
نادرا نے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا
نادرا کے مطابق نئے کارڈ کی تیاری میں پاکستان میں تیار کردہ پولی کاربونیٹ میٹریئل استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اس اقدام سے درآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار بھی ختم کردیا گیا ہے۔
ناصف عوان-ادارت
خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت، درآمدی مائیکرو چِپ کا استعمال ختم؛ اسمارٹ فون اور پاک آئی ڈی ایپ سے شناخت کی تصدیق ممکن ہوگی
اسلام آباد، 14 اگست 2026: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر قومی شناختی نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کراتے ہوئے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ جاری کردیا ہے۔
نئے شناختی کارڈ کو خود انحصاری، ڈیجیٹل شناخت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے کارڈ میں روایتی درآمدی مائیکرو چِپ کے بجائے ایک محفوظ کیو آر کوڈ شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مجاز ادارے اور متعلقہ حکام عام اسمارٹ فون یا مخصوص تصدیقی نظام کی مدد سے شناختی معلومات کی جانچ کرسکیں گے۔
نادرا کے مطابق نئے کارڈ کی تیاری میں پاکستان میں تیار کردہ پولی کاربونیٹ میٹریئل استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اس اقدام سے درآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار بھی ختم کردیا گیا ہے۔
چِپ کے بغیر نیا شناختی کارڈ متعارف
نادرا کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قومی شناختی کارڈ کی بنیادی خصوصیت اس کا چِپ کے بغیر ڈیزائن ہے۔
اس نئے نظام میں شناختی کارڈ کے اندر درآمدی مائیکرو چِپ نصب کرنے کے بجائے محفوظ کیو آر کوڈ شامل کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے قومی شناختی نظام میں مقامی ٹیکنالوجی اور مقامی طور پر تیار کردہ مواد کے استعمال کو فروغ ملے گا۔
نادرا کے مطابق نئے شناختی کارڈ کا مقصد شہریوں کو محفوظ، آسان اور جدید شناختی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی شناختی نظام میں خود انحصاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان میں تیار کردہ پولی کاربونیٹ شناختی کارڈ
نیا شناختی کارڈ پولی کاربونیٹ میٹریئل پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔
پولی کاربونیٹ ایک مضبوط اور پائیدار میٹریئل ہے جسے شناختی دستاویزات اور دیگر اہم کارڈز کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر اس کارڈ کی تیاری سے پاکستان میں شناختی دستاویزات کی تیاری کے عمل میں مقامی صلاحیتوں کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اس اقدام کو نادرا کی جانب سے مقامی صنعت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
کیو آر کوڈ کے ذریعے شناخت کی تصدیق ممکن ہوگی
نئے قومی شناختی کارڈ میں موجود محفوظ کیو آر کوڈ کے ذریعے شناختی کارڈ کی تصدیق کا عمل مزید آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
نادرا کے مطابق کیو آر کوڈ کو عام اسمارٹ فون کے ذریعے بھی پڑھا جاسکے گا، جبکہ مجاز اداروں کو شناخت کی تصدیق کے لیے متعلقہ سافٹ ویئر بھی فراہم کیا جائے گا۔
اس نظام کے ذریعے شناختی کارڈ پر موجود معلومات کی دستی جانچ کے بجائے ڈیجیٹل طریقے سے تصدیق ممکن ہوسکے گی۔
پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے بھی تصدیق ہوگی
نئے شناختی کارڈ کے کیو آر کوڈ کی تصدیق کے لیے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کو بھی استعمال کیا جاسکے گا۔
شہری یا مجاز صارف نئے کارڈ پر موجود کیو آر کوڈ کو ایپ کے ذریعے اسکین کرکے متعلقہ شناختی معلومات کی تصدیق کرسکیں گے۔
یہ سہولت شناختی دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو زیادہ تیز اور ڈیجیٹل بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
کیو آر کوڈ میں شناختی معلومات اور تصویر شامل
نادرا کے مطابق نئے شناختی کارڈ کے کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر سے متعلقہ شناختی معلومات اور تصویر موجود ہوگی۔
اس کا مقصد شناختی معلومات کو ڈیجیٹل انداز میں قابلِ تصدیق بنانا ہے تاکہ متعلقہ اداروں کو شناخت کی جانچ کے دوران معلومات کے درست اندراج اور تصدیق میں سہولت حاصل ہو۔
کیو آر کوڈ کے ذریعے نام، پتہ اور دیگر شناختی معلومات کے ڈیٹا اندراج میں ہونے والی انسانی غلطیوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں میں درج ہوگا
نئے شناختی کارڈ میں شہری کی اہم معلومات کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج کیا جائے گا۔
اس اقدام سے شناختی کارڈ کو مختلف سرکاری، کاروباری اور عوامی خدمات میں استعمال کرنے کے دوران معلومات کو سمجھنے اور تصدیق کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔
اردو اور انگریزی میں معلومات کی موجودگی قومی شناختی دستاویز کو مقامی ضرورت اور بین الاقوامی استعمال، دونوں حوالوں سے زیادہ موزوں بناتی ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کو تصدیقی نظام فراہم کیا جائے گا
نادرا نئے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ کی تصدیق کے لیے مختلف مجاز اداروں کو متعلقہ سافٹ ویئر فراہم کرے گا۔
ان اداروں میں:
- ٹیلی کام کمپنیاں
- بینک
- ہسپتال
- پاکستان ریلوے
- پولیس
- دیگر مجاز ادارے
شامل ہیں۔
ان اداروں کو کیو آر کوڈ کی بنیاد پر شناختی معلومات کی تصدیق کے لیے مخصوص سافٹ ویئر فراہم کیے جانے کا مقصد شناختی دستاویز کی جانچ کے عمل کو مزید مربوط اور مؤثر بنانا ہے۔
