صحتتازہ ترین

جرمنی میں اعضاء عطیہ کرنے والے کم اور منتظر مریض زیادہ

2003 سے اعضاء عطیہ کرنے کے بارے میں مختلف انداز سے آگہی پھیلا رہی ہے، اور یہ ٹیٹو بنوانا بھی اس میں شامل ہے۔

اولیور پیپر

جرمنی میں ہزاروں افراد دل، جگر اور گردوں جیسے اعضاء کے منتظر ہیں، مگر عطیات میں کمی کے باعث ہر سال سینکڑوں مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اب جرمنی میں پیشگی رضامندی کے نظام کے نفاذ پر بحث دوبارہ زور پکڑ گئی ہے۔

"Optink” جرمنی میں ایک ایسا منصوبہ ہے، جس میں آپ "O” اور "D” کے حروف کا ٹیٹو مفت بنوا سکتے ہیں۔ یہ دونوں حروف "Organ Donor” کا مخفف ہیں۔ ‘آپٹ انک‘ دراصل "Junge Helden” یعنی ”نوجوان ہیروز” نامی تنظیم کا ایک منصوبہ ہے، جو 2003 سے اعضاء عطیہ کرنے کے بارے میں مختلف انداز سے آگہی پھیلا رہی ہے، اور یہ ٹیٹو بنوانا بھی اس میں شامل ہے۔ تنظیم کے مطابق تقریباً 30 ہزار افراد اپنے ٹخنوں، کلائیوں یا بازوؤں پر یہ ٹیٹو بنوا چکے ہیں۔

مایوسی کا نتیجہ

انگیلا ایپاخ نوجوان ہیروز کی شریک بانی ہیں۔ ان کی بہن چار سال تک پھیپھڑے کے عطیے کی منتظر رہیں اور صرف 30 برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔ ایپاخ نے بتایا، ”ٹیٹو کا خیال ایک حد تک مایوسی کے نتیجے میں پیدا ہوا، جب 2020 میں جرمن پارلیمان نے ”اعتراضی نظام” یا پیشگی رضامندی کے نظام کو مسترد کر دیا۔ پھر ہم نے یہ مہم شروع کی، جسے اعزازات بھی ملے، سینکڑوں ٹیٹو اسٹوڈیوز اس میں شامل ہوئے، اور مئی 2024 میں ہم نے جرمن پارلیمان کے اندر بھی ٹیٹو بنائے۔ اس سے اس منصوبے کو زبردست فروغ ملا۔”

Deutschland | Opt.Ink Projekt des Vereins Junge Helden e.V. für Organspende-Tattoo
"Optink” جرمنی میں ایک ایسا منصوبہ ہے، جس میں آپ "O” اور "D” کے حروف کا ٹیٹو مفت بنوا سکتے ہیںتصویر: Dirk Laessig

اعتراضی نظام کیا ہے؟

اعتراضی نظام کو انگریزی میں Opt-out system کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ایک ایسا نظام ہے، جس میں ہر شخص کو خود بخود اعضاء کا عطیہ کنندہ تصور کیا جاتا ہے، جب تک کہ وہ اپنی زندگی میں واضح طور پر اس سے انکار نہ کر دے۔ یعنی، اگر آپ نے پہلے سے ”نہیں” نہیں کہا، تو اسے ”ہاں” سمجھا جاتا ہے۔

چھ سال قبل جرمن پارلیمان میں آخری بار اعتراضی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ فی الحال جرمنی میں ‘کنسینٹ سسٹم‘ یعنی ”رضامندی والا نظام” نافذ ہے، جس کے تحت کسی بھی شخص کے اعضاء صرف اسی صورت میں بطور عطیہ استعمال کیے جا سکتے ہیں، جب اس نے اپنی زندگی میں ہی واضح طور پر اس کی اجازت دی ہو۔

جرمنی یورپ میں تنہا

اس حوالے سے جرمنی یورپ میں تقریباً تنہا ہے۔ فرانس، اٹلی، آسٹریا، اسپین، نیدرلینڈز، بیلجیم، پولینڈ اور پرتگال پہلے ہی اعتراضی نظام نافذ کر چکے ہیں۔

جہاں یہ نظام نافذ نہیں، وہاں اس کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ جرمن فاؤنڈیشن فار آرگن ٹرانس پلانٹیشن (DSO) کے مطابق 2025 میں جرمنی میں اعضاء کی پیوند کاری کے انتظار میں 633 افراد کی موت واقع ہو گئی۔ اس وقت بھی کسی نہ کسی جسمانی عضو کے عطیے کے منتظر افراد کی فہرست تقریباً 8200 ناموں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثریت گردوں کے عطیات کی منتظر ہے، جس کے لیے فی کس اوسط انتظار تقریباً آٹھ سال بنتا ہے۔

انگیلا ایپاخ نے اس صورتحال پر حیرت کا اظہار کیا ہے، ”بہت سے لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ آخر کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں چھ سال تک کچھ بھی نہ ہو؟ جو لوگ Opt-out system کے خلاف ہیں، انہیں اب خود کوئی مؤثر متبادل حل پیش کرنا چاہیے۔”

لوگوں کی توجہ

ہوبرٹ کنِکر کے لیے بھی یہ موضوع زندگی کا مشن بن چکا ہے۔ دل کی شدید سوزش اور کچھ عرصہ ایک مصنوعی دل کے سہارے زندہ رہنے کے بعد، انہیں 16 سال پہلے ایک عطیہ کردہ دل مل گیا تھا۔ انہوں نے اپنی متاثر کن کہانی ایک کتاب میں بیان کی۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر لیکچر بھی دیتے ہیں، ”جب میں طلبہ سے بات کرتا ہوں تو مکمل خاموشی چھا جاتی ہے، سب توجہ سے سنتے ہیں، کیونکہ اکثر لوگوں نے کبھی اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں ہوتا۔ میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اگر مجھے کوئی عطیہ کردہ دل مل گیا اور میں زندہ بچ گیا، تو میں اس مقصد کے لیے کام کروں گا۔”

جرمنی میں قانونی طور پر اعضاء کا عطیہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب کسی ہستال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) میں مریض کی دماغی موت (Brain Death) کی تصدیق ہو جائے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق جرمنی میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ اعضا اور بافتوں یعنی ٹشوز کے عطیات کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button