یورپتازہ ترین

جرمنی: سماجی عدم مساوات پر بڑھتی ہوئی تشویش

ناانصافی بڑھ رہی ہے، جو گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں دو فیصد زیادہ ہے۔

ژینس تھوراؤ

چانسلر فریڈرش میرس اور ان کی قدامت پسند جماعتوں کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال فلاحی ریاست کی تنظیمِ نو کے لیے حالیہ متنازعہ تجاویز پر کئی ہفتوں سے جاری بحث کے بعد سامنے آئی ہے۔

جواب دہندگان کی اکثریت جرمن معاشرے میں عدم مساوات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور وہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ سروے میں شامل 24 فیصد افراد سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے سوشل ڈیموکریٹس پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ تمام جماعتوں میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

فروری میں 62 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ناانصافی بڑھ رہی ہے، جو گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں دو فیصد زیادہ ہے۔ زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ امیر اور غریب کے درمیان فرق وسیع ہو رہا ہے، جبکہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیکس اور سوشل سکیورٹی کا بوجھ غیر منصفانہ طور پر تقسیم کیا گیا ہے۔ اب صرف نو فیصد لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں کو جرمنوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔

کیا لارس کلنگ بائل کو ٹرمپ پر تنقید کا صلہ ملا؟

حکومت سے مجموعی اطمینان میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے۔ فروری کے آغاز میں  سی ڈی یو/ایس سی یو کو 26 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے، جو ایک ماہ قبل کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹس نے دو فیصد پوائنٹس حاصل کیے ہیں، یہ وہ رجحان ہے جو انہوں نے طویل عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔

انتہائی دائیں بازو کی عوامی تحریک ‘الٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ‘ (AfD)  کی مقبولیت میں بھی تھوڑی کمی دیکھی گئی لیکن وہ 24 فیصد کے ساتھ دوسری بڑی قوت برقرار ہے۔

دریں اثنا، بنڈس ٹاگ (پارلیمنٹ) میں نمائندگی رکھنے والی دو اپوزیشن جماعتیں، ‘گرینز‘ اور ‘لیفٹ پارٹی‘، بالترتیب 12 فیصد اور 10 فیصد پر برقرار رہیں۔

جرمن پرچم
جواب دہندگان کی اکثریت جرمن معاشرے میں عدم مساوات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور وہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو بھی دیکھ رہے ہیں۔تصویر: Tobias Schwarz/AFP

سروے کرنے والے ماہرین سوشل ڈیموکریٹس کی اس برتری کی وجہ ان کے پارٹی لیڈر اور وزیر خزانہ لارس کلنگ بائل کو قرار دیتے ہیں، جن کی مقبولیت میں پانچ پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ کلنگ بائل نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی۔

وزیر دفاع بورس پسٹوریس (SPD) جرمنی کے سب سے معزز سیاستدان برقرار ہیں، جن کے بعد وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول (CDU) کا نمبر آتا ہے۔ چانسلر فریڈرش میرس صرف 25 فیصد کے ساتھ کافی پیچھے ہیں۔

کام کی اخلاقیات پر حملے سے میرس نے رائے عامہ کو تقسیم کر دیا

سال کے پہلے چند ہفتوں میں، جرمنوں کی کام کی اخلاقیات کے بارے میں چانسلر فریڈرش میرس کے ریمارکس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔

چانسلر فریڈرش میرس نے جنوری کے آغاز میں کہا تھا، ”چار روزہ ورک ویک اور کام اور زندگی کے مابین مبالغہ آمیز توازن کے ساتھ خوشحالی کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے بیماری کی چھٹیوں کی اعلیٰ شرح کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جرمنی اوسطاً ہر ملازم سالانہ 14.5 دن چھٹی کرتا ہے۔ میرس نے سوال کیا، ”کیا یہ واقعی ضروری ہے؟‘‘

ان سب باتوں نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا جو اس وقت غم و غصے میں بدل گئی جب CDU کے معاشی ونگ نے ”لائف اسٹائل پارٹ ٹائم‘‘ (اپنی مرضی سے کم وقت کام کرنا) کو ایک مسئلہ قرار دیا اور تجویز دی کہ 2001 میں متعارف کرائے گئے پارٹ ٹائم کام کرنے کے حق کو صرف ان لوگوں تک محدود کر دیا جائے جنہیں بچوں، بیمار رشتہ داروں کی دیکھ بھال کرنی ہو یا تعلیم حاصل کرنا ہو۔

دانت کا معائنہ
سی ڈی یو سے وابستہ کاروباری افراد کی ایک انجمن نے یہ تجویز دی کہ ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کو دانتوں کے علاج کے اخراجات ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔تصویر: Claudio Centonze/Commission européenne

سماجی اخراجات جرمنی کے وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہیں، جن میں پنشن اور فلاحی ادائیگیاں، صحت کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اہم عوامل ہیں۔ سی ڈی یو سے وابستہ کاروباری افراد کی ایک انجمن نے پھر یہ تجویز دی کہ ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کو دانتوں کے علاج کے اخراجات ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

جنوری میں ماہرین کے ایک کمیشن نے وفاقی حکومت کو تجاویز پیش کیں کہ فلاحی ریاست کو کس طرح بامعنی طریقے سے جدید بنایا جا سکتا ہے۔ اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ سوشل سکیورٹی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سروے میں شامل 71 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اگر سماجی فوائد کے لیے ڈیجیٹل طور پر بھی درخواست دی جا سکے تو یہ بہتر ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button