
اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لیے اسلامی اقدار کو مثبت انداز میں پیش کرنا ضروری ہے: مریم نواز شریف
مذہبی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور مظلوم اقوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک قابلِ مذمت رجحان ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کے حقیقی پیغام کو مثبت اور مؤثر انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر اسلام کے بارے میں پھیلائے گئے منفی تاثر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر تعصب، نفرت اور تشدد کا سامنا ہے، جو انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، رواداری، انصاف اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے، مگر بعض حلقوں کی جانب سے اسلام کو غلط انداز میں پیش کرنے کے باعث مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویے فروغ پا رہے ہیں۔
فلسطین اور کشمیر کے مظالم کو بھی اسلاموفوبیا کی ایک شکل قرار
مریم نواز شریف نے کہا کہ دنیا کے بعض تنازعات میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم بھی اسلاموفوبیا کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ Palestine اور Kashmir میں معصوم مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیاں عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں ہونے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذہبی تعصب اور نفرت کے رجحانات کس طرح انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور مظلوم اقوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اسلام کا پیغام امن اور انسانی حقوق کا ضامن
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے بنیادی انسانی حقوق کو واضح انداز میں متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں انسانی جان، عزت اور آزادی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے معاشرتی انصاف، خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور انسانوں کے درمیان مساوات جیسے اصولوں کو فروغ دیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلامی اقدار اور تعلیمات کو دنیا کے سامنے درست اور مثبت انداز میں پیش کیا جائے تاکہ اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔
مسلم دنیا کے اتحاد پر زور
مریم نواز شریف نے اس موقع پر مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو باہمی اختلافات اور نااتفاقیوں کو ختم کر کے اتحاد کی مثال قائم کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق اگر مسلم ممالک باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو نہ صرف اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر آواز اٹھا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انفرادی کردار کی اہمیت
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے صرف حکومتی اقدامات ہی کافی نہیں بلکہ ہر مسلمان کا انفرادی کردار بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی زندگیوں میں اسلامی اصولوں جیسے بردباری، تحمل، برداشت اور احترامِ انسانیت کو اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا مثبت طرزِ عمل اور اعلیٰ اخلاقی اقدار دنیا کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ اسلام دراصل امن، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔
عالمی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت
اپنے پیغام کے اختتام پر مریم نواز شریف نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مذہبی نفرت، تعصب اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب حکومت بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں تمام مذاہب اور ثقافتوں کو احترام اور مساوات کے ساتھ دیکھا جائے۔



