صحتتازہ ترین

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 1,332 حملے، 636 مقامات نشانہ بنے، امدادی مراکز بھی متاثر: ایرانی ہلال احمر

ایرانی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں خطرناک حالات کے باوجود متاثرہ علاقوں میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تہران: ایران کی امدادی تنظیم Iranian Red Crescent Society نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں کے دوران ملک بھر میں سینکڑوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں امدادی اور طبی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی ہلال احمر کے جاری کردہ بیان کے مطابق اب تک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران 636 مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 1,332 حملے کیے گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا بلکہ انسانی امداد فراہم کرنے والے ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

امدادی اور طبی مراکز متاثر

ادارے کے مطابق حملوں کے دوران کم از کم 21 امدادی اور طبی مراکز شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان مراکز میں ایمرجنسی ریسکیو اسٹیشنز، طبی امداد کے یونٹس اور امدادی سامان کے ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔

ایرانی ہلال احمر کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز کا بنیادی مقصد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا اور ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی مدد کرنا تھا، تاہم حملوں کے باعث ان کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

امدادی سرگرمیوں کو مشکلات

ادارے کے مطابق امدادی مراکز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ریسکیو اور طبی امداد کی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ کچھ مراکز مکمل طور پر تباہ یا جزوی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں خطرناک حالات کے باوجود متاثرہ علاقوں میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

بنیادی ڈھانچے کو نقصان

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں، سڑکوں، مواصلاتی نظام اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کئی مقامات پر بجلی اور مواصلات کی سہولیات متاثر ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔

انسانی ہمدردی کے اصولوں پر تشویش

ایرانی ہلال احمر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگی حالات میں انسانی ہمدردی کے اصولوں کا احترام یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ امدادی اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری

ادارے کے مطابق شدید خطرات کے باوجود اس کی ٹیمیں ملک کے مختلف حصوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریسکیو کارکن ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے بلکہ بنیادی سہولیات اور امدادی نظام پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button