
نقار خانے میں طوطی کی آواز !……..ناصف اعوان
یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اس وقت جو حکمران ہیں وہ بھی آنے سے پہلے اپنے آشیر بادیوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ معیشت کو مستحکم کر دیں گے جوکہ مستحکم ہو رہی تھی معاملات مملکت بہ احسن طریق چل رہے تھے
وہ دن کب آئیں گے جب نسیم صبح کے جھونکے ہمارے دل و دماغ کو مسحور کر رہے ہوں گے کچھ معلوم نہیں۔ فی الحال معاشی مسائل نے ذہنوں کو منتشر کر رکھا ہے۔ سیاست ہے کہ اس میں استحکام آتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ سیاست دان اپنی بقاء کے لئے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ طمع و لالچ کے حصار میں گِھرے ان سیاستدانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں جو حالات کی سنگینی سے کراہ رہے ہیں سسک رہے ہیں۔ معذرت کے ساتھ انہیں اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے طویل عرصہ ہو چکا ہے وہ اقتدار کی چاند راتوں کا لطف لینے میں اتنے محو ہیں کہ ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ منظر کوئی بھی ہو دائمی نہیں ہوتا۔ اسے ایک نہ ایک روز بدل جانا ہوتا ہے مگر اہل اقتدار سمجھتے ہیں کہ یہ منظر دل کشا اسی طرح رہے گا ۔ انسانی تاریخ ہو یا ملکی تاریخ اس میں ٹھہراؤ کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ ہم نے اپنی زندگی میں اقتدار کو ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل ہوتے پایا ہے۔ کبھی منتخب اور کبھی طالع آزمائی کی صورت میں ۔ اگرچہ ہر طالع آزما نے آٹھ آٹھ دس دس برس تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی مگر اسے آخر کار تخت سے اترنا ہی پڑا جو منتخب ہو کر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے وہ تو ایک آدھ بار ہی پانچ برس پورے کر سکے مگر وقفے وقفے سے کچھ نے تیس چالیس برس تک حکمرانی کے ”فرائض” ادا کیے۔ حکمران جو بھی بنا اس نے عوام کو بیوقوف سمجھا یا بنایا جبکہ وہ اپنی سادگی اور اس پربھروسا کی بنا پر اس سے امیدیں وابستہ کر لیتے۔ انہیں کیا علم کہ ان کے حکمران ان سے ایک فیصد بھی مخلص نہیں‘ انہیں تو اختیارات اور ریاستی پروٹوکول چاہیے ہوتا تھا لہذا وہ سادہ لوح لوگوں سے جو وعدے کرتے محض عارضی خوشی ہی دیتے پھر جب وہ چند برس گزرنے کے بعد سرگوشیاں اور تبادلہ خیال کرتے کہ ابھی تک ان کے مسائل کو کیوں حل نہیں کیا جا رہا تو حاکمان وقت چھوٹے چھوٹے سطحی مسائل حل کر دیتے اور رخصت ہو جاتے۔
یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اس وقت جو حکمران ہیں وہ بھی آنے سے پہلے اپنے آشیر بادیوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ معیشت کو مستحکم کر دیں گے جوکہ مستحکم ہو رہی تھی معاملات مملکت بہ احسن طریق چل رہے تھے مگر یہ انہیں منظور نہیں تھا کہ کوئی لوگوں کی امیدوں کا محور بن جائے۔ اب جب تین چار برس بیت چکے ہیں تو آرزؤں کی بستی میں ہر سمت اندھیرا پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ روشنی آئے بھی تو کیسے کہ جب اسے روشن کرنے کا ارادہ ہی نہیں؟ وہ اپنی راہوں اور محلوں کو ہی روشن کریں گے لہذا وطن عزیز کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہے جن میں معاشی بحران شدید ہے۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں اپنے اعضا تک فروخت کر رہے ہیں۔ دو وقت کی روٹی کے حصول کے لئے زلیل وخوار ہو رہے ہیں۔ اب اگر وہ لب کھولتے ہیں تو انہیں خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے وہ چپ کیسے ہوں ان کی زندگیوں میں سکون ہی نہیں اطمینان ہی نہیں لہذا ان کے اندر بھونچال آرہے ہیں مگر اہل اقتدار کو اس کی کوئی پروا نہیں وہ اپنے عشرت کدوں میں آرام کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ اپنی تجوریاں بھی بھرتے جا رہے ہیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور ان کے دماغ سے یہ چیز چمٹی ہوئی ہے کہ انہوں نے اقتدار میں ہر صورت رہنا ہے جس کے لئے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ جو عوام ہیں وہ ان سے چھٹکارا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان پر معیشت کو ٹھیک کرنے کی زمہ داری ڈال دی گئی ہے لہذا آئے روز ان پر ٹیکسوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے۔ پٹرول مہنگا کیا جا رہا ہے۔ مہنگائی مافیا اودھم مچائے ہوئے ہے۔ رشوت سر عام لی جاتی ہے۔ بیوروکریسی جن کےلئے ہے انہیں گھٹیا اور کمتر تصور کرتی ہے۔ ہم اپنے کالموں میں تواتر کے ساتھ یہ عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ ملک میں چونکہ سیاسی عدم استحکام ہے اس لئے ترقی کی رفتار سست بہت سست ہے جو عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام ہے پھر بنیادی ترقی کا دُور دُور تک نام و نشان نہیں یہی وجہ ہے کہ جو قرضہ لیا جاتا ہے اور جن منصوبوں کے لئے لیا جاتا ہے ان سے قسطوں کی ادائی بہ مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ زیادہ تر غیر پیداواری ہوتے ہیں لہذا عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پٹرول کی مد سے اتنا پیسا اکٹھا کیا جا رہا ہے کہ آسانی سے قرضہ اتر سکتا ہے مگر دانستہ ایسا نہیں کیا جاتا تاکہ لوگ دباؤ میں رہیں مگر ایسا تادیر نہیں ہو سکتا کہ ہر دور میں جب بھی لوگوں کو نظر انداز کیا گیا۔ وہ ایک مدت تک تو خاموش رہے مگر پھر ایسے اٹھے کہ سب کچھ بدل کے رکھ دیا لہذا یہ جو روک ٹوک ہو رہی ہے اور ایک ہی طرز پے حکمرانی کی جا رہی ہے زیادہ عرصہ نہیں رہ سکتی کیونکہ عوامی اٹھان کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ تنگ آچکے ہیں اس نظام سے ان روایتی چہروں سے کہ بار بار وہ ان کے سامنے آجاتے ہیں اور موجیں کرتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے اتنی دولت جمع کرلی ہے کہ ان کی کئی نسلیں اس سے مستفید ہو تی رہیں گی۔ یورپ کے موسموں سےلطف اٹھاتی رہیں گی مگر جو حال یہاں کے لوگوں کا ہو چکا ہے وہ تا حیات انہیں کوستے رہیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ”کاواں دے آکھے ڈھگے کدی نئیں مردے“ (کوؤں کے کہنے سے بیل کبھی نہیں مرتے )لہذا وہ اپنی دُھن میں مگن ہیں۔
بہرحال باتیں ہماری کڑوی ہیں مگر ہیں حقیقت پر مبنی لہذا سوچنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے آخر کار اسے تمام ہونا ہے تو کیوں نہ اسے محبت و خلوص کے ساتھ گزارا جائے جو دولت کے ڈھیر لگا رہے ہیں انہوں نے بھی سدا یہاں نہیں رہنا انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عوام کو لاٹھی کی نہیں پیار کی زبان سمجھ آتی ہے پھر وہ اسے کبھی نہیں بھلاتے اسے صدیوں یاد رکھتے ہیں۔ یہاں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اس وقت جو برتاؤ ایک سیاسی جماعت اور اس کے کارکنوں سے روا رکھا جارہا ہے۔ اس کی بجائے نرمی و محبت کا رویہ اختیار کیا جائے ۔ اس سے مغربی اور یورپی ملکوں کو مثبت پیغام جائے گا جو سرمایہ کار ہماری معیشت کو مضبوط بنانے کےلئے یہاں نہیں آرہے وہ بھی ادھر کا رخ کریں گے ۔ یہ بات ہم ایسے کم عقلوں کو معلوم ہے تو شہ دماغوں کو کیوں نہیں لہذا سب اپنی اناؤں کے دائرے سے باہر نکلیں۔ مل کر ملک کو ترقی کے میدان میں اتنا آگے لے جائیں کہ دنیا حیران رہ جائے ایسا قطعی مشکل نہیں جب ہم بڑے بڑے کام کہ ملکوں سے دفاعی کروانے کی پوزیشن میں ہیں تو عوام پاکستان کو قریب لانے کے لئے کیا کچھ نہیں کر سکتے۔


