یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس یوکرینی ڈرون حملوں سے خوف زدہ ہے۔ اسی لیے اس نے دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی سالانہ یادگاری پریڈ میں اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس نے دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی سالانہ یادگاری پریڈ میں فوجی ساز و سامان کی نمائش نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ دراصل یوکرینی ڈرون حملوں کے خوف کی وجہ سے کیا گیا ہے، اور یہ ماسکو کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا ثبوت ہے۔صدر زیلنسکی نے پیر کے روز یریوان میں یورپی پولیٹیکل کمیونٹی کے سربراہی اجلاس میں شریک رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”یہ موسم گرما وہ وقت ہوگا جب (روسی صدر ولادیمیر) پوٹن فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ جنگ کو بڑھانا ہے یا سفارت کاری کی طرف جانا ہے۔ اور ہمیں انہیں سفارت کاری کی طرف دھکیلنا ہو گا۔‘‘انہوں نے کہا، ”روس نے 9 مئی کو ماسکو میں فوجی ساز و سامان کے بغیر پریڈ کا اعلان کیا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں زیلنسکی نے روسی وزارت دفاع کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا۔صدر زیلنسکی نے کہا، ”اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کئی، بلکہ پچھلے کئی سالوں میں پہلی بار ہو گا۔ وہ فوجی ساز و سامان کی نمائش کے متحمل نہیں ہو سکتے، انہیں خدشہ ہے کہ یوکرینی ڈرونز ریڈ اسکوائر کے اوپر منڈلا سکتے ہیں۔ یہ بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس وقت مضبوط نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ”ہمیں پابندیوں کے ذریعے ان پر دباؤ برقرار رکھنا ہوگا۔ براہ کرم پابندیوں میں نرمی کے کسی بھی خیال کی مخالفت کریں، یہ بہت اہم ہے۔‘‘ماسکو میں مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ ماحول میں طاقت کے شاندار مظاہرے والی فوجی پریڈ موزوں نہیں لگتی۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کا وکٹری ڈے پریڈ میں فوجی ساز و سامان کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ ماسکو کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا ثبوت ہےتصویر: /Sergey Bobylev/SNA/IMAGO
حملوں کا سلسلہ جاری
یوکرینی صدر کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کے خلاف اپنے جنگی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ یوکرین کے مشرق میں خارکیف کے علاقے میں ایک روسی میزائل حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔علاقائی فوجی گورنر اولیہ سینیہوبوف نے پیر کے روز بتایا کہ میریفا شہر پر ہونے والے اس حملے میں 18 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔گورنر کے مطابق متعدد رہائشی مکانات، بلند عمارتیں اور دکانیں بھی تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیزلیودیفکا کی بستی پر بھی ایک ڈرون حملہ کیا گیا۔روس گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے یوکرین کے خلاف بھرپور جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ادھر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پیر چار مئی کو روسی دارالحکومت کے میئر سیرگئی سوبیانن کے حوالے سے بتایا کہ یوکرین کے ایک ڈرون نے رات کے وقت ایک حملے میں ماسکو کے ایک مہنگے علاقے میں واقع ایک بلند رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔ماسکو جیسے سخت سکیورٹی والے شہر پر یہ ایک غیر معمولی حملہ ہے، جو روس میں نو مئی کی سالانہ فوجی پریڈ سے چند ہی دن قبل کیا گیا۔میئر سوبیانن نے کہا، ”ایک ڈرون موسفلموفسکایا کے علاقے میں ایک عمارت سے ٹکرا گیا، تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘‘انہوں نے وضاحت کی کہ یہ علاقہ ماسکو کے فلم اسٹوڈیو کے قریب ایک پوش علاقہ ہے اور کریملن سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رات کے دوران ماسکو کو نشانہ بنانے والے دو ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ بھی کر دیا۔بعد ازاں ایک اور بیان میں سوبیانن نے کہا کہ صبح کے مصروف اوقات میں بھی روسی دارالحکومت کے اوپر ایک اور یوکرینی مسلح ڈرون کو مار گرایا گیا۔روس کے سرکاری نشریاتی ادارے روسیا-1 نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ایک متاثرہ اپارٹمنٹ کے اندر گری ہوئی دیواریں اور ٹوٹے ہوئے دروازے دکھائے گئے ہیں۔