
پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے مالی معاونت کے نئے مواقع، سمیڈا کے آئی سی ایم اے پاکستان اور ڈیجی کھاتہ کے ساتھ اہم معاہدے
وزیراعظم شہباز شریف کے جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ 2.2 ٹریلین روپے اور قرض لینے والے کاروباری اداروں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کے اہداف کی جانب پیش رفت؛ کاروباری افراد کو مالیاتی تربیت، اکاؤنٹنگ، ڈیجیٹل ریکارڈ، بینک قرضوں کے تقاضوں اور مالیاتی نظم و نسق میں معاونت فراہم کی جائے گی
سید قاسم بخاری-پاکستان
پاکستان میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (MSMEs) کو مالی وسائل تک بہتر رسائی فراہم کرنے، کاروباری دستاویزات کی تیاری میں معاونت اور مالیاتی نظم و نسق کی صلاحیتیں مضبوط بنانے کے لیے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے دو اہم اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کر لی ہیں۔
اس سلسلے میں سمیڈا نے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پاکستان) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) جبکہ ڈیجیٹل مالیاتی انتظام کے پلیٹ فارم ڈیجی کھاتہ کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ (LoI) پر دستخط کیے ہیں۔
دونوں دستاویزات پر دستخط کی تقریب سمیڈا کے لاہور دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔
ان شراکت داریوں کا بنیادی مقصد ملک بھر میں ایسے کاروباری افراد کی مدد کرنا ہے جو مناسب مالیاتی ریکارڈ، اکاؤنٹنگ کی مہارت، کاروباری دستاویزات یا رسمی بینکاری نظام کے تقاضوں سے مکمل آگاہی نہ ہونے کے باعث قرضوں اور دیگر مالی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
سمیڈا حکام کے مطابق نئی شراکت داریوں سے کاروباری اداروں کو مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے، کاروباری حسابات کو منظم کرنے، مالیاتی رپورٹس تیار کرنے اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کے لیے اپنی تیاری مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم کے جون 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کی ایس ایم ای فنانسنگ کے ہدف سے اہم پیش رفت
سمیڈا کی جانب سے قائم کی گئی ان شراکت داریوں کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی مالی معاونت بڑھانے کے اہداف کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے جون 2028 تک ایس ایم ایز کے لیے مالی معاونت کا حجم 2.2 ٹریلین روپے تک بڑھانے اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے والے ایس ایم ایز کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ان اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری اداروں کو نہ صرف مالی سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے بلکہ انہیں بینکوں کی جانب سے مطلوبہ مالیاتی معلومات اور دستاویزات تیار کرنے کے قابل بھی بنایا جائے۔
بہت سے چھوٹے کاروباری ادارے اپنی روزمرہ کاروباری سرگرمیاں کامیابی سے چلاتے ہیں، لیکن ان کے پاس آمدن، اخراجات، منافع، واجبات اور کاروباری لین دین کا مکمل اور منظم ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔
اس صورتحال میں بینکوں کے لیے کاروبار کی مالی حیثیت اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لینا مشکل ہو سکتا ہے۔
سمیڈا کی نئی شراکت داریوں کا مقصد اسی نوعیت کی رکاوٹوں کو کم کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
آئی سی ایم اے پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت، مالیاتی تربیت کو فروغ دیا جائے گا
سمیڈا اور آئی سی ایم اے پاکستان کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا مقصد مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں مالیاتی آگاہی، اکاؤنٹنگ کے مؤثر طریقوں اور مالیاتی انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔
اس تعاون کے تحت کاروباری افراد کی استعداد کار بڑھانے، مالیاتی معلومات کو منظم کرنے اور کاروباری ریکارڈ بہتر بنانے سے متعلق مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
آئی سی ایم اے پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیتی تجربے اور تحقیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروباری اداروں کو مالیاتی نظم و نسق کے اہم اصولوں سے روشناس کرانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اس نوعیت کی تربیت کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کی مالی صورتحال زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے اور مستقبل کے مالی فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مفاہمتی تقریب میں دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام کی شرکت
آئی سی ایم اے پاکستان کی جانب سے صدر محمد یاسین، نائب صدر عبد القیوم اور ڈائریکٹر آئی سی ایم اے لاہور محمد سجاد آہیر نے تقریب میں شرکت کی۔
سمیڈا کی نمائندگی جنرل منیجر انٹرپرائز کمپیٹیٹونیس اینڈ گروتھ راجہ حسنین جاوید، جنرل منیجر پالیسی اینڈ ایکو سسٹم گروپ شہریار طاہر اور جنرل منیجر انکلوژن اینڈ سسٹین ایبلٹی سید بلال حیدر نے کی۔
اس موقع پر ڈپٹی جنرل منیجرز فرح یاسر، شاہین طاہر اور عارف چوہدری بھی موجود تھے۔
تقریب میں رانا حیدر عباس، مینجمنٹ ایسوسی ایٹ ایکسس ٹو فنانس، انٹرپرائز کمپیٹیٹونیس اینڈ گروتھ، اور عثمان طارق، اسسٹنٹ منیجر ایکسس ٹو فنانس، انٹرپرائز کمپیٹیٹونیس اینڈ گروتھ نے بھی شرکت کی۔
شرکاء نے کاروباری اداروں کی مالیاتی صلاحیتوں میں بہتری اور رسمی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
کاروباری دستاویزات کی تیاری اور مالیاتی ساکھ مضبوط بنانا سمیڈا کی ترجیح، راجہ حسنین جاوید
سمیڈا کے جنرل منیجر راجہ حسنین جاوید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ایس ایم ایز کی مالی معاونت بڑھانے کے لیے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں سمیڈا اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو بینکاری نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور ان کی کاروباری دستاویزات بہتر بنانا ایک اہم ضرورت ہے۔
راجہ حسنین جاوید کے مطابق اس تعاون کے ذریعے کاروباری افراد کو حسابات کی دیکھ بھال، مالیاتی رپورٹس کی تیاری اور کاروباری ریکارڈ کو شفاف انداز میں مرتب کرنے کی مہارتیں فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں اور مشاورتی خدمات کے ذریعے کاروباری اداروں کو اپنی مالیاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
ان کے مطابق ان اقدامات سے کاروباری افراد کے لیے بینکوں کے رسمی تقاضے پورے کرنا اور ادارہ جاتی مالی معاونت کے حصول کے لیے اپنی اہلیت بہتر بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
بینکوں سے قرض لینے کے لیے مالیاتی ریکارڈ کیوں ضروری ہے؟
چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے قرض حاصل کرنے میں مالیاتی دستاویزات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
بینک عموماً قرض کی درخواست کا جائزہ لیتے وقت کاروبار کی آمدن، اخراجات، موجودہ واجبات، مالیاتی لین دین اور قرض کی واپسی کی صلاحیت جیسے عوامل پر غور کرتے ہیں۔
اگر کسی کاروبار کے پاس منظم مالیاتی ریکارڈ موجود نہ ہو تو اس کی حقیقی مالی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
مالیاتی ریکارڈ کی بہتری سے کاروباری اداروں کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے، اخراجات پر قابو پانے اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم منظم ریکارڈ یا تربیت حاصل کرنا بذاتِ خود بینک قرض کی منظوری کی ضمانت نہیں ہے۔ قرض کی منظوری متعلقہ مالیاتی ادارے کی پالیسی، اہلیت، خطرات کے جائزے اور دیگر شرائط سے مشروط ہوتی ہے۔
آئی سی ایم اے پاکستان کا مالیاتی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ میں کردار
آئی سی ایم اے پاکستان کے صدر محمد یاسین نے ادارے کی کئی دہائیوں پر محیط پیشہ ورانہ خدمات اور مالیاتی تربیت کے تجربے کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کی تحقیقی سرگرمیاں، پیشہ ورانہ مہارت اور استعداد کار بڑھانے کے پروگرام کاروباری شعبے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
محمد یاسین نے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کی مالیاتی انتظامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق کاروباری افراد کو مالیاتی نظم و نسق کی مناسب مہارتیں فراہم کرنا انہیں کمرشل بینکوں اور دیگر رسمی مالیاتی ذرائع سے استفادہ کرنے کے قابل بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے کاروباری شعبے کی مالیاتی صلاحیتوں میں بہتری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
سمیڈا اور ڈیجی کھاتہ کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط
آئی سی ایم اے پاکستان کے ساتھ مفاہمت کے علاوہ سمیڈا نے ڈیجیٹل مالیاتی انتظام کے پلیٹ فارم ڈیجی کھاتہ کے ساتھ بھی لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں۔
اس اشتراک کا مقصد ایسے کاروباری اداروں میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام اپنانے کے عمل کو تیز کرنا ہے جو اب بھی روایتی کھاتوں، رجسٹروں اور دستی حساب کتاب پر انحصار کرتے ہیں۔
سمیڈا حکام کے مطابق ڈیجیٹل مالیاتی ٹولز کے استعمال سے کاروباری لین دین کو زیادہ منظم انداز میں محفوظ کیا جا سکے گا۔
اس کے ذریعے کاروباری افراد کو آمدن، اخراجات، ادائیگیوں اور وصولیوں کا ریکارڈ رکھنے میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈیجیٹل ریکارڈ کاروبار کی مالی صورتحال کا جائزہ لینے اور متعلقہ مالیاتی معلومات مرتب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈیجی کھاتہ کے اعلیٰ حکام کی تقریب میں شرکت
سمیڈا اور ڈیجی کھاتہ کے درمیان اشتراک کی تقریب میں ڈیجی کھاتہ کی نمائندگی چیف ایگزیکٹو آفیسر عدنان اسلم، بزنس یونٹ ہیڈ سیاف حیدر وڑائچ اور نیشنل سیلز منیجر ڈی ایس سی ایف بلال سلیم نے کی۔
اس موقع پر ڈیجیٹل مالیاتی نظم و نسق کی اہمیت اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔
شرکاء نے اس بات پر توجہ دی کہ روایتی حساب کتاب کرنے والے کاروباری اداروں کو جدید ڈیجیٹل نظام کی جانب منتقل کرنے کے لیے آسان اور قابلِ استعمال سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
روایتی کھاتوں سے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جانب منتقلی
پاکستان میں متعدد چھوٹے کاروبار اپنی روزمرہ خرید و فروخت، ادھار، وصولیوں اور ادائیگیوں کا حساب دستی رجسٹروں یا روایتی کھاتوں میں محفوظ کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ طریقہ کاروباری افراد کے لیے مانوس ہوتا ہے، لیکن کاروبار بڑھنے کے ساتھ مالیاتی ریکارڈ مرتب کرنا اور مختلف لین دین کا مجموعی جائزہ لینا مشکل ہو سکتا ہے۔
ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے ذریعے کاروباری لین دین کی معلومات کو ایک منظم شکل میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
اس سے کاروباری افراد کو اپنی مالی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ریکارڈ تیار کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔
تاہم ڈیجیٹل نظام کے مؤثر استعمال کے لیے صارفین کی تربیت، ڈیٹا کی حفاظت، معلومات کی درستگی اور تکنیکی معاونت کی دستیابی بھی ضروری ہے۔
ڈیجی کھاتہ کے فعال صارفین کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی، عدنان اسلم
ڈیجی کھاتہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عدنان اسلم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا پلیٹ فارم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ضروریات کے مطابق آسان ڈیجیٹل مالیاتی حل فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجی کھاتہ کے فعال صارفین کی تعداد پہلے ہی 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
عدنان اسلم کے مطابق پلیٹ فارم کے ذریعے براہ راست اور بالواسطہ قرضوں سے متعلق سہولیات، برآمدات میں معاونت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اوپن بینکنگ فریم ورک کے تحت اکاؤنٹ کھولنے سمیت مختلف خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سمیڈا کے ساتھ اشتراک سے ان سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور ملک بھر کے کاروباری اداروں تک ان کے فوائد پہنچانے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ فعال صارفین کی تعداد اور پلیٹ فارم کی خدمات سے متعلق یہ تفصیلات کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے بیان کے مطابق ہیں۔
ڈیجیٹل مالیاتی ریکارڈ سے قرض کے حصول کی تیاری میں بہتری کا امکان
سمیڈا حکام کے مطابق ڈیجیٹل مالیاتی نظام اپنانے سے کاروباری اداروں کی شفافیت اور مالیاتی معلومات کے انتظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
کاروباری لین دین کا منظم ریکارڈ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو قرض کی درخواستوں کا جائزہ لینے کے لیے ضروری معلومات فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ کاروباری افراد اپنی مالی صورتحال کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ کر کاروباری فیصلے کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل مالیاتی ریکارڈ کی دستیابی چھوٹے کاروباروں کو رسمی مالیاتی نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
البتہ اس کے فوائد کا انحصار ریکارڈ کی درستگی، متعلقہ اداروں کے تقاضوں اور ڈیجیٹل سہولیات کے مؤثر استعمال پر ہوگا۔
کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں
سمیڈا کی نئی شراکت داریاں کاروباری اداروں کو زیادہ منظم، دستاویزی اور رسمی مالیاتی نظام سے منسلک کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
پاکستان میں چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالیاتی دستاویزات کی کمی، کاروباری معلومات کا غیر منظم ہونا اور بینکاری تقاضوں سے محدود آگاہی مالی وسائل تک رسائی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کاروباری تربیت، مشاورتی خدمات اور ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
سمیڈا حکام کے مطابق ادارہ کاروباری افراد کو اپنی مالیاتی معلومات بہتر بنانے اور بینکوں سمیت دیگر رسمی مالیاتی ذرائع سے رابطہ کرنے کے لیے درکار صلاحیتیں فراہم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
مائیکرو اور چھوٹے کاروباروں کی معاشی اہمیت
مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے کسی بھی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں، روزگار اور مقامی پیداوار کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان میں یہ ادارے تجارت، خدمات، مینوفیکچرنگ اور مختلف مقامی صنعتوں میں سرگرم ہیں۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی وسائل تک مناسب رسائی کاروباری سرگرمیوں میں توسیع، جدید مشینری کی خریداری، خام مال کے حصول اور روزمرہ مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی طرح مالیاتی نظم و نسق میں بہتری سے کاروبار کے اخراجات اور آمدن کو بہتر انداز میں سمجھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
سمیڈا کی جانب سے مالیاتی تربیت اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے فروغ کی کوششیں اسی وسیع تر معاشی ضرورت کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہیں۔
مالیاتی اداروں، کاروباری انجمنوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کا فیصلہ
سمیڈا حکام کے مطابق ادارہ مالیاتی اداروں، کاروباری انجمنوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
اس تعاون کا مقصد کاروباری افراد کو دستیاب مالیاتی سہولیات سے آگاہ کرنا اور انہیں رسمی مالیاتی ذرائع سے استفادہ کرنے کے لیے درکار معلومات اور مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
ادارہ کاروباری دستاویزات کی تیاری، مالیاتی نظم و نسق اور قرض کی درخواستوں کے لیے ضروری تیاری میں معاونت کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔
ان اقدامات سے مختلف علاقوں میں کاروباری افراد تک تربیتی اور مشاورتی سہولیات پہنچانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
مالیاتی آگاہی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے کاروباری مسابقت بڑھانے کا ہدف
سمیڈا کی نئی شراکت داریوں کا ایک اہم مقصد پاکستانی کاروباری اداروں کی مجموعی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔
مالیاتی ریکارڈ بہتر بنانے، اخراجات کی نگرانی، کاروباری منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل نظام اپنانے سے کاروباری اداروں کو اپنی کارکردگی زیادہ منظم انداز میں چلانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ مالیاتی معلومات کی درست دستیابی کاروباری اداروں کو مستقبل کی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کے فیصلوں میں معاونت فراہم کر سکتی ہے۔
آئی سی ایم اے پاکستان کے ساتھ تعاون پیشہ ورانہ تربیت اور مالیاتی مہارتوں کے فروغ پر مرکوز ہے، جبکہ ڈیجی کھاتہ کے ساتھ اشتراک ڈیجیٹل مالیاتی انتظام کے عملی استعمال کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
یوں دونوں شراکت داریاں مالیاتی آگاہی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کرتی ہیں۔
جون 2028 کے اہداف کے حصول میں ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم 2.2 ٹریلین روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کے اہداف کے لیے مالیاتی اداروں اور کاروباری شعبے کے درمیان تعاون اہم ہوگا۔
اس سلسلے میں کاروباری اداروں کی مالیاتی دستاویزات بہتر بنانا اور انہیں بینکاری تقاضوں سے آگاہ کرنا ایک معاون اقدام ہو سکتا ہے۔
تاہم ان اہداف کا حصول صرف تربیت اور ڈیجیٹل ریکارڈ پر منحصر نہیں ہوگا بلکہ بینکوں کی قرض دینے کی پالیسیوں، مالیاتی حالات، قرض کی لاگت اور کاروباری اداروں کی حقیقی مالی ضروریات جیسے عوامل بھی اہم ہوں گے۔
سمیڈا کی نئی شراکت داریوں کے نتائج کا اندازہ مستقبل میں تربیت حاصل کرنے والے کاروباری افراد، ڈیجیٹل نظام اپنانے والے اداروں اور رسمی مالیاتی ذرائع تک کامیابی سے رسائی حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد سے لگایا جا سکے گا۔
پاکستان میں چھوٹے کاروباروں کی مالیاتی ترقی کے لیے اہم قدم
سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے آئی سی ایم اے پاکستان اور ڈیجی کھاتہ کے ساتھ قائم کی گئی شراکت داریاں ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالیاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
آئی سی ایم اے پاکستان کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے مالیاتی آگاہی، اکاؤنٹنگ، کاروباری دستاویزات اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ڈیجی کھاتہ کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ کا مقصد روایتی حساب کتاب کرنے والے کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل مالیاتی ریکارڈ اور جدید انتظامی سہولیات کی جانب راغب کرنا ہے۔
سمیڈا حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے کاروباری اداروں کی مالیاتی ساکھ بہتر بنانے، رسمی بینکاری نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور مالی معاونت کے مواقع تک رسائی میں مدد ملے گی۔
ان شراکت داریوں کا مرکزی مقصد پاکستان کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مالیاتی معلومات، پیشہ ورانہ مہارتوں اور ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو زیادہ منظم انداز میں چلا سکیں اور مستقبل میں مالی معاونت کے بہتر مواقع سے استفادہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔



