
روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ
طلبہ اسکولوں میں بہتر سہولیات، اساتذہ کی مناسب تعداد اور داخلہ نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ تنظیموں نے جمعرات کو بھی ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے۔
فرانس کے وزیراعظم سباستیان لیوکورنو نے بدھ، 7 اکتوبر کی شام ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا غصہ ”بلا وجہ نہیں ہے‘‘۔ اور حکومت طلبہ کو درپیش مسائل کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ ”ٹکراؤ‘‘ کے لیے سکیورٹی فورسز کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔
وزیراعظم لیوکورنو نے مزید کہا کہ حکومت اکتوبر کے اختتام تک طلبہ کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ پیش کرے گی۔ اور نوجوانوں کی شکایات اور تجاویز درج کرنے کے لیے بنائی گئی سرکاری ایپ پر اب تک تقریباً 30 ہزار جوابات موصول ہو چکے ہیں۔

تعلیم کے بجٹ میں بڑے اضافے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار
وزیراعظم سباستیان لیوکورنو نے تاہم تعلیم کے بجٹ میں بڑے اضافے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات سے قبل آنے والے مہینوں میں حکومت ”عملی انداز‘‘ اختیار کرے گی۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ میں تعلیم کے لیے اضافی 1.2 ارب یورو (1.3 ارب ڈالر) مختص کیے گئے ہیں، جس کے باعث تعلیم ان چند وزارتوں میں شامل ہوگی جن کے بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
تعلیمی شعبے کی یونینوں نے تعلیم کے لیے اضافی 10 ارب یورو کے اخراجات کا مطالبہ کیا تھا۔
فرانس کو سرکاری قرضوں میں کمی لانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کفایت شعاری پر مبنی بجٹ تیار کر رہی ہے۔
لیوکورنو نے کہا کہ اسکولوں میں حالات بہتر بنانے کے لیے متبادل اساتذہ کی تعداد میں اضافہ، اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، اوقاتِ کار میں تبدیلی، جامعات میں داخلے کے نظام میں بہتری اور فیصلہ سازی میں طلبہ کی زیادہ شمولیت جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔

نوجوانوں کے خدشات سے لاتعلقی ممکن نہیں
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کا غصہ ”بلا وجہ نہیں ہے‘‘۔ ان کے بقول، ”کوئی بھی ان کے خدشات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بچپن میں کووڈ-19 کی وبا کا سامنا کرنے سے لے کر جنگوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تجربات سے گزرنے تک بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جبکہ بعض نوجوانوں نے اپنے خاندانوں کو مالی مشکلات سے بھی گزرتے دیکھا ہے۔
لیوکورنو نے کہا، ”ان خدشات کے باوجود ہم ان سے کہتے ہیں کہ اپنے مستقبل کا راستہ منتخب کریں اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ یہ اعتماد بحال کریں، اور اس کا آغاز نوجوانوں کی بات سننے سے ہوتا ہے۔‘‘
وزیراعظم نے صدر ایمانوئل ماکروں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں بھی شرکت کی تھی، جس میں حکومت نے طلبہ کے پُر تشدد احتجاج کو قابو کرنے کی کوششوں پر غور کیا۔
خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس پر آتش بازی کا سامان اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
فرانس کے وزیر داخلہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈز کا استعمال معطل رکھا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے نشریاتی ادارے آر ٹی ایل کو بتایا کہ صدر ماکروں نے موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔



