چین کے دو سابق وزرائے دفاع کو بدعنوانی کے جرم میں موت کی سزا
شنہوا نے 2024 میں لکھا تھا کہ ان کے مجرمانہ اقدامات ''انتہائی سنگین نوعیت‘‘ کے تھے، جن کے ''بہت منفی اثرات اور شدید نقصانات‘‘ ہوئے تھے۔
روئٹرز اور اے پی کے ساتھ
اس سال کے آغاز میں یہ کارروائیاں مزید شدت اختیار کر گئیں، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اعلیٰ جنرل ژانگ یوشیا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ پولٹ بیورو کے رکن تھے اور طویل عرصے سے شی جن پنگ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کی رپورٹوں کے مطابق لی شانگ فو پر ‘بھاری رقوم بطور رشوت لینے‘ اور دوسروں کو رشوت دینے کے الزامات تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ انہوں نے ‘سیاسی ذمہ داریاں پوری نہیں کی تھیں‘ اور ‘اپنے اور دوسروں کے لیے ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی‘۔
دوسری جانب وے فینگ ہے کے خلاف 2023 میں شروع ہونے والی تحقیقات میں ان پر ‘بڑی رقوم اور قیمتی اشیاء بطور رشوت لینے‘ اور ‘عملے کی تقرریوں میں دوسروں کو ناجائز فوائد پہنچانے‘ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
شنہوا نے 2024 میں لکھا تھا کہ ان کے مجرمانہ اقدامات ”انتہائی سنگین نوعیت‘‘ کے تھے، جن کے ”بہت منفی اثرات اور شدید نقصانات‘‘ ہوئے تھے۔

سزائے موت کی عمر قید میں تبدیلی
چین میں دو سال کی مہلت کے ساتھ سنائی جانے والی سزائے موت عام طور پر عمر قید میں تبدیل کر دی جاتی ہے، بشرطیکہ مجرم اس مدت کے دوران کوئی نیا جرم نہ کرے۔
شنہوا کے مطابق سزا میں تبدیلی کے بعد وے اور لی کو عمر بھر قید میں رکھا جائے گا، اور انہیں سزا میں مزید کسی کمی یا پیرول کی سہولت نہیں ملے گی۔
چین میں وزارتی سطح کے مجرموں کی سزا میں نرمی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ سابق وزیر انصاف فو ژینگ ہوا کو 2022 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جو بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی۔ اسی طرح سابق وزیر ریل لیو ژی جن کے ساتھ بھی ہوا تھا، جنہیں 2013 میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

دیگر افراد کے لیے تنبیہ
پیپلز لبریشن آرمی نے اپنے سرکاری اخبار میں پارٹی اراکین اور فوجی افسران پر زور دیا ہے کہ وہ ان دونوں مقدمات سے سبق حاصل کریں، اور چین میں حکمران کمیونسٹ پارٹی سے ‘تقسیم شدہ وفاداری‘ رکھنے سے گریز کریں۔
پی ایل اے ڈیلی نے جمعے کو شائع ہونے والے ایک تبصرے میں کہا، ”فوج میں موجود پارٹی اراکین اور افسران، خصوصاً سینئر عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ وے فینگ ہے اور لی شانگ فو جیسے بدعنوان اہلکاروں کو، جن کے خلاف تحقیقات ہوئیں اور جنہیں سزائیں سنائی گئیں، عبرت کی مثال سمجھیں۔‘‘
فوج نے کہا کہ وے اور لی نے پارٹی کے مقصد، قومی دفاع، فوجی تعمیر و ترقی، اور اعلیٰ قیادت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
اس معاملے پر سنگاپور میں مقیم چینی سکیورٹی امور کے ماہر جیمز چار کا کہنا ہے، ”حالیہ برسوں میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے کسی رکن کو دی جانے والی یہ سب سے سخت سزا ہے۔‘‘
ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ جیمز چار کے مطابق ‘بغیر پیرول یا رعایت کے عمر قید‘ ان کے جرائم کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ ایسی سزائیں عام طور پر انتہائی سنگین جرائم کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔
غیر ملکی سفارتکار اور تجزیہ کار چین میں جاری انسداد بدعنوانی مہم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
لندن میں قائم تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹدیز نے رواں سال ایک بیان میں کہا تھا کہ چینی فوج میں جاری احتسابی کارروائیوں سے کمانڈ اسٹرکچر میں سنگین خامیاں پیدا ہو رہی ہیں اور اس سے چین کی تیزی سے جدید بننے والی فوجی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔



