
اے ایف پی، ڈی پی اے، مقامی میڈیا کے ساتھ
پاکستانی صدر کا یہ بیان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے خونریز جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی ان جھڑپوں کے تھمنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، اگرچہ چین اور ترکی کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کوششوں جاری ہیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے جمعے کے روز افغان ڈرون حملوں کو روک لیا لیکن گرنے والے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے اور ملک کے دیگر حصوں میں دو افراد زخمی ہوئے۔
جمعے کو افغان طالبان کی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کابل سمیت مشرقی افغانستان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم چھ شہری ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔
شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا، افغان طالبان
چند گھنٹوں بعد کابل نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے جواب میں اسلام آباد کے قریب اور شمال مغربی پاکستانی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے آپریشنز کا ہدف پاکستانی طالبان اور ان کے نیٹ ورکس ہیں۔ اسلام آباد نے اس تنازعے کو ”کھلی جنگ‘‘ قرار دیا ہے، جس سے عالمی برادری میں خطے کے استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
بالخصوص ایک ایسے وقت پر جب امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ایران نے اس جنگ کو مشرق وسطیٰ تک پھیلا دیا ہے۔
افغان حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستانی فضائیہ نے قندھار میں نجی ایئر لائن کام ایئر کے ایک فیول ڈپو کو نشانہ بنایا، جو شہری اور اقوام متحدہ کی پروازوں کو ایندھن فراہم کرتا تھا۔
پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو پناہ دے رہی ہے، جو سرحد عبور کر کے پاکستانی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔
پاکستان اس تناظر میں یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ بھارتی حکومت افغان طالبان سے تعاون کر رہی ہے۔ بھارت اور افغان طالبان دونوں ہی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے، ”افغان طالبان حقائق سے زیادہ فرضی کہانیاں گھڑنے میں مصروف ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں، جو ان کی میزبانی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔‘‘
تحمل کا مظاہرہ کیا جائے، چین کی اپیل
چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے جمعے کے روز افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعے کے پرامن حل کی اپیل دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال کشیدگی بڑھاتا ہے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق وانگ ژی نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے گفتگو بھی کی۔ ژی نے کہا کہ چین کا خصوصی ایلچی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں کر رہا ہے تاکہ تحمل کا رویہ اپنایا جائے اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔
متقی نے کہا ہے کہ افغانستان خطے میں امن چاہتا ہے اور جنگ نہیں چاہتا اور یہ کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے چین سے مزید فعال کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی۔
گزشتہ اکتوبر میں قطر کی جانب سے کرائی گئی جنگ بندی نے یہ کشیدگی عارضی طور پر کم کر دی تھی لیکن بعد ازاں ترکی میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے پر منتج نہ ہو سکے تھے۔



