سعودی عرب کا بڑا فیصلہ: حج کے لیے عمر کی پابندی ختم، 12 سال سے زائد بچوں کو اجازت بحال
15 سال عمر کی شرط کے تحت مسترد کیے گئے حج ویزوں کو اب دوبارہ پراسیس کیا جائے گا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سعودی عرب نے حج پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے 15 سال سے کم عمر عازمین پر عائد پابندی ختم کر دی ہے، جس کے بعد اب 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو دوبارہ حج کی ادائیگی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اپنے بیان میں کی ہے۔
حج عازمین کے لیے عمر کی پابندی کا فوری نفاذ
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے جاری بیان میں کہا تھا کہ 15سال سےکم عمر عازمین حج کے ویزے فوری طور پر منسوخ کردئیےگئے،،450 پاکستانی بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے،تین مئی سےحج کےلئےسفرپرپابندی سے کراچی کے 70 عازمین حج متاثرہوں گے،200 بچے پرائیویٹ اور 250 بچے سرکاری حج اسیکم کے تحت حج پر جانے ہیں۔ تاہم اب یہ فیصلہ سعودی حکومت کی جانب سے واپس لے لیا گیاہے ۔
پی اے اے کے مطابق سعودی حکام نے سابقہ پالیسی بحال کر دی ہے، جس کے تحت اب 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچے حج کے لیے اہل تصور ہوں گے۔ اس سے قبل 15 سال سے کم عمر افراد پر عائد پابندی کے باعث بڑی تعداد میں خاندانوں کو مشکلات کا سامنا تھا، خاص طور پر وہ والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ حج ادا کرنا چاہتے تھے۔
مسترد ویزوں کی دوبارہ پروسیسنگ
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 سال عمر کی شرط کے تحت مسترد کیے گئے حج ویزوں کو اب دوبارہ پراسیس کیا جائے گا۔ اس اقدام سے ان درخواست گزاروں کو ریلیف ملے گا جن کی درخواستیں عمر کی پابندی کے باعث مسترد ہو گئی تھیں۔
عازمین حج کے لیے خوشخبری
اس فیصلے کو عازمین حج کے لیے بڑی سہولت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب خاندان اپنے کم عمر بچوں کے ساتھ فریضہ حج ادا کر سکیں گے۔ ٹریول آپریٹرز اور حج آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے حج درخواستوں میں اضافہ متوقع ہے اور پہلے سے التوا کا شکار کیسز بھی تیزی سے نمٹائے جا سکیں گے۔
ممکنہ وجوہات اور پس منظر
ماہرین کے مطابق عمر کی پابندی عموماً صحت و سلامتی کے پیش نظر عائد کی جاتی ہے، خاص طور پر بڑے اجتماعات میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے۔ تاہم موجودہ حالات میں انتظامی صلاحیتوں اور سہولیات میں بہتری کے باعث سعودی حکام نے اس پابندی کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی عازمین پر اثرات
پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں۔ اس نئی پالیسی سے پاکستانی عازمین کو خاص فائدہ پہنچے گا، خصوصاً وہ خاندان جو بچوں کے ہمراہ سفر کرنا چاہتے ہیں۔
حکام کی ہدایات
پی اے اے نے عازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی درخواستوں اور سفری دستاویزات کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں اور متعلقہ حج آپریٹرز سے رابطے میں رہیں تاکہ نئی پالیسی کے تحت کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
نتیجہ
سعودی عرب کا یہ فیصلہ حج پالیسی میں ایک اہم نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عازمین کو سہولت ملے گی بلکہ حج انتظامات میں بھی لچک پیدا ہوگی۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے حج کے لیے رجحان میں اضافہ ہوگا اور مزید افراد اس عظیم مذہبی فریضے کی ادائیگی کا موقع حاصل کر سکیں گے۔



