پاکستاناہم خبریں

جعلی ویڈیو کے ذریعے پروپیگنڈا بے نقاب، جنوبی وزیرستان حملے کا دعویٰ غلط ثابت

سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کے مختلف فریمز اور جغرافیائی نشانات کا جائزہ لے کر اس کی اصل لوکیشن کی نشاندہی کی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،حکومتی ذرائع کے ساتھ

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسے گمراہ کن انداز میں پاکستان کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان سے جوڑ کر پیش کیا گیا، حالانکہ حقیقت میں یہ ویڈیو عراق کے کردستان خطے کی ہے۔ سیکیورٹی اور ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق ویڈیو کو جان بوجھ کر غلط سیاق و سباق میں پیش کیا گیا تاکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق منفی تاثر پیدا کیا جا سکے۔

یہ ویڈیو ابتدائی طور پر افغان طالبان حکومت سے منسلک ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ @IEAUrduOfficial پر شیئر کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک حملے کی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔ تاہم بعد میں مختلف آن لائن صارفین اور فیکٹ چیکرز نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ویڈیو کا اصل تعلق عراق کے کردستان علاقے سے ہے۔

ویڈیو کی اصل حقیقت سامنے آ گئی

ڈیجیٹل تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ویڈیو دراصل Kurdistan Region، Iraq میں پیش آنے والے ایک واقعے کی فوٹیج ہے، جسے سیاق و سباق سے ہٹا کر پاکستان کے سرحدی علاقے سے منسوب کر دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی ویڈیوز کو دوبارہ استعمال کر کے پروپیگنڈا مہم چلانا سوشل میڈیا کے دور میں ایک عام حربہ بن چکا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کے مختلف فریمز اور جغرافیائی نشانات کا جائزہ لے کر اس کی اصل لوکیشن کی نشاندہی کی، جس کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ویڈیو کا جنوبی وزیرستان سے کوئی تعلق نہیں۔

بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ کا کردار

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسی ویڈیو کو اس سے قبل ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ @realBababanaras نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مختلف پروپیگنڈا نیٹ ورکس کے درمیان بیانیہ تشکیل دینے کے لیے رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہو سکتی ہے۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اکاؤنٹس اکثر غیر متعلقہ یا پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے ہیں تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا کی جا سکے۔

گمراہ کن پوسٹ خاموشی سے حذف

جب سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کی حقیقت بے نقاب کی تو طالبان سے منسلک مذکورہ اکاؤنٹ نے بغیر کسی وضاحت کے اس پوسٹ کو خاموشی سے حذف کر دیا۔ تاہم اس دوران ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی حد تک پھیل چکی تھی اور کئی صارفین اسے حقیقی سمجھ کر شیئر کر چکے تھے۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کیے بغیر انہیں پھیلانا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔

پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور معلوماتی جنگ

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعہ اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جسے اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) کہا جاتا ہے۔ اس میں مختلف ریاستی یا غیر ریاستی عناصر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے مخالف ممالک کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس حکمت عملی کے تحت اکثر غیر متعلقہ غیر ملکی فوٹیج کو دوبارہ پیش کر کے اسے کسی نئے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے، تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے یا کسی خاص بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔

عوام کے لیے احتیاطی پیغام

ڈیجیٹل ماہرین اور سیکیورٹی اداروں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز یا تصاویر کو شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضرور کریں۔ غیر مصدقہ مواد نہ صرف غلط معلومات پھیلانے کا سبب بنتا ہے بلکہ بعض اوقات قومی سلامتی کے معاملات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عوام کو چاہیے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے آنے والی معلومات پر اعتماد کریں اور کسی بھی مشتبہ مواد کی حقیقت جاننے کے لیے فیکٹ چیک پلیٹ فارمز یا معتبر خبروں کے ذرائع سے رجوع کریں۔

نتیجہ

حالیہ واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور انہیں روکنے کے لیے بروقت فیکٹ چیکنگ اور عوامی آگاہی کتنی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق گمراہ کن پروپیگنڈا وقتی طور پر اثر انداز ہو سکتا ہے، مگر حقیقت بالآخر سامنے آ ہی جاتی ہے۔

اسی لیے مبصرین کا کہنا ہے کہ معلومات کے اس دور میں سچائی کی تلاش اور حقائق کی تصدیق پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے، کیونکہ بالآخر حق ہمیشہ باطل پر غالب رہتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button