دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو ہفتہ چھ جون کے روز اپنے کئی روزہ دورے پر اسپین پہنچ گئے۔ یہ ان کا پاپائے روم کے طور پر اسپین کا اولین سرکاری دورہ ہے اور گزشتہ 15 برسوں میں کسی بھی پوپ کا اسپین کا پہلا دورہ بھی۔
اس کے علاوہ اپنے اس دورے کے دوران پوپ لیو میڈرڈ میں ہسپانوی پارلیمان سے خطاب بھی کریں گے۔ ان سے پہلے آج تک کسی بھی پوپ نے میڈرڈ میں اسپین کی قومی پارلیمان سے کبھی خطاب نہیں کیا۔
کلیسائے روم کے سربراہ کا جزیرہ نما آئبیریا کی بادشاہت اسپین کا ہفتہ چھ جون کو شروع ہونے والا یہ دورہ 12 جون کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

پاپائے روم کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ
میڈرڈ پہنچنے کے بعد پوپ لیو نے اس دورے کے دوران اپنا جو پہلا خطاب کیا، وہ اپنے پیغام میں بہت پرزور اور بالکل واضح تھا۔
پوپ لیو نے عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’امن کے لیے روتی اور چیخیں مارتی ہوئی دنیا کی آوازیں‘‘ سننا چاہییں۔
پوپ لیو کے الفاظ میں، ’’(عالمی رہنماؤں کو) صرف اپنی مقبولیت میں اضافے کے لیے معاملات کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتے ہوئے عوام کو تقسیم کر دینے کی روش ترک کرنا چاہیے۔‘‘
پوپ لیو نے حالیہ ہفتوں میں ایران جنگ اور تارکین وطن کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے جنگوں سے تباہی اور مہاجرین کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف جو بیانات دیے تھے، ان پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کافی ناراض ہو گئے تھے۔ اپنی اس ناراضی کے اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پوپ پر بہت کم نظر آنے والے تنقید بھی کی تھی۔

اس کے جواب میں پوپ لیو نے کہا تھا کہ جنگوں کی تباہ کاریوں اور خود پسند حکمرانوں کے خلاف آئندہ بھی بولتے رہیں گے۔
اس پس منظر میں پوپ لیو اسپین میں اپنے قیام کے دوران میڈرڈ میں بے گھر انسانوں اور جزائر کیناری پر تارکین وطن سے بھی ملیں گے۔
میڈرڈ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پاپائے روم بے گھر انسانوں اور تارکین وطن اور مہاجرین سے مل کر اس بارے میں دنیا کے لیے ایک عملی مثال قائم کریں گے کہ ’’ہر انسان کی عزت اور تکریم‘‘ کی جانا چاہیے۔



