انٹرٹینمینٹ

پنجاب فلم سٹی: پاکستان کا پہلا اینڈ ٹو اینڈ میڈیا پروڈکشن ہب بنانے کا منصوبہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت فن، ثقافت اور میڈیا کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں کو مثبت اور تخلیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پنجاب میں فلم اور میڈیا انڈسٹری کے فروغ کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان سامنے آیا ہے، جسے حکومتی سطح پر ملک کے تخلیقی شعبے میں گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب فلم سٹی پراجیکٹ پاکستان کا پہلا مکمل “اینڈ ٹو اینڈ” میڈیا پروڈکشن ہب بنے گا، جہاں فلم، ٹی وی، ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ویژول ٹیکنالوجیز کے لیے ایک ہی مقام پر عالمی معیار کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔

فلم سٹی منصوبہ: ایک ہمہ جہت میڈیا ہب
وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کو نہ صرف فلم انڈسٹری بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے لیے بھی اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق پنجاب فلم سٹی میں فلم سازی کے ہر مرحلے—پری پروڈکشن سے لے کر پوسٹ پروڈکشن تک—کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت:
جدید ساؤنڈ اسٹیجز
ہائی ٹیک فلم اسٹوڈیوز
وی ایف ایکس اور اینیمیشن لیبارٹریز
ڈیجیٹل پوسٹ پروڈکشن سینٹرز
قائم کیے جائیں گے، تاکہ پاکستان کی فلم اور میڈیا انڈسٹری کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکے۔
ملاقات اور اشتراک: عالمی معیار کی شراکت داری
یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی نژاد فلم ساز شرمین عبید چنائے سے ہوئی۔ ملاقات میں این ایس آئی ٹی سٹی میں مجوزہ پنجاب فلم سٹی کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور باہمی اشتراک پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی معیار کی تربیت اور سہولیات ناگزیر ہیں۔
جدید انفراسٹرکچر اور سہولیات
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب فلم سٹی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔ منصوبے میں شامل اہم سہولیات درج ذیل ہیں:
آؤٹ ڈور اور ان ڈور شوٹنگ لوکیشنز
مصنوعی جھیل اور قدرتی مناظر
کنونشن ہال اور میڈیا ٹریڈ ہب
فلم اور میوزک اسکول برائے تربیت
یہ تمام عناصر نہ صرف فلم سازوں بلکہ طلبہ اور نئے آنے والے فنکاروں کے لیے بھی ایک مکمل تربیتی ماحول فراہم کریں گے۔
ثقافتی ورثے کی بحالی کی ہدایات
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس موقع پر مینار پاکستان اور ڈیجیٹل ہسٹری میوزیم کی بحالی کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات بھی جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ اور جدید انداز میں پیشکش وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شرمین عبید چنائے کا اظہارِ خیال
شرمین عبید چنائے نے وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ فن و ثقافت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں بعد بسنت فیسٹیول کی بحالی ایک بڑی کامیابی ہے.اگلے سال اس تہوار کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے ہالی وڈ اسٹارز کو مدعو کیا جائے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ھارس اینڈ کیٹل شوجیسے میلوں کی بحالی سے عوام کو معیاری تفریح میسر آ رہی ہے اور ثقافتی سرگرمیوں کو نئی زندگی ملی ہے۔
فلم انڈسٹری اور معیشت پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق پنجاب فلم سٹی منصوبہ پاکستان کی فلمی صنعت کے احیاء میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سےمقامی ٹیلنٹ کو عالمی مواقع ملیں گے،غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا،سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا.یہ منصوبہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم میڈیا پروڈکشن حب بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مستقبل کی سمت
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت فن، ثقافت اور میڈیا کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں کو مثبت اور تخلیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت اور معیار کے مطابق مکمل ہو گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کی میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک نمایاں پیش رفت ثابت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button