
سید عاطف ندیم-ادارت
بھارتی مؤقف کی نئی تشکیل کی کوشش؟
اسلام آباد: مارکۂ حق کے ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھارت کی جانب سے 2025ء کے پاک بھارت فوجی تصادم سے متعلق اپنے بیانیے کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوششوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی مواد تخلیق کاروں کی جانب سے ’’آپریشن سندھور‘‘ کے حوالے سے تیار کی گئی ایک دستاویزی فلم میں واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہوئے بعض ایسے دعوے کیے گئے ہیں جو خود بھارتی بیانات اور واقعات کی زمانی ترتیب سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستانی تجزیے کے مطابق مذکورہ فلم میں منتخب انٹرویوز، جذباتی بیانیے، سنیما طرز کی منظر کشی اور ڈرامائی انداز اختیار کرکے 2025ء کے فوجی واقعات کو ایک ایسے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں بھارت کی عسکری کارروائی کو مکمل کامیابی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
تاہم پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ جنگی واقعات کی حقیقی تصویر محض دستاویزی فلم یا سنیما طرز کی تشکیل نو سے تبدیل نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کا تعین زمینی حقائق، فوجی کارروائیوں، سفارتی رابطوں اور دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات سے ہوتا ہے۔
پہلگام واقعے اور آپریشن سندھور کے درمیان تعلق پر سوال
دستاویزی فلم کے حوالے سے پاکستانی تجزیے میں سب سے اہم سوال پہلگام واقعے اور ’’آپریشن سندھور‘‘ کے درمیان قائم کیے گئے تعلق سے متعلق اٹھایا گیا ہے۔
فلم میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کے 16 اپریل 2025ء کے خطاب اور 22 اپریل 2025ء کو پیش آنے والے پہلگام واقعے کے درمیان تعلق قائم کرنے کی کوشش کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اس نوعیت کا تعلق قائم کرنا محض زمانی قربت کو بنیاد بنا کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتا ہے جس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔
مزید اہم سوال بھارت کے بعد کے اپنے دعووں سے متعلق اٹھایا گیا ہے۔ بھارتی جانب سے بعد میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ پہلگام واقعے کے تین مبینہ ذمہ دار افراد کو 28 جولائی 2025ء کو شناخت کرکے ہلاک کیا گیا۔
پاکستانی تجزیے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر بھارت کے مطابق پہلگام واقعے کے مبینہ ذمہ دار افراد کی شناخت اور کارروائی جولائی میں ہوئی، تو پھر 7 مئی 2025ء کو شروع کیے گئے ’’آپریشن سندھور‘‘ کو انہی افراد کے خلاف کارروائی یا سزا کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟
یہ زمانی تضاد بھارتی بیانیے کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔
’’100 فیصد مشن کامیابی‘‘ کے دعوے پر بھی بحث
دستاویزی فلم میں بھارتی فوجی کارروائی کو مکمل کامیابی قرار دینے کے دعوے کو بھی پاکستانی مؤقف میں چیلنج کیا گیا ہے۔
پاکستان کے مطابق مارکۂ حق کے دوران بھارتی فوجی کارروائی کا مؤثر جواب دیا گیا اور پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے متعدد بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔
پاکستانی بیانیے کے مطابق اس کے بعد آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارت کے متعدد فوجی اہداف کو درست نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی میں گائیڈڈ راکٹ، میزائل، پاک فضائیہ کا پریسیژن گولہ بارود، طویل فاصلے تک مار کرنے والا اسلحہ اور درست توپ خانے سمیت مختلف عسکری صلاحیتیں استعمال کی گئیں۔
پاکستانی مؤقف میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد بھارتی فوجی تنصیبات، پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے مراکز اور دہشت گردی سے متعلق مبینہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا۔
اسی تناظر میں پاکستانی تجزیہ کار سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ایک فریق کو مکمل اور یکطرفہ کامیابی حاصل ہوئی تھی تو پھر مخالف جانب سے مسلسل فوجی ردعمل، میزائل اور ڈرون سرگرمیوں اور فضائی دفاعی نظام کے استعمال کے اعترافات کی کیا توجیہ پیش کی جائے گی؟
بھارتی فوجی قیادت کے اعترافات بھی اہم
پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی دستاویزی فلم میں ایک طرف پاکستان کی فیصلہ کن شکست کا تاثر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے پاکستانی میزائلوں، ڈرونز اور فضائی سرگرمیوں کا ذکر بھی موجود ہے۔
لائن آف کنٹرول کے مختلف مقامات پر فوجی سرگرمیوں، فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیے جانے اور پاکستانی حملوں کے حوالے سے سامنے آنے والے بھارتی بیانات اس دعوے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ کارروائی مکمل طور پر یکطرفہ نوعیت کی تھی۔
پاکستانی تجزیے کے مطابق جنگ کے دوران اگر ایک فریق کو مکمل غلبہ حاصل ہو تو دوسرے فریق کی مسلسل جوابی کارروائیوں، فضائی سرگرمیوں اور دفاعی نظام کی فعال تعیناتی کی وضاحت بھی ضروری ہوتی ہے۔
دشمنی کے خاتمے کا معاملہ
دستاویزی فلم کے حوالے سے ایک اور اہم نکتہ دشمنی کے اختتام سے متعلق بیان کیا گیا ہے۔
پاکستانی تجزیے کے مطابق فلم کے اپنے بیانیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کشیدگی کا خاتمہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے بعد ہوا۔
اگر جنگ یا فوجی تصادم کا اختتام باہمی فوجی رابطے اور اتفاق رائے سے ہوا تو اسے صرف ایک ملک کی یکطرفہ عسکری فتح کے طور پر پیش کرنا سوالات پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح امریکہ سمیت بیرونی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کشیدگی کم ہونے کے عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق جنگ بندی یا دشمنی کے خاتمے میں سفارتی کوششوں کے کردار کو بعد میں صرف یکطرفہ فوجی کامیابی کے طور پر پیش کرنا واقعات کی مکمل تصویر نہیں دیتا۔
’’ایگزٹ ونڈو‘‘ اور فوجی غلبے کے دعوے میں تضاد
پاکستانی تجزیے میں دستاویزی فلم کے ایک اور پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں ایک طرف بھارتی کارروائی کو انتہائی مؤثر، اچانک، درست اور مسلسل بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بھارت نے دانستہ طور پر کشیدگی کو محدود رکھا اور پاکستان کو تنازع سے نکلنے کا موقع فراہم کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں دعوے بیک وقت درست قرار دینے کے لیے مزید وضاحت درکار ہے۔
اگر کارروائی مکمل فوجی غلبے کی حامل تھی تو ’’ایگزٹ ونڈو‘‘ فراہم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر بھارت نے دانستہ طور پر کشیدگی محدود رکھی تو پھر مسلسل حملوں، جوابی کارروائیوں اور فوجی دباؤ کے دعووں کو کس تناظر میں دیکھا جائے؟
یہی تضادات پاکستانی مؤقف کے مطابق اس دستاویزی فلم کو غیر جانب دار فوجی تجزیے کے بجائے ایک مخصوص قومی بیانیے کی تشکیل کے قریب لے جاتے ہیں۔
سنیما طرز کی تشکیل نو پر بھی تنقید
پاکستانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ جنگی واقعات کو سنیما طرز کی منظرکشی، جذباتی موسیقی، ڈرامائی مکالموں اور منتخب مناظر کے ذریعے پیش کرنے سے ناظرین پر مخصوص تاثر تو قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے تاریخی اور عسکری حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔
دستاویزی فلموں میں جنگی واقعات کی تشکیل نو عام طور پر ناظرین کو واقعات سمجھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاہم جب کسی تشکیل نو کو حقیقی واقعے کے متبادل کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کے لیے مستند شواہد اور آزادانہ تصدیق کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پاکستانی تجزیے کے مطابق ’’آپریشن سندھور‘‘ کے حوالے سے تیار کردہ مواد میں بھی یہی سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ کون سے دعوے آزاد ذرائع، فوجی ریکارڈ یا قابل تصدیق شواہد سے ثابت ہوتے ہیں اور کون سے دعوے صرف بیانیہ تشکیل کا حصہ ہیں۔
جنگی نقصانات اور عسکری نتائج کا سوال
مارکۂ حق کے تناظر میں سب سے اہم سوال دونوں جانب کے عسکری نقصانات اور حقیقی نتائج کا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی فوجی کارروائی کا مؤثر جواب دیا اور بھارتی فضائیہ کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب بھارت نے اپنی کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اپنے اہداف کے حصول کا دعویٰ کیا۔
ایسی صورتحال میں کسی ایک فریق کے خود ساختہ دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے آزادانہ شواہد، سیٹلائٹ تصاویر، قابل تصدیق فوجی ریکارڈ، غیر جانب دار تجزیوں اور بین الاقوامی ذرائع سے دستیاب معلومات کا جائزہ ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
بھارتی بیانیے کی داخلی سیاست سے وابستگی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی ماحول میں حکومتیں عموماً اپنے عوام کے سامنے فوجی کارروائیوں کو کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اس عمل میں قومی حوصلے، سیاسی مقبولیت اور داخلی دباؤ جیسے عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ’’آپریشن سندھور‘‘ سے متعلق نئی دستاویزی فلم بھی اسی نوعیت کے ایک بیانیاتی عمل کا حصہ ہو سکتی ہے، جس کا مقصد 2025ء کے تنازع کو ایک مخصوص زاویے سے عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق کے لیے دستاویزی فلم کے مکمل مواد، اس میں پیش کیے گئے اصل انٹرویوز اور آزاد ذرائع سے شواہد کا تقابلی جائزہ ضروری ہوگا۔
پاکستان کا مؤقف: تاریخ کو سنیما کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا
پاکستانی مؤقف کے مطابق جنگی تاریخ کو ڈرامائی انداز میں دوبارہ پیش کرنے سے میدان جنگ کے نتائج تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ طیاروں کے نقصانات، میزائل حملوں، فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان، سفارتی رابطوں اور دشمنی کے خاتمے سے متعلق واقعات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ مارکۂ حق کے حوالے سے اس کا بیانیہ محض سیاسی دعووں پر مبنی نہیں بلکہ فوجی کارروائیوں، سفارتی رابطوں اور دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کسی بھی تنازع کے حقیقی نتائج کا تعین جذباتی یا سنیما طرز کے بیانیے کے بجائے قابل تصدیق شواہد سے ہونا چاہیے۔
خطے میں امن اور مستقبل کا چیلنج
پاکستان نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستانی عسکری مؤقف کے مطابق مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا جاتا رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی کم کرنا، ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
مارکۂ حق کے ایک سال سے زائد عرصے بعد ’’آپریشن سندھور‘‘ سے متعلق سامنے آنے والا بھارتی بیانیہ ایک بار پھر پاک بھارت تنازع کے عسکری اور سفارتی نتائج پر بحث کو زندہ کر رہا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی دستاویزی فلم میں واقعات کی زمانی ترتیب، پہلگام واقعے سے متعلق دعووں، فوجی کامیابی کے بیانیے اور دشمنی کے خاتمے کے حوالے سے ایسے تضادات موجود ہیں جو اس کے دعووں کی غیر جانب دارانہ جانچ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
حتمی تاریخی فیصلہ کسی ایک ملک کے سرکاری یا سنیما طرز کے بیانیے سے نہیں بلکہ قابل تصدیق شواہد، آزاد تحقیقات اور واقعات کے مستند ریکارڈ سے ہی سامنے آسکتا ہے۔