ڈیٹا اندراج میں غلطیوں میں کمی کا امکان
نادرا کے مطابق نئے نظام کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہوگا کہ شہری کی شناختی معلومات کو ڈیجیٹل طور پر پڑھنے کے باعث نام، پتہ اور دیگر معلومات کے اندراج میں انسانی غلطیوں کے امکانات کم ہوں گے۔
مختلف اداروں میں شناختی معلومات کے دستی اندراج کے دوران بعض اوقات ٹائپنگ یا ڈیٹا انٹری کی غلطیاں سامنے آتی ہیں۔ کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق کا نظام اس عمل کو زیادہ خودکار بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
خاندان نمبر اور خصوصی شناختی نشانات بھی شامل ہوں گے
نئے شناختی کارڈ پر شہری کی شناخت سے متعلق بنیادی معلومات کے ساتھ خاندان نمبر بھی درج ہوگا۔
اس کے علاوہ مخصوص زمروں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے خصوصی نشانات بھی کارڈ پر موجود ہوں گے۔
ان میں:
- معذور افراد
- بزرگ شہری
- اعضاء عطیہ کرنے والے افراد
- آزاد جموں و کشمیر کے شہری
شامل ہیں۔
ان خصوصی نشانات کا مقصد متعلقہ شناختی حیثیت کو کارڈ پر نمایاں کرنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں کو شناخت میں سہولت حاصل ہوسکے۔
موجودہ ٹیسلن شناختی کارڈ کی جگہ مرحلہ وار نیا کارڈ
نادرا کے مطابق کیو آر کوڈ پر مبنی نیا شناختی کارڈ 14 اگست 2026 سے مرحلہ وار جاری کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں یہ نیا کارڈ موجودہ چِپ کے بغیر ٹیسلن شناختی کارڈ کی جگہ جاری کیا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شناختی کارڈ کے نظام میں تبدیلی فوری طور پر تمام اقسام کے کارڈز پر نافذ نہیں ہوگی بلکہ اسے مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔
جنوری 2027 سے تمام اقسام کے شناختی کارڈز کے لیے نیا نظام
نادرا کے منصوبے کے مطابق جنوری 2027 سے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا کارڈ تمام اقسام کے قومی شناختی کارڈز کے لیے جاری کیا جائے گا۔
اس مرحلے میں NICOP اور جووینائل کارڈ بھی نئے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی نظام کا حصہ بن جائیں گے۔
یوں مستقبل میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور بچوں کے لیے جاری کیے جانے والے متعلقہ شناختی کارڈز میں بھی اسی جدید ڈیجیٹل تصدیقی نظام کو شامل کیا جائے گا۔
پاکستان اوریجن کارڈ بھی نئے نظام میں منتقل ہوگا
نادرا کے منصوبے کے آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کو بھی چِپ کے بغیر کیو آر کوڈ پر مبنی نئے شناختی کارڈ نظام میں منتقل کیا جائے گا۔
اس طرح مرحلہ وار پاکستان کے قومی شناختی دستاویزات کے مختلف زمروں کو ایک جدید اور یکساں ڈیجیٹل تصدیقی نظام سے منسلک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پہلے سے جاری شناختی کارڈ بدستور کارآمد رہیں گے
نادرا نے شہریوں کے لیے ایک اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے جاری تمام شناختی کارڈ اپنی مقررہ تاریخِ میعاد تک بدستور کارآمد رہیں گے۔
یعنی نئے کارڈ کے اجرا کے ساتھ موجودہ کارڈ فوری طور پر غیر مؤثر نہیں ہوں گے اور شہری اپنے موجودہ شناختی کارڈ کو اس کی مقررہ میعاد تک استعمال کرسکیں گے۔
یہ وضاحت شہریوں کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ نئے نظام کے آغاز کے بعد فوری طور پر موجودہ شناختی کارڈ تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی، جب تک وہ اپنی میعاد کے اندر ہیں۔
درآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار ختم کرنے کی جانب قدم
نئے شناختی کارڈ کی ایک اہم خصوصیت درآمدی مائیکرو چِپ کا خاتمہ ہے۔
نادرا کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ پولی کاربونیٹ کارڈ اور محفوظ کیو آر کوڈ کے استعمال سے قومی شناختی دستاویزات میں درآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس اقدام کو پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری اور مقامی صلاحیتوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم
کیو آر کوڈ پر مبنی قومی شناختی کارڈ کا اجرا پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کے نظام کو مزید جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں شناختی دستاویزات کی تصدیق روزمرہ معاملات کا اہم حصہ ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، صحت، سفر، پولیس اور دیگر شعبوں میں شناخت کی بروقت اور درست تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
نئے نظام کے تحت کیو آر کوڈ کے ذریعے شناخت کی ڈیجیٹل تصدیق ان شعبوں میں دستاویزات کی جانچ کے عمل کو زیادہ تیز اور مربوط بنانے میں معاون ہوسکتی ہے۔
قومی شناختی نظام میں نئے دور کا آغاز
نادرا کا نیا کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ پاکستان کے قومی شناختی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ کارڈ، درآمدی مائیکرو چِپ کے متبادل کے طور پر محفوظ کیو آر کوڈ، موبائل ایپ کے ذریعے تصدیق اور مختلف اداروں کے لیے ڈیجیٹل ویری فکیشن سافٹ ویئر اس نئے نظام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
14 اگست 2026 سے مرحلہ وار آغاز اور جنوری 2027 سے NICOP اور جووینائل کارڈ سمیت دیگر اقسام کے شناختی کارڈز تک توسیع کے منصوبے کے ساتھ نادرا نے قومی شناختی نظام کو مزید مقامی، ڈیجیٹل اور خود انحصار بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔



