اہم خبریںپاکستان

پاکستان : 28 لاکھ افغانیوں کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا

پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں بھی طالبان کی آمد کے بعد اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ طالبان کی حکومت دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان نے کئی دہائیوں پر محیط میزبانی کے بعد افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کی جاری مہم کے دوران 28 لاکھ افغانیوں کو ملک بدر کیا ہے۔ افغانیوں کو واپس بھیجنے کی یہ مہم تین سال پہلے شروع کی گئی تھی۔ یہ بات متعلقہ حکام نے بدھ کے روز بتائی ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایک امریکی جج نے نظر بند افغانیوں کو پاکستان کے راستے ڈی پورٹ کرنے کو روک دیا ہے کہ اپنے ملک میں ان کی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے ان افغانیوں کو 2023 میں اس وقت واپس ڈی پورٹ کرنا شروع کیا جب پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں بہت شدت پکڑ گئیں۔ دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں خود کش حملے بھی شامل تھے۔
افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھجوانے کی مہم کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ طالبان حکومت کے تعلقات کشیدگی اختیار کر گئے۔ اب دو طرفہ سرحدی جھڑپوں تک نوبت پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں بھی طالبان کی آمد کے بعد اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ طالبان کی حکومت دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے ملک بدری کی اس مہم میں ان افغانوں کو لیا جن کے پاس پاکستان میں رکنے کے لیے دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ تاہم بتدریج یہ دائرہ وسیع کیا گیا اور اب تک 28 لاکھ افغانی واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ اسلام آباد نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تمام غیر ملکیوں کو پاکستان میں قیام کے لیے لازماً ضروری دستاویزات کے ساتھ ہونا چاہیے۔
پچھلے تین برسوں کے دوران جن 2800000 سے زائد افغانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔ ان میں سے 143474 صوبہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ حکومت نے واضح پالیسی اختیار کی ہے کہ وہی غیر ملکی پاکستان میں رہ سکتا ہے جس کے پاس ضروری دستاویزات موجود ہوں۔ اس لیے حکام اب بھی غیر قانونی طور پر موجود غیر ملکیوں کی گرفتاریاں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں افغانیوں کے لیے حراستی مراکز بنائے گئے ہیں۔
آج کل صوبہ پنجاب میں ایسے 39 مراکز کام کر رہے ہیں۔ تاہم ان میں افغانیوں کی تعداد 153 بتائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب میں 803 افراد کے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں جو غیر قانونی طور پر رہنے والوں کو کرائے پر رہائش دیتے ہیں۔ اب تک رہائشی علاقوں میں 400000 سرچ آپریشن کیے گئے ہیں۔ حکام اس سلسلے میں عوام سے تعاون پر زور دیتے ہیں تاکہ غیر قانونی رہائش دیگر مسائل کا ذریعہ نہ بن جائے۔
ادھر امریکہ میں ایک ضلعی جج نے نیو یارک میں حکومت کو افغانیوں کو جبری طور پر ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا ہے۔ کہ ان افغانیوں کو واپس اپنے ملک میں موت تک کے خطرات ہو سکتے ہیں۔ امریکی عدالتی دستاویز کے مطابق امریکی حکام نے پاکستان تک ان افغانیوں کو ہوائی جہازوں سے منتقل کرنا تھا اور اس سے آگے انہیں طور خم بارڈر سے افغانستان منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
امریکہ میں امیگریشن قوانین سے متعلق گروپوں کا کہنا ہے کہ 80 زیر حراست افغانیوں نے وکلاء سے رابطہ کیا ہے۔عدالتی حکم کے بعد ان افغانیوں کے وکیل نے کہا آج کا دن بہت اچھا ہے۔ تاہم ہمیشہ کے لیے ڈی پورٹ کیے جانے کو روکنا مشکل ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button