
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی ذرائع کے ساتھ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے تحت ابتدائی نوعیت کے چند ڈرونز لانچ کیے گئے جنہیں پاکستانی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کو نرم اور سخت مار (سافٹ اور ہارڈ کِل) کی تکنیکوں کے ذریعے روکا گیا جس کے باعث وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اگرچہ ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی غیر مؤثر بنا دیا گیا تھا، تاہم ان کے ملبے کے زمین پر گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہو گئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔ زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان ڈرون حملوں کی کوشش کا مقصد پاکستان کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ایک طرف عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان پر الزام ہے کہ وہ اپنے پراکسی عناصر اور ڈرون حملوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ طرز عمل خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج افغان طالبان کی حقیقی نوعیت اور ان کے ممکنہ عزائم سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسی تناظر میں سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا جاری “آپریشن غضب للحق” اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کے حوالے سے بنیادی خدشات دور نہیں ہو جاتے۔ حکام کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو ختم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی اور اس کی مختلف شکلوں کے خلاف بھرپور انداز میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں جیسے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ شہری آبادی اور حساس تنصیبات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگی حکمت عملی میں ڈرونز کا استعمال ایک اہم عنصر بن چکا ہے، تاہم مؤثر فضائی دفاعی نظام اور بروقت ردعمل کے ذریعے ایسے خطرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کے دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدم ہے اور ملک کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور پاکستان کسی بھی اشتعال انگیزی کے سامنے نہیں جھکے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں مکمل طور پر چوکنا اور الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک کو اس خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا لیا جاتا۔



