سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،اے پی پی کے ساتھ
اسلام آباد میں چھٹی بین الاقوامی “پیغامِ اسلام” کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جو 6 مئی کو جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، جبکہ مسلم اُمہ کو درپیش چیلنجز پر مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دینا ہے۔
فلسطین کے مفتی اعظم اور چیف جسٹس کی آمد
سرکاری خبر رساں ادارے(اے پی پی) کے مطابق فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد احمد حسین اور فلسطین کے چیف جسٹس ڈاکٹر محمود الہباش پیر کے روز پانچ روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے۔
ان کے ہمراہ آنے والا وفد نہ صرف کانفرنس میں شرکت کرے گا بلکہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و مذہبی قیادت سے اہم ملاقاتیں بھی کرے گا۔
پرتپاک استقبال اور سرکاری نمائندگی
اسلام آباد پہنچنے پر مہمان شخصیات کا استقبال حافظ محمد طاہر محمود اشرفی (چیئرمین پاکستان علماء کونسل)، وزارتِ مذہبی امور کے سینئر حکام اور پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر نے کیا۔
یہ استقبال دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور سفارتی تعلقات کی مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے مقاصد اور اہمیت
“پیغامِ اسلام” کانفرنس ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آ رہی ہے جہاں:
- مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور مذہبی رہنما اکٹھے ہوں گے
- عالمی سطح پر اسلام کے امن پسند پیغام کو اجاگر کیا جائے گا
- مسلم اُمہ کو درپیش مسائل، خصوصاً فلسطین، پر مشترکہ مؤقف اپنایا جائے گا
- بین الاقوامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور مکالمے کو فروغ دیا جائے گا
کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے ممتاز علماء، روحانی پیشوا اور دانشور شرکت کریں گے۔
پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں
دورے کے دوران فلسطینی وفد کی ملاقاتیں پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے متوقع ہیں، جن میں شامل ہیں:
- شہباز شریف
- آصف علی زرداری
- اسحاق ڈار
- سید عاصم منیر
ان ملاقاتوں میں پاکستان اور فلسطین کے درمیان تعلقات، علاقائی صورتحال اور مسلم دنیا کے مشترکہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
فلسطینی قیادت کا پاکستان کے لیے پیغام
اے پی پی کے مطابق مفتی اعظم شیخ محمد احمد حسین نے فلسطین کی حمایت پر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی حمایت کی ہے، جو قابلِ قدر ہے۔
یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان گہرے مذہبی اور سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
مسلم اُمہ کے اتحاد پر زور
کانفرنس کے منتظمین کے مطابق یہ ایونٹ مسلم اُمہ کے اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ:
“یہ کانفرنس ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئے گی جہاں اہم عالمی مسائل پر مشترکہ مؤقف پیش کیا جائے گا اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کیا جائے گا۔”
غزہ کی صورتحال اور عالمی ردعمل
کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان نے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق حالیہ جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان اور فلسطین: مضبوط اور دیرینہ تعلقات
پاکستان اور فلسطین کے درمیان تعلقات تاریخی، مذہبی اور سفارتی بنیادوں پر قائم ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ:
- فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا
- عالمی فورمز پر فلسطینی مؤقف کی حمایت کی
- انسانی امداد اور سفارتی تعاون فراہم کیا
یہ دورہ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
نتیجہ: امن، اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت
بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس نہ صرف مذہبی ہم آہنگی بلکہ عالمی سطح پر مسلم اُمہ کے اتحاد کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ فلسطینی قیادت کی شرکت اس کانفرنس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے مواقع مسلم دنیا کے لیے نہایت اہم ہیں، جہاں اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مسائل کے حل کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔



