صحتتازہ ترین

پاکستانی ادویات پر پابندی کے بعد افغانستان میں دواؤں کا بحران سنگین، قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ،رپورٹ

طالبان حکومت کے فیصلے نے صحت کے شعبے کو مشکل امتحان میں ڈال دیا، متبادل ذرائع کی تلاش جاری

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

افغانستان کئی ماہ سے ادویات کے ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کیے جانے کے بعد ملک بھر میں دواؤں کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ہسپتالوں، کلینکس اور فارمیسیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مریضوں کے لیے ضروری ادویات کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق افغانستان اپنی ادویات کی تقریباً 70 فیصد ضروریات پاکستان سے درآمد کی جانے والی دواؤں کے ذریعے پوری کرتا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ کا بنیادی حصہ رہی ہیں اور لاکھوں مریض انہی دواؤں کے استعمال کے عادی ہو چکے ہیں۔

سرحدی کشیدگی کے بعد تجارتی تعلقات متاثر

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد ہوا۔ ان واقعات کے بعد طالبان حکومت نے پاکستان کے ساتھ مختلف تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا شروع کیا۔

نومبر 2025 میں طالبان حکومت کے اقتصادی امور کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں اور کمپنیوں کو پاکستان کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی تھی۔ بعد ازاں افغان وزارت خزانہ نے 9 فروری 2026 سے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی نافذ کر دی اور واضح کیا کہ اس تاریخ کے بعد پاکستانی ادویات کی خرید و فروخت غیر قانونی تصور کی جائے گی۔

افغان مارکیٹ میں پاکستانی ادویات کی گہری جڑیں

افغانستان فارماسیوٹیکل سروسز یونین کے مطابق پاکستانی ادویات گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے افغان مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی تھیں۔ اس وجہ سے مریضوں، ڈاکٹروں اور فارماسسٹوں کے لیے اچانک متبادل ادویات پر منتقل ہونا آسان نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی بیماریوں خصوصاً دل، شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر دائمی امراض کی ادویات کے حوالے سے مریض مخصوص برانڈز پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایسے میں نئی دواؤں کو قبول کروانا نہ صرف طبی بلکہ نفسیاتی چیلنج بھی بن چکا ہے۔

روس، بھارت، ایران اور ترکی متبادل ذرائع کے طور پر سامنے آگئے

پاکستانی ادویات کی کمی پوری کرنے کے لیے طالبان حکومت نے مختلف ممالک کی دوا ساز کمپنیوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔

روسی دوا ساز کمپنی "فارماسنتھ” نے اعلان کیا ہے کہ افغان وزارت صحت کے ساتھ معاہدے کے بعد وہ موسم گرما کے دوران افغانستان کو ادویات برآمد کرنا شروع کرے گی۔ کمپنی کے مطابق پہلی کھیپ آئندہ دو ماہ کے اندر افغانستان پہنچنے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ طالبان حکومت بھارت، ایران، ازبکستان اور ترکی کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ افغان مارکیٹ میں پیدا ہونے والا خلا پر کیا جا سکے۔ تاہم ابھی تک یہ متبادل ذرائع مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے۔

نقل و حمل کے مسائل نے بحران مزید گہرا کر دیا

افغان فارمیسی مالکان اور ادویات کے درآمد کنندگان کے مطابق متبادل ممالک سے ادویات درآمد کرنا ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ثابت ہو رہا ہے۔

ماضی میں بھارتی ادویات پاکستان کی کراچی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان پہنچتی تھیں، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور تجارتی پابندیوں کے بعد یہ راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔

کابل کے ایک ڈاکٹر کے مطابق بھارتی ادویات کی ترسیل کے لیے ایران کے اسلام قلعہ بارڈر کراسنگ اور بندرگاہ چاہ بہار کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، لیکن ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور امریکی پابندیوں نے اس راستے کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کے باعث ادویات کی قیمتیں 10 سے 15 فیصد تک بڑھ چکی تھیں، جبکہ حالیہ حالات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مریض پاکستانی ادویات کی تلاش میں سرگرداں

کابل سمیت مختلف افغان شہروں میں مریض اب بھی پاکستانی ادویات کی تلاش میں ہیں۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے مخصوص پاکستانی دوائیں استعمال کرتے رہے ہیں اور نئی ادویات پر اعتماد کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ نہ صرف مریض بلکہ بعض ڈاکٹر اور فارماسسٹ بھی نئی درآمد شدہ ادویات سے مکمل طور پر واقف نہیں ہیں کیونکہ ان کی پیشہ ورانہ تربیت اور تجربہ زیادہ تر پاکستانی ادویات کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔

اسی وجہ سے بہت سے مریض اب بھی اسمگلنگ کے ذریعے آنے والی پاکستانی ادویات خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔

اسمگلنگ میں اضافہ، طالبان کی کارروائیاں

طالبان حکام نے حالیہ مہینوں میں متعدد بار پاکستان سے اسمگل ہونے والی ادویات کی بڑی کھیپ ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں صوبہ نیمروز میں کئی ٹن پاکستانی ادویات پکڑی گئیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں ان دواؤں کی طلب بدستور موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان حکومت نے ملک بھر کے ادویات کے گوداموں کا سروے بھی مکمل کیا ہے تاکہ پاکستانی ادویات کے ذخائر کا اندازہ لگایا جا سکے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی ادویات ذخیرہ کرنے یا غیر قانونی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

کابل میں فارمیسی کے مالک اور ادویات درآمد کرنے والے تاجر تواب احمد زئی کے مطابق پابندی کے بعد دواؤں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض ادویات کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔

"جو دوا ہم پہلے 100 افغانی میں خریدتے تھے، اب اس کی قیمت 150 سے 170 افغانی تک پہنچ چکی ہے۔”

ان کے مطابق مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ کئی ایسی ادویات بھی ہیں جن کا قابل اعتماد متبادل ابھی تک مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔

ڈاکٹروں کو بھی نئے متبادل پر اعتماد میں وقت درکار

ماہر امراض متعدیہ ڈاکٹر محمد عارف شہاب کا کہنا ہے کہ خاص طور پر دائمی بیماریوں کے مریضوں کو نئی ادویات استعمال کرنے پر آمادہ کرنا ایک مشکل عمل ہے۔

ان کے مطابق دل کے امراض اور دیگر حساس بیماریوں میں استعمال ہونے والی بعض ادویات کے مؤثر متبادل ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو بھی نئی ادویات کے معیار، افادیت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں مکمل اعتماد حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے موقع یا چیلنج؟

اگرچہ موجودہ صورتحال کو ایک بحران قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض ماہرین اسے افغانستان کی مقامی دوا ساز صنعت کے لیے ایک موقع بھی سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر شہاب کے مطابق مختصر مدت میں مشکلات کا سامنا ناگزیر ہے، لیکن طویل مدت میں یہ فیصلہ افغانستان کو بیرونی انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان دوا ساز کمپنیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ اقسام کی ادویات تیار کر رہی ہیں اور اگر مناسب حکومتی حمایت فراہم کی جائے تو مستقبل میں ملکی ضروریات کا بڑا حصہ مقامی سطح پر پورا کیا جا سکتا ہے۔

صحت کا شعبہ ایک نازک موڑ پر

پاکستانی ادویات پر پابندی، متبادل سپلائی چینز کی تلاش، بڑھتی ہوئی قیمتیں، اسمگلنگ اور مریضوں کے اعتماد کے بحران نے افغانستان کے صحت کے شعبے کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نئی ادویات کہاں سے آئیں گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا یہ ادویات مستقل بنیادوں پر، مناسب قیمتوں پر اور ایسے معیار کے ساتھ دستیاب ہو سکیں گی جس پر ڈاکٹر اور مریض دونوں اعتماد کر سکیں۔

فی الحال افغانستان کا فارماسیوٹیکل سیکٹر ایک ایسے امتحان سے گزر رہا ہے جس کے نتائج آنے والے مہینوں میں ملک کے صحت کے نظام کی سمت کا تعین کریں گے۔

یہ مسودہ اخبارات، نیوز ویب سائٹس یا میگزین میں شائع کرنے کے لیے موزوں انداز میں تیار کیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button