینے والے غازیوں کی قربانیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔
تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
یادگار کی افتتاحی تقریب میں قومی جذبے، حب الوطنی اور دفاعِ وطن کے عزم کا بھرپور اظہار کیا گیا، جبکہ شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
آٹھ ماہ میں یادگارِ الفتح کی تعمیر مکمل
یادگارِ الفتح کی تعمیر کا منصوبہ انتہائی مختصر مدت میں مکمل کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر منصوبے سے وابستہ انجینئرز، مزدوروں اور تمام متعلقہ افراد کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے ٹیم نے دن رات کام کیا اور محض آٹھ ماہ کی مدت میں یادگار کی تعمیر مکمل کرکے ایک اہم قومی منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
انہوں نے منصوبے میں حصہ لینے والے تمام افراد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یادگار کی تعمیر صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ قومی جذبے اور دفاعِ وطن سے وابستہ احساسات کی عکاس ہے۔
یادگار محض اینٹوں اور مارٹر کا ڈھانچہ نہیں: وزیراعظم
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یادگارِ الفتح محض اینٹوں اور مارٹر سے تعمیر کیا گیا کوئی عام ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ وطن کے ان عظیم سپوتوں کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ یادگار شہداء کی قربانیوں، غازیوں کی بہادری اور پاکستانی قوم کے اس اجتماعی جذبے کی علامت ہے جو مشکل وقت میں ملک کے دفاع کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ قوم نے مشکل ترین وقت میں جس اتحاد، یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ پاکستان کی طاقت کا مظہر ہے۔
شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت
تقریب میں ملک کے شہداء کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کی قربانی دینے والے شہداء قوم کے حقیقی ہیرو ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔
انہوں نے غازیوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کے دفاع کی تاریخ بہادری، قربانی اور عزم کی لازوال داستانوں سے عبارت ہے۔
یادگارِ الفتح کا بنیادی مقصد بھی انہی قربانیوں کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے تاکہ نوجوان پاکستان کی تاریخ اور دفاعِ وطن کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ رہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے ان کی جرات، عزم اور پیشہ ورانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی دفاع کے نازک مرحلے میں مسلح افواج کی قیادت نے ذمہ داری، عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے ان کی قربانیاں قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
پاک فضائیہ کے کردار کو خراجِ تحسین
وزیراعظم نے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ کے کردار کو بھی سراہا۔
انہوں نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاع قومی سلامتی کا بنیادی حصہ ہے اور پاک فضائیہ نے ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔
پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف
وزیراعظم نے چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی سربراہی میں پاک بحریہ کی خدمات اور سمندری سرحدوں کے دفاع کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بحری سلامتی اور سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں انتہائی اہم ہیں۔
یادگارِ الفتح کے منفرد تعمیراتی اور علامتی پہلو
افتتاحی تقریب کے دوران یادگارِ الفتح کی تعمیر اور اس کے مختلف مراحل پر مبنی ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جس میں آٹھ ماہ کے تعمیراتی سفر اور منصوبے سے وابستہ ٹیم کی کاوشوں کو اجاگر کیا گیا۔
یادگار کے ڈیزائن میں مختلف علامتی پہلو شامل کیے گئے ہیں جو پاکستان کی قومی شناخت، اسلامی اقدار اور دفاعی قوت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یادگار میں موجود پانچ محرابوں کو اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پانچ اہم ستونوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان میں حکومت، فوج، میڈیا، عوام اور نظریۂ پاکستان کو علامتی طور پر شامل کیا گیا ہے۔
یادگار کے ڈیزائن میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج یعنی پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے باہمی ربط اور اتحاد کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔
جدید دفاعی صلاحیتوں کی عکاسی
یادگارِ الفتح میں دفاع کے روایتی پہلوؤں کے ساتھ جدید دفاعی شعبوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
اس میں سائبر دفاع اور خلائی جنگ سمیت جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی صلاحیتوں کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ جدید دور میں قومی دفاع صرف روایتی میدان تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس اور خلائی شعبے بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
قومی ترانے سے تقریب کا آغاز
افتتاحی تقریب کا آغاز ملٹری بینڈ کی جانب سے قومی ترانہ پیش کرنے سے ہوا۔ قومی ترانے کے دوران سول اور عسکری قیادت احتراماً کھڑی رہی۔
قومی ترانے کی دھن نے تقریب میں موجود شرکاء کے اندر حب الوطنی کے جذبات کو مزید اجاگر کیا اور ماحول قومی جذبے سے بھر گیا۔
داستانِ عشقِ وطن: معرکۂ حق، لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو
تقریب کے دوران "داستانِ عشقِ وطن: معرکۂ حق” کے عنوان سے شاندار لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو پیش کیا گیا۔
پروجیکشن میپنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے یادگار کی سطح پر مختلف متحرک تصاویر اور مناظر پیش کیے گئے، جن میں قومی تاریخ، دفاعِ وطن، شہداء کی قربانیوں اور قومی جذبے کی عکاسی کی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی اور روشنیوں کے امتزاج سے پیش کیے جانے والے اس شو نے تقریب میں موجود شرکاء کی خصوصی توجہ حاصل کی۔
پاک فضائیہ کا شاندار فلائی پاسٹ
تقریب کا ایک اہم اور دلکش منظر پاک فضائیہ کے جدید لڑاکا طیاروں کا فلائی پاسٹ تھا۔
لڑاکا طیاروں نے رات کے آسمان پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فضائی مظاہرہ پیش کیا جبکہ بعض طیاروں کی جانب سے فلیئرز چھوڑے جانے سے منظر مزید متاثر کن ہوگیا۔
فلائی پاسٹ نے پاکستان کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور پاک فضائیہ کے پیشہ ورانہ معیار کی علامتی عکاسی کی۔
صدر اور وزیراعظم کو یادگاری سووینئرز پیش
تقریب کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو یادگاری سووینئرز پیش کیے۔
یادگاری تحائف پیش کرنے کا یہ مرحلہ تقریب کے اہم رسمی لمحات میں شامل رہا اور یادگارِ الفتح کی افتتاحی تقریب کی یاد کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔
پرچم کشائی اور شاندار آتش بازی
تقریب کے اختتامی مرحلے میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یادگارِ الفتح پر پرچم کشائی کی۔
اس موقع پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا جبکہ پس منظر میں قومی ترانہ گونجتا رہا۔ آتش بازی اور قومی ترانے کے امتزاج نے تقریب کو ایک پُروقار اور یادگار اختتام دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال پر اہم خطاب
کشمیر کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا بنیادی حق حاصل نہیں ہوجاتا۔
فلسطینی عوام کے منصفانہ حق کی حمایت
وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا اور فلسطینی عوام کے منصفانہ حقوق اور مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کا مشورہ
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی چاہتا ہے، تاہم پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال قابلِ قبول نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں امن ضروری ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کا سفارتی کردار اور عالمی تعلقات
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی سطح پر کردار کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون
وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور اس میں ترکیہ کی شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مسلم دنیا کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے مکہ معاہدے کو خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
پاک چین دوستی کا تذکرہ
وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے دیرینہ اور آزمودہ برادرانہ تعلقات کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر قائم ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری کا حوالہ
وزیراعظم نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں
آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دینے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور پاکستان کو بھی جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم، ہنر اور ٹیکنالوجی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
معرکۂ حق والا قومی اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اپیل کی کہ جس اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ معرکۂ حق کے دوران کیا گیا، اسے قومی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور ذاتی اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، تاہم اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے قوم کو محبت، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے باہمی اختلافات کو کم کرنا اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
پاکستان ہم سب کا ہے
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کسی ایک فرد، جماعت یا طبقے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ملک ہے۔
انہوں نے قوم پر زور دیا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کے مطابق اختلافِ رائے ایک بنیادی حق ہے، لیکن جب اختلاف دشمنی میں تبدیل ہوجائے تو قومی طاقت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس لیے قومی زندگی میں محبت، برداشت، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔
یادگارِ الفتح: ماضی کی قربانیوں سے مستقبل کے عزم تک
یادگارِ الفتح کی افتتاحی تقریب مجموعی طور پر شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین، غازیوں کی بہادری کے اعتراف، مسلح افواج کی پیشہ ورانہ خدمات اور پاکستانی قوم کے اتحاد کے عزم کا مظہر بنی۔
آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں تعمیر ہونے والی یہ یادگار پاکستان کی دفاعی تاریخ کے ایک اہم باب کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہے کہ قومی خودمختاری، سلامتی اور آزادی کی حفاظت کے لیے اتحاد، قربانی، عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر قومی پرچم کی سربلندی، قومی ترانے، شاندار آتش بازی اور عسکری قیادت کی موجودگی نے اس تاریخی موقع کو مزید یادگار بنا دیا۔
یادگارِ الفتح اب شہداء کی قربانیوں، معرکۂ حق کی یاد، قومی اتحاد اور ایک مضبوط و خودمختار پاکستان کے عزم کی علامت کے طور پر وفاقی دارالحکومت میں نمایاں حیثیت اختیار کرچکی ہے۔



