پاکستاناہم خبریں

آپریشن “غضب للحق”: پاکستان کی کارروائیوں میں دہشتگردوں کو بھاری نقصان، قندھار سمیت متعدد مقامات نشانہ بنائے گئے

سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے زیر استعمال 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کر دیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے جاری آپریشن “غضب للحق” کی تازہ ترین تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے وابستہ دہشتگردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق 15 مارچ شام چار بجے تک ہونے والی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 684 دہشتگرد ہلاک جبکہ 912 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے مختلف محاذوں پر مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔

دہشتگردوں کی چوکیاں اور بھاری اسلحہ تباہ

بیان کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کی 252 چوکیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 چوکیاں قبضے میں لینے کے بعد مسمار کر دی گئیں تاکہ انہیں دوبارہ استعمال نہ کیا جا سکے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے زیر استعمال 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کر دیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشتگردوں کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور ان کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

افغانستان میں 73 مقامات پر فضائی کارروائیاں

حکام کے مطابق پاکستان کی فضائیہ نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے 73 ٹھکانوں اور معاون ڈھانچوں کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا مقصد دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنا اور ان کی کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

قندھار میں تکنیکی مراکز اور سرنگ تباہ

کارروائیوں کے دوران افغانستان کے شہر قندھار میں ایک اہم تکنیکی معاونت کے ڈھانچے اور سازوسامان ذخیرہ کرنے کی سہولت کو تباہ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس مرکز کو افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد معصوم پاکستانی شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

اسی طرح قندھار میں موجود ایک سرنگ کو بھی تباہ کر دیا گیا جس میں دہشتگردوں کا تکنیکی سازوسامان محفوظ رکھا گیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ سرنگ دہشتگردوں کی کارروائیوں کے لیے اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔

چترال سیکٹر میں زمینی کارروائی

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان کی زمینی افواج نے چترال سیکٹر میں بھی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان میں موجود بادینی پوسٹ پر قائم دہشتگردوں کے ایک جمپ پوائنٹ کو تباہ کر دیا۔

ان کے مطابق یہ مقام سرحد پار دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جسے مؤثر کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا

عطااللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی فورسز نے کارروائیوں کے دوران انتہائی احتیاط برتی اور کسی شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام اور بعض میڈیا حلقوں کی جانب سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کا ہدف صرف وہ مقامات تھے جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی منصوبہ بندی یا معاونت کی جا رہی تھی۔

افغان حکومت کا ردعمل

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان Zabihullah Mujahid نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ قندھار میں ایک منشیات بحالی مرکز اور ایک خالی کنٹینر کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ جن مقامات کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ان جگہوں سے کافی فاصلے پر واقع ہیں۔

سرحدی کشیدگی کا پس منظر

یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایک دن قبل افغانستان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو پاکستان نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم تین مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جن میں راوالپنڈی میں واقع پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹر کو بھی ہدف بنانے کی کوشش شامل تھی۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام ڈرون حملوں کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔

باجوڑ میں افغان شیلنگ سے شہری ہلاکتیں

اسی دوران پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی جانب سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں ضلع Bajaur میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں چار شہری جاں بحق ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے چاروں افراد آپس میں بھائی تھے جبکہ ایک شخص شدید زخمی بھی ہوا۔

تاہم دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی افواج شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتیں، جبکہ متاثرہ علاقوں تک رسائی محدود ہونے کے باعث ہلاکتوں اور نقصانات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔

مقامی آبادی کے بیانات

قندھار کے مقامی رہائشیوں کے مطابق رات کے وقت شہر کے اوپر جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں اور اس کے بعد کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک مقامی شہری کے مطابق طیارے ایک ایسے پہاڑی علاقے کے اوپر سے گزرے جہاں عسکری مرکز موجود ہے اور اس کے بعد زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد آگ کے شعلے بھی دکھائی دیے۔

اسی طرح قندھار کے جنوب مشرقی علاقے Spin Boldak میں بھی فضائی حملوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سرحدی علاقوں میں جھڑپیں

افغانستان کے صوبہ Khost کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ سرحدی علاقوں میں ہفتے کی رات جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں دونوں جانب کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ سرحدی کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button