سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
آسٹریلیا نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے تین اہم رہنماؤں پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور ان کی معاونت کے الزام میں سخت مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی حکومت نے اس اقدام کو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے پاکستان میں عام شہریوں، سکیورٹی فورسز، اہم تنصیبات اور غیر ملکی شہریوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے اور ایسے عناصر کے مالی ذرائع ختم کرنے کیلئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
بی ایل اے اور تین رہنما کنسولیڈیٹڈ لسٹ میں شامل
آسٹریلوی حکومت نے بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ، حمل ریحان بلوچ اور جئیند بلوچ کو بھی اپنی “کنسولیڈیٹڈ لسٹ” میں شامل کر لیا ہے۔
یہ آسٹریلیا کی مرکزی پابندیوں کی فہرست ہے جس میں شامل افراد اور تنظیموں پر:
- مالی پابندیاں
- سفری پابندیاں
- اسلحہ کی پابندیاں
- بحری پابندیاں
عائد کی جا سکتی ہیں۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق ان افراد اور تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنا، اثاثے منتقل کرنا یا کسی قسم کی مدد کرنا اب قانوناً جرم تصور ہوگا۔
دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے پر زور
آسٹریلوی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گرد تنظیموں کے مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے تاکہ:
- حملوں کی منصوبہ بندی مشکل ہو
- دہشت گردی کیلئے فنڈنگ روکی جا سکے
- بھرتی کے نیٹ ورکس کمزور ہوں
- شدت پسند نظریات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے
بیان میں کہا گیا:
“آسٹریلیا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کیلئے کام جاری رکھے گا جو علاقائی اور عالمی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔”
خلاف ورزی پر دس سال قید اور بھاری جرمانہ
آسٹریلوی قوانین کے تحت بی ایل اے یا اس سے وابستہ افراد کو مالی معاونت فراہم کرنا اب سنگین جرم ہوگا۔ حکام کے مطابق پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو:
- بھاری مالی جرمانے
- اور دس سال تک قید
کی سزا دی جا سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بی ایل اے کی عالمی سطح پر سرگرمیوں کو محدود کرے گا بلکہ اس کے بیرون ملک موجود مالی نیٹ ورکس کیلئے بھی بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
بشیر زیب بلوچ کون ہیں؟
بشیر زیب بلوچ بلوچ لبریشن آرمی کے موجودہ سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اسلم بلوچ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی قیادت سنبھال چکے ہیں۔ ماضی میں وہ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (آزاد) کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی سے بتایا جاتا ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے ان کی گرفتاری کیلئے بھاری انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بشیر زیب تنظیمی ڈھانچے، عسکری حکمت عملی اور بیرونی روابط میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
حمل ریحان اور جئیند بلوچ کا کردار
امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹس کے مطابق حمل ریحان بلوچ بی ایل اے کے خودکش ونگ “مجید بریگیڈ” کے آپریشنل چیف سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:
- وہ خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں
- حملہ آوروں کی تربیت اور نیٹ ورکنگ میں کردار ادا کرتے ہیں
- مختلف کارروائیوں کی نگرانی کرتے رہے ہیں
جبکہ جئیند بلوچ تنظیم کے ترجمان اور فیلڈ کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور تنظیم کی میڈیا، پروپیگنڈا اور اطلاعاتی حکمت عملی سنبھالتے ہیں۔
بی ایل اے پر عالمی پابندیوں کی تاریخ
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ملک نے بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف سخت اقدامات کیے ہوں۔
مختلف ممالک کی پابندیاں:
- برطانیہ نے 2006 میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا
- امریکہ نے 2019 میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا
- امریکہ نے 2025 میں مجید بریگیڈ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا
- پاکستان پہلے ہی 2006 میں بی ایل اے کو کالعدم قرار دے چکا ہے
فروری 2026 میں اسلام آباد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
بلوچستان میں حملوں کی طویل تاریخ
بلوچ لبریشن آرمی گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں مسلح کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ خاص طور پر 2018 کے بعد اس کے خودکش دھڑے “مجید بریگیڈ” نے حملوں میں نمایاں اضافہ کیا۔
تنظیم پر الزام ہے کہ وہ:
- سکیورٹی فورسز پر حملے
- معدنیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا
- چینی شہریوں پر حملے
- گوادر پورٹ اور اہم تنصیبات پر کارروائیاں
- کراچی ایئرپورٹ اور دیگر حساس مقامات پر حملے
میں ملوث رہی ہے۔
جعفر ایکسپریس اور حالیہ حملے
گزشتہ برس بولان میں جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کرنے کے واقعے نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کی تھی۔ اس حملے میں تیس سے زائد افراد جان سے گئے تھے جبکہ متعدد مسافر زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح رواں سال 31 جنوری کو بی ایل اے نے بلوچستان کے 12 سے زائد شہروں میں بیک وقت حملے کیے تھے جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق یہ حملے تنظیم کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور مربوط نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔
فنڈنگ کے ذرائع اور بیرونی روابط
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اپنی فنڈنگ کیلئے بیرون ملک مقیم بلوچ ڈائسپورا سے بھی مدد حاصل کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:
- رقوم حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کی جاتی ہیں
- مختلف غیر رسمی مالیاتی چینلز استعمال کیے جاتے ہیں
- بیرون ملک موجود حمایتی گروپس فنڈنگ میں کردار ادا کرتے ہیں
دوسری جانب پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ تنظیم کو مقامی سطح پر بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے بھی مالی مدد حاصل ہوتی ہے۔
پاکستانی حکومت یہ الزام بھی عائد کرتی رہی ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے بی ایل اے کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہیں، تاہم انڈیا ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔
ماہرین کی نظر میں پابندیوں کی اہمیت
دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق آسٹریلیا کی جانب سے پابندیوں کا اعلان عالمی سطح پر بی ایل اے کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- بین الاقوامی مالیاتی نگرانی سخت ہوگی
- تنظیم کیلئے فنڈنگ اکٹھی کرنا مشکل ہو جائے گا
- بیرون ملک موجود سہولت کاروں پر دباؤ بڑھے گا
- دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون مزید مضبوط ہوگا
انہوں نے کہا کہ اگر دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کرتے ہیں تو بی ایل اے کے بین الاقوامی نیٹ ورکس محدود کیے جا سکتے ہیں۔



