
نیت صاف اور کام کرنے کی لگن ہو تو پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین
کری ایٹو گروپ آف انڈسٹریز کے زیر اہتمام سکائی پاور فیکٹری میں مقامی مصنوعات کے فروغ کے حوالے سے سیمینار کاانعقاد،چوہدری شافع حسین کی سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
کری ایٹو گروپ آف انڈسٹریز کے زیر اہتمام سکائی پاور فیکٹری میں مقامی مصنوعات کے فروغ کے حوالے سے سیمینار منعقدہوا۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل،چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور چئیرمین پیڈمک نے شرکت کی۔چیئرمین کری ایٹو گروپ انجینئر میاں سلطان محمود کے علاوہ صنعتکاروں کی بڑی تعدادبھی سیمینار میں شریک ہوئی۔سیمینار میں مقامی مصنوعات کے فروغ کے حوالے سے سود مند تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں۔انڈسٹری،اکیڈمیا اور حکومت کے مابین مضبوط رابطے کی ضرورت ہے۔صنعتکاری کے عمل کو تیز کرنے کیلئے کاروبار میں مزید آسانیاں پیدا کرنے اور افسر شاہی کی رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیاگیا۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کئے گئے ہیں۔بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز میں ہرقسم کی کاروباری سرگرمیوں کیلئے 30 دن میں این او سی جاری ہورہے ہیں۔سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کوخصوصی مراعات حاصل ہیں۔ صوبائی وزیرچوہدری شافع حسین نے کہاکہ وفاقی حکومت ٹیکس کی شرح کو سنگل ڈیجیٹ پر لانے کیلئے کام کر رہی ہے،جاب پورٹل بنایا گیا ہے جہاں سے انڈسٹری ضرورت کے مطابق ہنر مند افرادی قوت حاصل کرسکے گی۔مقامی مصنوعات کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے،زمین میں چھپے خزانوں کو بروئے کار لا کر ملک کو قرضوں سے نجات مل سکتی ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ قائد آباد میں سالٹ رینج کے قریب نئی انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جارہی ہے،اس انڈسٹریل اسٹیٹ میں پنک سالٹ کی ویلیو ایڈیشن کے کارخانے لگیں گے۔وفاقی حکومت نے چپ مینوفیکچرنگ کے لئے درکار میٹریل کی درآمد کی اجازت دے دی ہے،اب یہاں چپ مینوفیکچرنگ کے کارخانے بھی لگیں گے۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت نے کہاکہ میرے دورہ چین کے دوران پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے چین کی کمپنیوں کے ساتھ 21معاہدے ہوئے،6 معاہدوں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔پاکستان میں پہلی بار وی وو موبائل فون کی مینوفیکچرنگ جلد شروع ہونے جارہی ہے۔لیتھیئم بیٹریوں کی مینوفیکچرنگ کے کارخانے اور الیکٹرک وہیکلز کے ایسمبلنگ پلانٹ لگ رہے ہیں،جتنی غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اتنے ہی روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں برسوں سے جاری پراپرٹی کا کاروبار ہمیشہ کیلئے بند کروادیا۔انڈسٹریل اسٹیٹس میں پالیسی کے مطابق 2 سال میں کارخانہ نہ لگانے والوں کے پلاٹ کینسل کردئیے گئے ہیں۔نئی صنعتی پالیسی لائی جارہی ہے جس کے تحت انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی یونٹ لگانے کیلئے زمین لیز پر بھی حاصل کی سکے گی۔ چوہدری شافع حسین نے کہاکہ شوگر مل مالکان اربوں روپے کماتے ہیں لیکن بعض ملیں گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیاں بروقت نہیں کرتیں،کپاس نقد آور فصل ہے اور حکومت نے کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا ای وی سیکٹر کے فروغ پر فوکس ہے،پنجاب کابینہ نے 15سو مزید الیکٹرک بسوں کی درآمد کی منظوری دی ہے۔چین کی جس کمپنی سے الیکٹرک بسیں حاصل کی جارہی ہیں وہی کمپنی یہاں ای وی چارجنگ اسٹیشنز لگائے گی اور بعد از فروخت دیکھ بھال کی ذمے دار بھی ہوگی۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت نے کہاکہ ہمیں ہمت نہیں ہارنا،مقامی مصنوعات کو فروغ دینا ہے۔نیت صاف اور کام کرنے کی لگن ہو تو پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔صوبائی وزیر نے سکائی پاور فیکٹری میں تیار ہونے والے ٹرانسفارمرز اور دیگر مصنوعات کا مشاہدہ کیا۔سیمینار کے اختتام پر انٹرنیز انجینئرز میں شیلڈ ز تقسیم کی گئیں۔




