صحتاہم خبریں

پاکستان میں سرنجز کے استعمال پر تشویش، 10 سی سی سرنج تاحال آٹو ڈسپوزایبل نہ بن سکی

پاکستان میں آٹو ڈسپوزایبل سرنجز کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم 10 سی سی سرنجز کے معاملے میں ابھی مکمل پیش رفت نہیں ہو سکی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر عبیداللہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ایک، دو اور پانچ ملی لیٹر (ایم ایل) سرنجز تو آٹو ڈسپوزایبل ہیں، تاہم 10 سی سی سرنج اب بھی اس زمرے میں شامل نہیں ہو سکی، جو صحت عامہ کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک انٹرویو میں ٹکا خان ثانی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبیداللہ خان نے کہا کہ اگر وزارت صحت پاکستان اس حوالے سے باضابطہ پابندی عائد کرتی ہے تو اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سرنجز کے استعمال اور اس سے جڑے ممکنہ خطرات پر ایک ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جسے مزید جائزے کے بعد پالیسی سازی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

آٹو ڈسپوزایبل سرنجز کی اہمیت

ماہرین صحت کے مطابق آٹو ڈسپوزایبل سرنجز وہ ہوتی ہیں جو ایک بار استعمال کے بعد خودکار طور پر ناکارہ ہو جاتی ہیں، جس سے ان کے دوبارہ استعمال کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ڈاکٹر عبیداللہ خان نے کہا کہ پاکستان میں آٹو ڈسپوزایبل سرنجز کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم 10 سی سی سرنجز کے معاملے میں ابھی مکمل پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق صورتحال

انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ ملک میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ سرنجز کے ذریعے ہو رہا ہے، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں۔

پاکستان میں سرنجز کا غیر معمولی استعمال

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انجیکشن کا استعمال غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ سے دو ارب سرنجز استعمال ہوتی ہیں، جو ایک بڑی تعداد ہے اور اس کے صحت عامہ پر اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انجیکشن کے استعمال کا رجحان اس قدر زیادہ ہے کہ بعض اوقات معمولی بیماریوں میں بھی غیر ضروری طور پر انجیکشن لگائے جاتے ہیں، جس سے نہ صرف اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ممکنہ پالیسی اقدامات

حکام کے مطابق حکومت سرنجز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں تمام اقسام کی سرنجز کو آٹو ڈسپوزایبل بنانا، طبی عملے کی تربیت اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا شامل ہیں۔

صحت عامہ کے ماہرین کی رائے

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر 10 سی سی سرنجز کو بھی آٹو ڈسپوزایبل بنا دیا جائے تو اس سے انفیکشنز کے پھیلاؤ کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ضروری انجیکشن کے استعمال کو کم کرنے کے لیے سخت گائیڈ لائنز بھی متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

پاکستان میں سرنجز کے وسیع استعمال اور اس سے جڑے ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ معاملہ صحت عامہ کے لیے نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے اس پر جاری اقدامات اور ممکنہ پالیسی تبدیلیاں مستقبل میں صحت کے شعبے میں مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں، بشرطیکہ ان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button