
نیوز ڈیسک
مظفرآباد: آزاد کشمیر کے عوام نے افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ طالبان کی ناقص حکمت عملی کے باعث افغانستان بدترین معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
آزاد کشمیر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں کی بدولت افغانستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور ملک میں معاشی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔ شہریوں کے مطابق طالبان رجیم افغانستان کو ایک مستحکم ریاست بنانے میں ناکام رہی ہے۔
شہریوں نے مزید کہا کہ طالبان رجیم اپنی ناکامی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے دہشتگردانہ سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے، جس کے منفی اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نہ صرف خواتین بلکہ عام شہری بھی طالبان کے دباؤ اور انتہاپسندی سے شدید پریشان ہیں۔
عوام کے مطابق طالبان حکومت میں افغان عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ روزگار کے مواقع بھی انتہائی محدود ہو چکے ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کی زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر دہشتگردی کو فروغ دے رہی ہے۔
شہریوں نے کہا کہ افغانستان کی معیشت کا دارومدار دہشتگردی اور وار اکانومی پر بڑھتا جا رہا ہے جس کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور ملک سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں افغانستان دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کے شدت پسند عزائم نے افغانستان کو ایک مکمل ناکام ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔



