سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے 7 اور 8 مئی 2026 کو دو مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران ہندوستانی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائیاں ضلع ٹانک اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئیں، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں کارروائیاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئیں اور اس دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
ضلع ٹانک میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں ہندوستانی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشت گرد موجود تھے جو دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں گھیرے میں لیا۔ جیسے ہی فورسز نے پیش قدمی کی، دہشت گردوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی، جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اور کامیاب کارروائی
ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک علیحدہ کارروائی کی۔
آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک خارجی ہلاک کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سرگرم تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔

اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کارروائیوں میں ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ، خودکار ہتھیار اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
برآمد ہونے والے اسلحے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق دہشت گرد مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔
“اعظم استحکم” وژن کے تحت کارروائیاں جاری
سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وژن “اعظم استحکم” کے تحت کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
یہ وژن نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی سپریم کمیٹی کی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا، جس کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور انتہا پسند عناصر کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینی ٹائزیشن آپریشن پوری رفتار سے جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد یا سہولت کار کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
سیکیورٹی فورسز کے عزم کا اعادہ
پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ قوم کی حمایت اور تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائی جائے گی، جبکہ ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
عوام کا سیکیورٹی فورسز پر اعتماد
مقامی عوام نے کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مسلسل اقدامات سے علاقے میں امن و استحکام کی امید مزید مضبوط ہوئی ہے۔
شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔



