پاکستانتازہ ترین

پاک فوج کی بڑی کارروائی: 50 مقامات پر دہشت گرد ٹھکانے تباہ، آپریشن “غضب للحق” کے تحت مؤثر جواب

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد اہم ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاک فوج نے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ایک بڑی اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے 50 مختلف مقامات پر ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر کے خلاف کی گئیں، جو سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کا استعمال

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب ہونے والی ان کارروائیوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ کارروائیاں نہایت منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر، اسلحہ ڈپو اور تربیتی مراکز کو مکمل طور پر تباہ کرنا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد اہم ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔

کن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا؟

کارروائیوں کے دوران بلوچستان کے مختلف سرحدی سیکٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں:

  • قلعہ سیف اللہ

  • چمن

  • سمبازہ

  • گھڈوانہ

  • جانی

  • غزنالی سیکٹر

یہ وہ علاقے بتائے جاتے ہیں جہاں سے دہشت گرد عناصر سرحد پار سے پاکستان میں دراندازی اور تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی

سکیورٹی حکام کے مطابق یہ تمام مقامات پاکستان میں دہشت گردی کے لیے لانچنگ پیڈز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ ان کارروائیوں کا مقصد نہ صرف فوری خطرات کا خاتمہ کرنا تھا بلکہ مستقبل میں دہشت گردی کی کوششوں کو بھی ناکام بنانا تھا۔

پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔

آپریشن “غضب للحق” جاری

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں آپریشن “غضب للحق” کے تحت کی گئیں، جو دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

فوجی قیادت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک یا تنظیم کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور نہ ہی پاکستان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت برداشت کی جائے گی۔

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button