تازہ تریناہم خبریں

لاہور میں حقوقِ خلق پارٹی کا بڑا مظاہرہ، کم از کم اجرت 70 ہزار کرنے کا مطالبہ

مظاہرے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مرکزی قیادت اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جس سے اس احتجاج کو مزید سیاسی اہمیت حاصل ہوئی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور میں یکم مئی 2026 کو عالمی یومِ مزدور کے موقع پر حقوق خلق پارٹی کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے ایک بڑا اور منظم احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مزدوروں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

مظاہرے میں صنعتی مزدوروں، ہوم بیسڈ ورکرز اور دیگر محنت کش طبقات کے علاوہ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور مریدکے سے آنے والے قافلوں نے شرکت کر کے اسے ایک بڑے عوامی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔ شرکاء نے مزدوروں کے حقوق، مہنگائی کے خلاف اقدامات اور سماجی انصاف کے حق میں نعرے بازی کی۔

سیاسی و سماجی قیادت کی شرکت

مظاہرے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مرکزی قیادت اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جس سے اس احتجاج کو مزید سیاسی اہمیت حاصل ہوئی۔

فاروق طارق کا خطاب: کم از کم اجرت 70 ہزار کرنے کا مطالبہ

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے فاروق طارق نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے، لہٰذا کم از کم اجرت کو بڑھا کر 70 ہزار روپے کیا جائے تاکہ محنت کش باعزت زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے حکومت کی زرعی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے خلاف "معاشی یلغار” جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر گندم اور دیگر اہم فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں کا اعلان کرے تاکہ کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

بین الاقوامی مندوبین کی شرکت اور اظہارِ یکجہتی

مظاہرے میں بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ دیکھنے میں آئی، جہاں روس، ایران اور امریکہ سے آئے ہوئے مندوبین نے شرکت کی۔

ہیلیئے دوطاغی، جو یونیورسٹی آف تہران سے وابستہ ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران، پاکستان، فلسطین اور لبنان کے مزدوروں کی جدوجہد دراصل ایک مشترکہ جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کی منزل سماجی انصاف اور استحصال سے پاک نظام کا قیام ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حالیہ جنگ بندی کی کوششوں کو بھی سراہا اور خطے میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی طرح پاویل ورگان نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مشرقی یورپ اور ایشیا کے مزدوروں اور کسانوں کے درمیان اتحاد اور تعاون ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ عالمی سطح پر مزدوروں کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔

مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں پر تنقید

مظاہرے میں سلمان اکرم راجہ اور محمود خان اچکزئی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے حالیہ جنگی صورتحال کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور اشیائے ضروریہ کی مہنگائی پر شدید تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور حکومت کو فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

مطالبات اور پیغام

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:

  • کم از کم اجرت 70 ہزار روپے مقرر کی جائے
  • کسانوں کے لیے امدادی قیمتوں کا فوری اعلان کیا جائے
  • مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں
  • مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی پالیسیاں نافذ کی جائیں

اختتامیہ

مظاہرہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، تاہم شرکاء نے واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ یومِ مزدور کے موقع پر ہونے والا یہ مظاہرہ نہ صرف مزدوروں کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم ثابت ہوا بلکہ اس نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر یکجہتی کا ایک مضبوط پیغام بھی دیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button