یورپتازہ ترین

امریکہ کا جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ، نیٹو میں تشویش اور یورپی اتحادیوں میں تناؤ میں اضافہ

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ لفظی جنگ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے اثرات اب دفاعی تعاون پر بھی پڑتے نظر آ رہے ہیں۔

برسلز: نیٹو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس فیصلے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت واشنگٹن نے جرمنی سے تقریباً 5,000 فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف دفاعی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں نیٹو اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

ٹرمپ-مرز کشیدگی کے بعد فیصلہ سامنے آیا

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی پر سخت بیانات کا تبادلہ ہوا۔ جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ ایران مذاکراتی عمل میں واشنگٹن کو "ذلیل” کر رہا ہے، جس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مرز "نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ لفظی جنگ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے اثرات اب دفاعی تعاون پر بھی پڑتے نظر آ رہے ہیں۔

پینٹاگون کا مؤقف: حکمت عملی کے تحت فیصلہ

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے جمعے کے روز بتایا کہ فوجیوں کی واپسی آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ یورپ میں امریکی فوجی تعیناتی کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ اقدام خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے”، تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا اس فیصلے کا تعلق براہ راست سیاسی اختلافات سے ہے یا نہیں۔

یورپ میں امریکی فوجی موجودگی

اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک جرمنی میں امریکہ کے 36,436 فعال فوجی تعینات تھے، جو یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس کے علاوہ اٹلی میں 12,662 جبکہ سپین میں 3,814 امریکی فوجی موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق جرمنی سے فوجیوں کی جزوی واپسی یورپ میں طاقت کے توازن اور نیٹو کے دفاعی ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جرمن ردعمل: پیشگی خدشات کی تصدیق

جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے یورپ، خصوصاً جرمنی سے فوجیوں کی واپسی "متوقع” تھی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ برلن پہلے ہی اس امکان کے لیے تیار تھا۔

نیٹو کا ردعمل اور یورپی دفاع پر زور

نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اتحاد امریکہ کے ساتھ مل کر اس فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو یورپ کے لیے ایک اشارہ قرار دیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید سرمایہ کاری کرے۔

ان کے مطابق "یہ تبدیلی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یورپی ممالک کو اپنی مشترکہ سلامتی کی ذمہ داری میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔”

تجارتی کشیدگی بھی شدت اختیار کر گئی

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین نے گزشتہ تجارتی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

یہ اقدام امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی تنازعات کو مزید ہوا دے سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور اتحادیوں میں اختلافات

یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے مغربی اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات کو بڑھا دیا ہے۔ ایران کے معاملے پر امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان نقطہ نظر میں فرق کھل کر سامنے آ رہا ہے، جس سے نیٹو کے اندر ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

مستقبل کے خدشات

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کم کرتا ہے تو اس سے نہ صرف نیٹو کی دفاعی حکمت عملی متاثر ہوگی بلکہ یورپی ممالک کو اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنا پڑے گا۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں امریکہ اپنی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے جبکہ یورپی اتحادیوں کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں اضافہ کرنے کا واضح پیغام دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button