فواد بشارت-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کی کامیابی کے لیے عوامی آگاہی، شفاف معلومات کی فراہمی اور میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی سازی اور توانائی کے شعبے میں درست اصلاحات کے تعین کے لیے عوامی رائے اور سوچ سے آگاہی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب عوام کو حقائق اور درست معلومات فراہم کی جاتی ہیں تو نہ صرف ان کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ حکومت کو مؤثر فیڈ بیک بھی حاصل ہوتا ہے، جو مستقبل کی پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روز لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام میڈیا نمائندگان کے لیے پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صحافیوں کی تربیت وقت کی اہم ضرورت قرار
اویس لغاری نے کہا کہ اس تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صحافیوں کو پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات، درپیش چیلنجز، حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی سے مکمل طور پر آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ درست اور مصدقہ معلومات عوام تک پہنچا سکیں۔
انہوں نے کہا:
“توانائی کے شعبے سے متعلق مختلف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے میڈیا کا مثبت، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی کردار ناگزیر ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاور سیکٹر میں دیرپا اور مؤثر اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا کو تمام پیش رفت سے مسلسل باخبر رکھا جائے تاکہ عوامی مباحثہ حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر آگے بڑھ سکے۔
عوامی اعتماد بحال کرنے پر زور
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اگر عوام کو بجلی کے شعبے سے متعلق درست معلومات فراہم کی جائیں تو اس سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ پالیسی سازی میں بھی بہتری آئے گی۔
انہوں نے لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ورکشاپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام میڈیا اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان میں 3 کروڑ 40 لاکھ بجلی صارفین
ورکشاپ کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ بجلی صارفین موجود ہیں، جن میں اکثریت سنگل فیز میٹر استعمال کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوور بلنگ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں ناقص اور ڈی فیکٹو میٹرز کی تبدیلی بھی شامل ہے تاکہ صارفین کو درست اور شفاف بلنگ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت صارفین کی شکایات کے ازالے اور بجلی کی بلنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
سولرائزیشن اور نیٹ میٹرنگ پر حکومتی مؤقف
سولرائزیشن اور نیٹ میٹرنگ سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ مستقبل میں آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کا کردار بتدریج محدود ہوتا جائے گا جبکہ موجودہ آئی پی پیز کے متعدد معاہدوں پر نظرِ ثانی کی جا چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سولر نیٹ میٹرنگ میں کمی یا اضافے کا آئی پی پیز سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ نئے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی تقریباً 22 ہزار درخواستوں میں سے 8 ہزار درخواستیں صرف نیٹ میٹرنگ سے متعلق ہیں، جو عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوگا اور صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
دن کے اوقات میں سستی بجلی کی توقع
وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل میں دن کے اوقات میں بجلی نسبتاً سستی ہوگی جبکہ بیٹری ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق جدید توانائی نظام کے ذریعے صارفین کو زیادہ خودمختاری، بہتر سہولیات اور توانائی کے متبادل ذرائع تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا:
“توانائی کے جدید نظام میں صارفین کو زیادہ اختیارات اور بہتر خدمات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔”
لیسکو میں اوور بلنگ شکایات پر ردعمل
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اوور بلنگ سے متعلق سوال کے جواب میں اویس لغاری نے کہا کہ صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام موجود ہے اور حکومت اس حوالے سے مؤثر نگرانی کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز میں کسی سیاسی شخصیت یا رشتہ دار کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ تمام تقرریاں اور فیصلے میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
شفافیت اور احتساب کا عزم
وفاقی وزیر توانائی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صارفین کے مسائل کا فوری حل، بجلی کے شعبے میں شفافیت، احتساب اور نظام میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مالی نقصانات کم کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔



