پاکستاناہم خبریں

اقوام متحدہ میں پاکستان کا سخت ردِعمل: بھارت پر افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام

ان کارروائیوں کا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ افغانستان کی سرزمین سے مسلسل بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا ہے۔

نیویارک:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان اور بھارت کے نمائندوں کے بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اجلاس میں دوبارہ فلور لیتے ہوئے افغانستان کے نمائندے کے بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ افغانستان کے نام نہاد نمائندے درحقیقت افغان عوام کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اپنے ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اس عالمی فورم کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں موجود افغان نمائندہ زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے اور اس نے صورتحال کے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں منتخب بیانات دیے ہیں، جس سے ان کے مؤقف کی صداقت اور اہمیت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے تمام انسداد دہشت گردی اقدامات مکمل طور پر حقِ دفاع اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ افغانستان کی سرزمین سے مسلسل بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ افغان نمائندے نے افغانستان سے پاکستان کے خلاف جاری سرحد پار دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ اس دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان میں عام شہریوں، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم قومی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے بھارت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف دشمنی بھارت کی افغانستان پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں، بالخصوص ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی نمائندے نے افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر طویل گفتگو کی اور شہری ہلاکتوں اور سرحدی کشیدگی کا ذکر بھی کیا، مگر افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا، حالانکہ سلامتی کونسل کے کئی ارکان نے اپنی تقاریر میں اس مسئلے کو واضح طور پر اجاگر کیا تھا۔

پاکستانی مندوب کے مطابق بھارت اس پورے معاملے میں نہ صرف شریک بلکہ براہ راست ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں تشدد پر مبنی حملوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس پر بھارت کی بھاری سرمایہ کاری اس وقت ضائع ہوتی دکھائی دی جب پاکستان نے افغان سرزمین میں موجود دہشت گرد کیمپوں اور ان کے معاون مراکز کے خلاف مؤثر اور درست کارروائیاں کیں۔

پاکستانی نمائندے نے بھارت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایسے ملک سے کوئی لیکچر لینے کی ضرورت نہیں جو غیر قانونی طور پر متنازعہ علاقوں پر قابض ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف اپنی اقلیتوں کو منظم طریقے سے دیوار سے لگا رہا ہے بلکہ نفرت کو فروغ دے رہا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت ریاستی پالیسی کے طور پر غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ میں بھی ملوث ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت ماضی میں بھی افغانستان میں تخریب کاری کے کردار میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے، شمولیتی حکمرانی کو یقینی بنائے اور افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں نکات سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی اجلاس کے دوران نمایاں طور پر اٹھائے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے آخر میں بھارت پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی اپنی پالیسی ترک کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ بھارت طویل عرصے سے یہ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، تاہم پاکستان کسی صورت افغانستان کے ذریعے اپنے خلاف ہونے والی سازشوں اور مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button