
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی اور سرکاری ذرائع
اسلام آباد: سیکیورٹی اور سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی نام نہاد وزارت دفاع کی جانب سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر قبضے اور پاکستانی فورسز کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیے گئے دعوے بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ حکام کے مطابق ایسے دعووں کا مقصد افغان عوام کو گمراہ کرنا اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور دعوے مکمل طور پر بلا ثبوت اور حقائق کے برعکس ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز اپنی پوزیشنز پر بدستور موجود ہیں اور سرحدی دفاع مضبوط ہے، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے کیے جانے والے دعوے صرف پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے اس طرح کی جھوٹی کہانیاں دراصل افغان عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہیں۔ ذرائع کے مطابق افغان عوام پہلے ہی ملک میں جاری بدامنی، معاشی مشکلات اور دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ طالبان حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے دعووں کا سہارا لے رہی ہے۔
سرکاری حلقوں کے مطابق پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات افغان طالبان اور ان کی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج کے نقصانات اور سرگرمیوں کے حوالے سے بروقت اور مستند معلومات میڈیا کو فراہم کر رہی ہے۔ ان اطلاعات میں نہ صرف تفصیلات شامل ہوتی ہیں بلکہ جہاں ضروری ہو وہاں تصاویر اور ویڈیوز بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ عوام کو درست صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق مصدقہ معلومات میڈیا اور متعلقہ اداروں تک بروقت پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس کے برعکس افغان طالبان رجیم کے دعوے بغیر ثبوت کے کیے جا رہے ہیں جنہیں عالمی سطح پر بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے بار بار کیے جانے والے یہ دعوے دراصل ایک غیر حقیقی بیانیہ بنانے کی کوشش ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے زمینی حقائق کے بجائے سوشل میڈیا پر موجود مخصوص حلقوں تک محدود ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ ان دعووں کو خاص طور پر بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کیا جا سکے۔ تاہم زمینی صورتحال ان دعووں کی مکمل نفی کرتی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں مکمل طور پر چوکنا اور مستعد ہیں اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور ملک کے امن و استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اطلاعاتی جنگ اور پراپیگنڈا بھی ایک اہم عنصر بن چکا ہے، جس میں جھوٹی خبریں اور گمراہ کن بیانات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم حقیقت پر مبنی معلومات اور شواہد ایسے دعووں کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔
سرکاری حلقوں نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سرحدی دفاع کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے دعووں اور پراپیگنڈے کے باوجود پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور قومی سلامتی پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔



