
شیوانی کی عمر 48 برس ہے اور وہ ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ”میری رائے میں ہمیں مذاہب کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ ہم سب سے پہلے انسان ہیں، اور پھر اپنے اپنے مذہب کے پیروکار۔‘‘
پرتاب شیوانی کہتے ہیں کہ انہوں نے بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کی تعلیمات بھی پڑھ رکھی ہیں، جن کا ”پیغام یہ ہے کہ امن قائم ہونا چاہیے اور جنگیں ختم ہونا چاہییں۔ امن کو استحکام ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے ہی ملتا ہے۔ دوری سے انسانوں کے درمیان فاصلے صرف بڑھتے ہی ہیں۔‘‘

پاکستان میں ہندو مذہبی اقلیت
پاکستان کی تقریباﹰ 240 ملین کی آبادی میں 96 فیصد اپنے عقیدے کے لحاظ سے مسلمان ہے جبکہ ہندو مذہبی اقلیت ملکی آبادی کا صرف قریب دو فیصد بنتی ہے۔ پاکستانی ہندوؤں میں سے زیادہ تر صوبہ سندھ کے دیہی علاقوں میں آباد ہیں اور مٹھی کا شہر بھی سندھ ہی میں ہے۔ مٹھی کی آبادی تقریباﹰ 60 ہزار ہے اور اس میں اکثریت ہندوؤں کی ہے۔
مٹھی کے مقامی ہندوؤں میں سے بہت سے رمضان میں روزے رکھتے ہیں اور روزہ کھولنے کے لیے افطار کا اہتمام کیا جانا ان کے لیے ایک ایسا سماجی اجتماع بن جاتا ہے، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں خوشی سے شریک ہوتے ہیں۔
میر محمد بلیدی کی عمر 51 برس ہے اور وہ پرتاب شیوانی کے ایک قریبی مسلم دوست ہیں۔ بلیدی نے اے ایف پی کو بتایا، ”یہ مشترکہ افطار اجتماعات ہمارے ہاں کی ایک ایسی شاندار روایت ہے، جو بہت طویل عرصے سے جاری ہے۔ یہ دونوں مذہبی برداریوں کے مابین قطعی ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔‘‘

’بھائیوں جیسے تعلقات‘
پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے امتیازی رویے کوئی انہونی بات نہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک غیر حکومتی تنظیم، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں مذہب اور عقیدے کی آزادی اس لیے مسلسل خطرے میں ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک میں مذہبی وجوہات کی بنا پر امتیازی سلوک اور پرتشدد واقعات دونوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
لیکن دوسری طرف ملک کی اکثریتی اور اقلیتی آبادیوں کے مابین بہترین اور برادرانہ تعلقات کی بہت سے مثالیں بھی ہیں۔ اور مٹھی میں تو یہ اخوت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
مٹھی کے ایک مقامی ہندو سیاست دان کا نام سشیل مالانی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”میں ایک ہندو ہوں لیکن میں بھی رمضان کا پورا مہینہ روزے رکھتا ہوں۔ مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔‘‘

سشیل مالانی نے بتایا، ”ہم تو عید بھی مل کر مناتے ہیں اور یہ ہمارے اس خطے کی بہت پرانی روایت ہے۔‘‘
اسی طرح مٹھی ہی کے رہنے والے 52 سالہ رمیش کمار ایک ایسے ہندو شہری ہیں، جو مسلمانوں کے لیے اہم ایک مقامی مزار کے باہر اپنی ریڑھی پر مٹھائیاں اور کھانے کی نمکین چیزیں بیچتے ہیں۔ رمیش کمار کے بقول وہ دن بھر اپنا کاروبار بند رکھتے ہیں اور افطار کے بعد ہی کچھ بیچنا شروع کرتے ہیں، جب مسلمان روزے سے نہیں ہوتے۔
مزار کا رکھوالا ہندو
مٹھی کا شہر پاکستانی صوبہ سندھ میں ایسی جگہ پر واقع ہے، جہاں تھرپارکر کا صحرا ہمسایہ ملک بھارت کی ریاست راجستھان سے جڑتا ہے۔ مٹھی میں بھی ہندوؤں کے لیے مقدس گائیں شہر بھر میں آزادانہ گھومتی رہتی ہیں، جیسے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی۔
مٹھی شہر کے وسط میں ماضی کی دو سرکردہ صوفی مسلم شخصیات کے مزارات بھی ہیں۔ وہاں بھی مقامی ہندو خاندانوں کے افراد افطار کے لیے کھانا اور پھل وغیرہ لے کر آتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کے روزے کھلوا سکیں۔
متاثر کن بات تو یہ بھی ہے کہ مٹھی میں ان دو مزارات میں سے ایک کے رکھوالے ایک مقامی ہندو شہری ہیں، جن کا نام موہن لال ملہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”ہم مسلمانوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے والدین نے ہمیں یہی سمجھایا تھا کہ لوگوں کی ان کے مذہب، رنگ اور نسل سے بالاتر ہو کر عزت کی جانا چاہیے۔‘‘
موہن لال ملہی نے کہا، ”ہم یہی کر رہے ہیں اور یہ روایت ہمارے ہاں ہر نسل سے اگلی نسل میں منتقل ہوتی رہی ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔‘‘



