یورپ

اے ایف ڈی کا جرمن چانسلر کے خلاف فوجداری شکایت دائر کرنے کا فیصلہ

اے ایف ڈی کے رکن پارلیمان اشٹیفان برانڈنر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پارٹی  نے چانسلر میرس کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول چانسلر کے ریمارکس ’’بے بنیاد‘‘ اور ’’قابل مذمت‘‘ ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت متبادل برائے جرمنی (AfD) نے چانسلر فریڈرش میرس کی جانب سے اے ایف ڈی کی ’’ری مائیگریشن‘‘ پالیسی کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دینے پر ان کے  خلاف فوجداری شکایت دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمن چانسلر  فریڈرش میرس نے بدھ کے روز پارلیمان میں ہونے والی ایک گرما گرم بحث کے دوران  اے ایف ڈی  کی بڑے پیمانے پر ’’ری مائیگریشن‘‘ پالیسی کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اے ایف ڈی کے رکن پارلیمان اشٹیفان برانڈنر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پارٹی  نے چانسلر میرس کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول چانسلر کے ریمارکس ’’بے بنیاد‘‘ اور ’’قابل مذمت‘‘ ہیں۔

اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ ’’ری مائیگریشن‘‘ سے مراد باقاعدہ سفری دستاویزات کے بغیر جرمنی آنے والے تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری ہے۔ تاہم انتہائی دائیں بازو کے بعض حلقے اس اصطلاح کو تارکینِ وطن اور یہاں تک کہ غیر ملکی نژاد جرمن شہریوں کی ملک بدری کے مفہوم میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

اشٹیفان برانڈنر نے فریڈرش میرس کے ریمارکس کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا، ’’یہ ناقابل قبول ہے کہ ملکی حکومت کا سربراہ اس قسم کے جھوٹ اور بہتان تراشی سے کام لے۔‘‘

دیگر کئی ممالک کی طرح جرمنی میں بھی اراکینِ پارلیمان کو ایوان کے اندر دیے گئے  بیانات پر قانونی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ’’ہتک آمیز الزامات‘‘ کے مقدمات اس استثنیٰ سے مستثنیٰ ہیں، جس کی وجہ سے بعض حالات میں قانونی کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔

جرمنی میں پارلیمان کے باہر بھی اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق قوانین حالیہ برسوں میں خاصی بحث  کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ناقدین، جن میں اے ایف ڈی کے بعض ارکان بھی شامل ہیں، کا مؤقف ہے کہ ان قوانین کی سخت تشریح آزادانہ اظہارِ خیال کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں جرمنی میں ایسے کئی نمایاں مقدمات سامنے آئے ہیں، جن میں سیاسی شخصیات کی توہین، تمسخر اڑانے یا سخت تنقید کے الزام میں افراد کے خلاف فوجداری تحقیقات کی گئیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button