پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے مختلف شہروں پر چھوٹے ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے،عطا اللہ تارڑ

انہوں نے بتایا کہ ’اینٹی ڈرون سسٹم نے تمام ڈرونز کو مار گرایا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے چند شہروں پر چھوٹے ڈرونز کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے جمعے کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملے کی کوشش کی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اینٹی ڈرون سسٹم نے تمام ڈرونز کو مار گرایا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’ان واقعات نے ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان براہِ راست تعلق کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘
پاکستانی میڈیا کے مطابق صوابی میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک سکول کی طالبہ زخمی ہوئی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقع گدون امازئی کے گاؤں پابینی میں اس وقت پیش آیا جب ایک ہائیر سیکنڈری سکول کے قریب بچے کھیل رہے تھے۔
دوسری جانب افغان وزیر دفاع کی جانب سے بھی پاکستان میں اسلام آباد، صوابی، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سنیچر اور اتوار کی درمیان رات پاکستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو اپنے ہاں پناہ دیتی ہے اور وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس سے انکار کرتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ حالیہ کارروائی افغان فورسز کی جانب سے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی افواج پر حملے کے بعد کی گئی جو اسلام آباد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا ردعمل تھا۔
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کو ختم کرانے کے لیے فریقین سے رابطے میں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ نے ان حالات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان خطے میں چین کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے تاہم بیجنگ خود کو افغانستان کا ’دوست پڑوسی‘ بھی قرار دیتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جمعے کو کابل سمیت افغانستان کے بڑے شہروں پر بمباری کے بعد چین ’تنازع میں اضافے پر شدید فکر مند‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’پرامن رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں، جلد از جلد جنگ بندی کریں اور مزید خونریزی سے بچیں۔‘
ماؤ نینگ کا مزید کہنا تھا کہ ’چین اپنے ذرائع سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کو حل کرانے کے لیے مسلسل ثالثی کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ اور پاکستان و افغانستان میں موجود چینی سفارت خانے اس معاملے پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ایران کی ’مذاکرات کے لیے سہولت‘ فراہم کرنے کی پیشکش
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے پاکستان اور افغانستان کا تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں سہولت کاری‘ کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا گہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور مفاہمت و تعاون بڑھانے کے لیے ضروری مدد دینے کو تیار ہے۔‘
پاکستان کے افغانستان کے مختلف شہروں پر حملوں کے تھوڑی دیر بعد جاری کیے گئے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوجیں جارحیت کرنے والوں کو کچل سکتی ہیں۔‘
پاکستانی حکومت کے آفیشل ایکس پیج پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ’شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہماری افواج کسی بھی قسم کے جارحانہ عزائم کو کچلنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں، اور پوری قوم ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہے۔‘
اسی طرح پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے بعد جوابی کارروائی میں طالبان فوج کی کئی پوسٹیں تباہ ہوئی ہیں اور انگوراڈہ میں ایک اور افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button