
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات پاکستان کے سرحدی علاقوں تک پہنچ گئے ہیں، جس سے نہ صرف ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی واپسی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی تیل، اشیائے خورونوش اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی افراد اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی:
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سرحدی شہر تفتان میں حکام نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہری ایران سے واپس آ چکے ہیں۔ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے بتایا کہ واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور واپس آنے والوں میں طلبہ، زائرین، سیاح اور تاجر شامل ہیں۔ ان شہریوں کو ابتدائی طور پر تفتان میں عارضی طور پر ٹھہرایا جاتا ہے، جہاں ابتدائی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور پھر انہیں سکیورٹی حصار میں کوئٹہ اور دیگر شہروں کی جانب روانہ کر دیا جاتا ہے۔
پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے سماجی رابطے کی سوشل میڈیا سائٹ "ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز میں تقریباً 650 پاکستانی شہریوں کو ایرانی حکام کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جن میں اکثریت پاکستانی طلبہ کی ہے۔ انہوں نے ایران میں موجود پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں اور صورتحال پر نظر رکھیں۔
ایران میں جاری کشیدہ صورتحال:
ایران میں جاری کشیدہ صورتحال اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث پاکستانی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بندش نے رابطوں میں مشکلات پیدا کر دی ہیں، تاہم بعض براہِ راست ٹیلی فون لائنیں جزوی طور پر فعال ہیں، جس کی مدد سے پاکستانی سفارتخانہ ایرانی حکام کے تعاون سے اپنے شہریوں کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔
پاکستانی سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی جانب سے کسی بھی ایرانی شہری کو ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور صرف ایرانی حکام کی درخواست پر وہاں موجود پاکستانی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
تجارت پر اثرات:
پاک ایران سرحد پر تجارت بھی اس کشیدہ صورتحال کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تفتان میں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جن میں آلو، کینو، چاول اور دیگر اشیائے خورونوش لدی ہوئی ہیں۔ مقامی تاجروں کے مطابق ایران کی طرف جانے والے راستے بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف ایران بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہونے والی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔
حاجی عبداللہ، جو کہ ایک آلو اور کینو کے تاجر ہیں، نے بتایا کہ جنگی صورتحال کے باعث انہیں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ، افغانستان کی سرحد گزشتہ کئی ماہ سے بند ہے، جس کے باعث پاکستان سے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو مال بھیجا جا رہا تھا، مگر ایران میں راستے بند ہونے کے بعد یہ تجارت رک چکی ہے۔
ایک مال بردار گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ وہ پنجاب سے آلو لوڈ کر کے ایران جانے والے تھے، لیکن سرحد پر رش کے باعث تفتان بازار سے این ایل سی ٹرمینل تک پہنچنے میں کئی دن لگ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد گاڑیوں میں موجود مال خراب ہو چکا ہے اور بعض تاجر سامان واپس کوئٹہ اور دیگر شہروں کی جانب لے جا رہے ہیں۔
ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بندش اور اثرات:
ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کے اثرات نہ صرف ایرانی شہریوں پر پڑے ہیں بلکہ سرحدی پاکستانی علاقوں میں بھی یہ اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تفتان اور دیگر سرحدی علاقوں میں کئی افراد ایرانی نیٹ ورک استعمال کرتے تھے کیونکہ وہاں کی انٹرنیٹ سروس کی رفتار پاکستان کی نسبت بہتر تھی، لیکن اب انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے یہ افراد رابطے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایرانی تیل کی قیمتوں میں اضافہ:
بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کوئٹہ میں ایرانی تیل کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی تیل کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ جنگ سے قبل ایرانی تیل کی قیمت تقریباً 165 روپے فی لیٹر تھی، مگر اب یہ قیمت 200 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ جیونی کے ایک تاجر نے بتایا کہ سرحد پار جو تیل 57 سے 60 روپے فی لیٹر ملتا تھا، اب وہ 100 روپے میں بھی دستیاب نہیں۔
غیر رسمی تجارت اور ایرانی اشیاء کی سمگلنگ:
رسمی تجارت کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں غیر رسمی تجارت اور ایرانی اشیاء کی سمگلنگ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی خشک دودھ، بسکٹ اور ایرانی تیل جیسے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو آیا ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان کے سرحدی علاقے جیونی میں ایرانی سمندری حدود کی جانب مچھلی کے شکار کے لیے جانے والے پاکستانی ماہی گیروں کو بھی سختی سے منع کیا گیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پاکستانی حکومت کی امدادی اقدامات:
پاکستانی حکومت نے ایران سے واپس آنے والے شہریوں کو رہائش، خوراک اور آگے سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو فعال کر دیا ہے۔ گوادر کے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کے مطابق، اتوار تک 51 پاکستانی شہری واپس آ چکے ہیں جن میں اکثریت طلبہ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ واپس آنے والوں کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔
نتیجہ:
ایران میں جاری کشیدہ صورتحال اور اس کے اثرات پاکستانی سرحدی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ ایرانی تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، غیر رسمی تجارت کا متاثر ہونا اور ایرانی نیٹ ورک کی بندش سے سرحدی علاقے میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی حکومت کی جانب سے شہریوں کی واپسی کے لیے امدادی اقدامات اور ایران کے ساتھ تعاون جاری ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔




